خصوصی پروازوں کے ٹکٹ اسکینڈل سے پی آئی اے کو لاکھوں روپے کا نقصان

اپ ڈیٹ جون 30 2020

ای میل

پی آئی کے پائلٹس کے مشکوک لائسنس کا معاملہ بھی سامنے آیا تھا—فائل فوٹو: اے پی پی
پی آئی کے پائلٹس کے مشکوک لائسنس کا معاملہ بھی سامنے آیا تھا—فائل فوٹو: اے پی پی

لاہور: پائلٹس کے مشکوک لائسنس کے اسکینڈل میں ملوث ہونے کے بعد قومی ایئرلائن کو ایک اور اسکینڈل کا سامنا ہے جہاں اس کے عہدیداروں نے یورپ کے لیے خصوصی پروازوں کے ٹکٹس کی فروخت سے تقریباً 80 لاکھ روپے تک کما لیے۔

ذرائع نے ڈان کو بتایا کہ پی آئی اے سیالکوٹ دفتر میں کچھ عہدیداروں نے رقم بنانے کے لیے قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اٹلی اور پیرس کے لیے خصوصی پروازوں میں 50 یا اس سے زائد پرانے ٹکٹ ہولڈرز کو جگہ دی (ایڈجسٹ کیا)۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق پالیسی کے مطابق پی آئی اے کووڈ 19 وبا سے پہلے (مارچ کے وسط سے) جاری ہونے والے ٹکٹس کے حامل مسافروں کو کسی مقام کے لیے ایڈجسٹ نہیں کرسکتی۔

واضح رہے کہ خصوصی پروازوں کے لیے پی آئی اے نئے ٹکٹ جاری کر رہی ہے جس کی قیمت کورونا وائرس کی وبا سے پہلے ریگولر پروازوں کے لیے جاری ہونے والے ٹکٹ کے مقابلے میں دُگنی ہے۔

مزید پڑھیں: مشکوک لائنس کا معاملہ: ویتنام نے پاکستانی پائلٹس کو گراؤنڈ کردیا

ذرائع کا کہنا تھا کہ 'عہدیداروں نے اٹلی اور پیرس کے سفر کے لیے اپنے ہولڈرز (مسافروں) سے اضافی رقم حاصل کرکے پرانے خریدے گئے ٹکٹس کو ایڈجسٹ کیا'، ساتھ ہی یہ بھی بتایا گیا کہ عہدیداروں نے یہ دھوکا دہی (فراڈ) کچھ ٹریول ایجنٹس کے تعاون سے کیا۔

انہوں نے کہا کہ 'مجرموں' (عہدیداروں) نے اس چال کے ذریعے تقریباً 80 لاکھ روپے بنائے جبکہ عہدیداروں کے اس دھوکے کے ذریعے ہی پی آئی اے ایک بڑی رقم سے محروم بھی رہی۔

ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی بتایا کہ اس فراڈ کے بارے میں معلوم ہوگیا تھا جس کے بعد ملوث افراد کے خلاف انکوائری بھی شروع کردی گئی۔

تاہم اس معاملے پر کوئی جواب دینے کے لیے پی آئی اے کے ترجمان عبداللہ حفیظ دستیاب نہیں تھے۔

خیال رہے کہ اس سے قبل پاکستان کے لیے خصوصی پروازوں سے مستفید ہونے والوں نے کسی بھی حادثے کی صورت میں ٹکٹس کے حصول، مہنگے کرایوں اور ناقابل واپسی ٹکٹس پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔

قبل ازیں وفاقی حکومت نے پی آئی اے کے بجائے قومی ڈیٹابیس اور رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) کو کہا تھا کہ امریکا سے واپسی آنے والوں کے لیے ٹکٹس بک کریں۔

امریکا میں پاکستانی سفارتخانے اور پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کے درمیان رابطوں کے فقدان نے وہاں پھنسے ان مسافروں کے لیے ٹکٹ کے حصول میں مشکلات کو جنم دیا جو اپنے وطن واپس آنا چاہتے تھے۔

علاوہ ازیں 22 مئی کو کراچی میں پی آئی اے کے طیارے کو پیش آنے والے حادثے کے متاثرین میں سے ایک کے اہل خانہ نے سپریم کورٹ سے مطالبہ کیا کہ سپریم کورٹ کو 'مافیا' کے خلاف ایکشن لینا چاہیے، جس نے ان کے بقول سول ایوی ایشن اتھارٹی (سی اے اے) اور قومی ایئرلائن کو تباہ کردیا ہے، ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ کیریج ایکٹ قانون کے مطابق انشورنس کی رقم کو جلد جاری کیا جائے۔

حادثے میں اپنی والدہ کو کھودینے والے دانش اعوان کا کہنا تھا کہ ماضی میں مہلک حادثات کا ایک تسلسل ہے لیکن کچھ تبدیل نہیں ہوا کیونکہ ہم نے ان حادثات سے کوئی سبق نہیں سیکھا۔

انہوں نے کہا کہ ہم سپریم کورٹ سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ان لوگوں کے خلاف کارروائی کرے جنہوں نے اس ملک کی ایئرلائن انڈسٹری اور سی اے اے کو تباہ کردیا۔

ڈان سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کیریج ایکٹ قانون کے مطابق متاثرہ خاندانوں کو فوری طور پر مالی معاوضہ (انشورنس) فراہم کیا جانا چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں: 28 پائلٹس کے لائسنس جعلی ثابت، کیس کابینہ میں لے جانے کا فیصلہ

خیال رہے کہ 22 مئی کو لاہور سے کراچی آنے والی پی آئی اے کی پرواز جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے قریب رہائشی علاقے ماڈل کالونی میں گرکر تباہ ہوگئی تھی، جس کے نتیجے میں عملے اور مسافروں سمیت 97 افراد جاں بحق ہوئے تھے جبکہ 2 مسافر خوش قسمتی سے محفوظ رہے تھے۔

اس واقعے کے بعد معاملے کی انکوائری کی گئی تھی، جس کی ابتدائی رپورٹ 24 جون کو وزیر ہوا بازی غلام سرور نے قومی اسمبلی میں پیش کرتے ہوئے واقعے میں جاں بحق ہونے والے پائلٹ اور ایئر ٹریفک کنٹرولر کو حادثے کا ذمہ دار قرار دیا تھا۔

یہی نہیں بلکہ قومی اسمبلی میں وزیر ہوا بازی غلام سرور خان کی جانب سے قومی ایئرلائنز کے 150 پائلٹس کے مشکوک لائسنس کا ذکر کیا گیا تھا جس پر عالمی اداروں کی جانب سے نوٹس لیا گیا تھا۔