پاکستان 'اسمارٹ لاک ڈاؤن' متعارف کرانے والوں میں سے ہے، وزیر اعظم

اپ ڈیٹ 07 جون 2020

ای میل

—فائل فوٹو: اے پی پی
—فائل فوٹو: اے پی پی

وزیر اعظم عمران خان نے ایک بار پھر ملک میں کورونا وائرس لاک ڈاؤن کے خاتمے کے بارے میں حکومتی فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کی سخت پابندیوں سے ’معیشت کا خاتمہ‘ اور غربت جنم لے سکتی ہے۔

ٹوئٹر پر انہوں نے کہا کہ دنیا نے تجربے کی بنیاد پر ادراک کرلیا کہ کووڈ 19 بحران کا واحد حل ’اسمارٹ لاک ڈاؤن‘ ہے جو معیاری طریقہ کار (ایس او پیز) پر عمل درآمد کرتے ہوئے معاشی سرگرمی کو جاری رکھنے کی اجازت دیتا ہے۔

وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ ’ہم یہ نقطہ نظر متعارف کرانے والوں میں سے ہیں جس کے تحت صرف وائرس کے زیادہ متاثرہ علاقوں کو لاک ڈاؤن کیا جائے گا۔'

انہوں نے ایک ویڈیو کلپ شیئر کرتے ہوئے کہا کہ ’ہماری حکومت کو آج جو المیہ درپیش ہے وہ اس ویڈیو میں واضح ہے، ایک جانب وہ لوگ ہیں جو وبا کو سنجیدگی سے نہیں لے رہے جبکہ دوسری جانب ہمارے ڈاکٹرز اور طبی معاونین وغیرہ ہیں جو بیماری کے خلاف صف اول میں برسرِ پیکار اور قابل فہم طور پر سنگین خطرات سے دوچار ہیں۔'

عمران خان نے کہا کہ ملک کے کچھ ’اشرافیہ‘ چاہتے ہیں کہ ملک بھر میں لاک ڈاؤن نافذ کیا جائے کیونکہ انہیں وسیع و پرآسائش رہائش گاہیں میسر ہیں اور ان کی آمدن محفوظ ہے۔

مزید پڑھیں: کورونا وائرس کی خطرناک ترین علامات میں ایک چیز مشترک

وزیر اعظم نے مزید کہا کہ لاک ڈاؤن کا مطلب ہے کہ معیشت کا خاتمہ اور غریب ممالک میں غربت میں زبردست اضافہ، جس طرح بھارت میں نریندر مودی کے لاک ڈاؤن میں ہوا جہاں غریبوں کو کچلا گیا۔

انہوں نے اپنی ٹوئٹ میں سول سوسائٹی، ذرائع ابلاغ، علما اور ٹائیگر فورس پر زور دیا کہ وہ کورونا وائرس کی شدت اور اس سے بچاؤ کے لیے ضابطہ کار پر سختی سے عمل کرنے کی ضرورت کے بارے میں عوام آگاہی پیدا کریں۔

واضح رہے کہ دنیا بھر میں پھیلی عالمی وبا کورونا وائرس ہر گزرتے دن کے ساتھ پاکستان میں بھی خطرناک صورتحال اختیار کررہی ہے اور گزشتہ روز ریکارڈ کیسز سامنے آنے کے بعد آج بھی مزید نئے کیسز اور اموات کی تصدیق کی گئی۔

آج (6 جون کو) جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق مزید 5080 نئے کیسز اور 75 اموات کی تصدیق کے بعد اب تک ملک میں کورونا وائرس کے متاثرین کی مجموعی تعداد 96 ہزار جبکہ اموات ایک ہزار 974 ہوگئیں۔

گزشتہ روز ملک میں 4 ہزار 600 نئے کیسز سامنے آئے جبکہ اموات میں بھی 86 کا اضافہ ہوا تھا۔