غیر قانونی پلاٹ الاٹمنٹ کیس: میر شکیل الرحمٰن کے جوڈیشل ریمانڈ میں 22 روز کی توسیع

اپ ڈیٹ 29 جون 2020

ای میل

لاہور کی احتساب عدالت میں میر شکیل الرحمٰن کو کورونا وائرس کے ایس او پیز کے تحت پیش نہیں کیا گیا۔ فائل فوٹو:اے ایف پی
لاہور کی احتساب عدالت میں میر شکیل الرحمٰن کو کورونا وائرس کے ایس او پیز کے تحت پیش نہیں کیا گیا۔ فائل فوٹو:اے ایف پی

لاہور کی احتساب عدالت نے غیر قانونی پلاٹ الاٹمنٹ کیس میں گرفتار جنگ اور جیو گروپ کے مالک میر شکیل الرحمٰن کے جسمانی ریمانڈ میں 22 روز کی توسیع کردی۔

احتساب عدالت میں غیر قانونی پلاٹ الاٹمنٹ کیس میں سابق وزیراعظم نواز شریف اور میر شکیل الرحمٰن کے خلاف ریفرنس کی ڈیوٹی جج جواد الحسن نے سماعت کی۔

سماعت میں کیس میں ملزم میر شکیل الرحمٰن کو کورونا وائرس کے لیے معیاری آپریٹنگ طریقہ کار (ایس او پیز) کے باعث عدالت میں پیش نہیں کیا گیا۔

واضح رہے کہ نیب کی طرف سے میر شکیل الرحمٰن، نواز شریف، سابق ڈائریکٹر جنرل لاہور ڈیولپمنٹ اتھارٹی (ڈی جی ایل ڈی اے) ہمایوں فیض رسول اور بشیر احمد کے خلاف ریفرنس دائر کیا جا چکا ہے۔

مزید پڑھیں: غیرقانونی پلاٹ کیس: نواز شریف اور میر شکیل الرحمٰن کے خلاف ریفرنس دائر

نیب کی جانب سے جاری ریفرنس میں احتساب ادارے کا کہنا تھا کہ ملزم میر شکیل الرحمٰن نے اس وقت کے وزیراعلی نواز شریف کی ملی بھگت سے ایک ایک کنال کے 54 پلاٹ ایگزمپشن پر حاصل کیے۔

ان کا کہنا تھا کہ ملزم کا ایگزمپشن پر ایک ہی علاقے میں پلاٹ حاصل کرنا ایگزمپشن پالیسی 1986 کی خلاف ورزی ہے۔

ریفرنس میں دعویٰ کیا گیا کہ ملزم میر شکیل الرحمٰن نے نواز شریف کی ملی بھگت سے 2 گلیاں بھی الاٹ شدہ پلاٹوں میں شامل کر لی تھیں۔

انہوں نے کہا کہ ’ملزم میر شکیل نے اپنا جرم چھپانے کیلئے پلاٹ اپنی اہلیہ اور کمسن بچوں کے نام پر منتقل کروا لیے تھے‘۔

انہوں نے عدالت سے میر شکیل الرحمٰن، نواز شریف اور دیگر کو قانون کے مطابق سزا دینے کی اپیل کی۔

بعد ازاں عدالت نے جوڈیشل ریمانڈ میں 22 روز کی توسیع کرتے ہوئے ملزم میر شکیل الرحمٰن کو 21 جولائی کو جوڈیشل ریمانڈ ختم ہونے پر پیش کرنے کا حکم دیا۔

میر شکیل الرحمٰن کی گرفتاری

خیال رہے کہ 12 مارچ کو احتساب کے قومی ادارے نے جنگ اور جیو گروپ کے ایڈیٹر انچیف میر شکیل الرحمٰن کو اراضی سے متعلق کیس میں گرفتار کیا تھا۔

ترجمان نیب نوازش علی کی جانب سے بتایا گیا تھا کہ ادارے نے 54 پلاٹوں کی خریداری سے متعلق کیس میں میر شکیل الرحمٰن کو لاہور میں گرفتار کیا۔

ساتھ ہی یہ بھی کہا گیا تھا کہ میر شکیل الرحمٰن متعلقہ زمین سے متعلق نیب کے سوالات کے جواب دینے کے لیے جمعرات کو دوسری بار نیب میں پیش ہوئے تاہم وہ بیورو کو زمین کی خریداری سے متعلق مطمئن کرنے میں ناکام رہے جس پر انہیں گرفتار کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: احتساب عدالت نے اہلخانہ کو میر شکیل سے ملاقات کی اجازت دے دی

واضح رہے کہ میر شکیل الرحمٰن کو 28 فروری کو طلبی سے متعلق جاری ہونے والے نوٹس کے مطابق انہیں 1986 میں اس وقت کے وزیر اعلیٰ پنجاب نواز شریف کی جانب سے غیر قانونی طور پر جوہر ٹاؤن فیز 2 کے بلاک ایچ میں الاٹ کی گئی زمین سے متعلق بیان ریکارڈ کرانے کے لیے 5 مارچ کو نیب میں طلب کیا گیا تھا۔

دوسری جانب جنگ گروپ کے ترجمان کے مطابق یہ پراپرٹی 34 برس قبل خریدی گئی تھی جس کے تمام شواہد نیب کو فراہم کردیے گئے تھے، جن میں ٹیکسز اور ڈیوٹیز کے قانونی تقاضے پورے کرنے کے دستاویز بھی شامل ہیں۔

3 روز قبل نیب نے غیرقانونی پلاٹ کیس میں لاہور کی احتساب عدالت میں نواز شریف اور میر شکیل الرحمٰن سمیت ہمایوں فیض اور سابق ڈائریکٹر لینڈ ڈیولپمنٹ میاں بشیر احمد کے خلاف ریفرنس دائر کیا تھا۔