اسٹاک ایکسچینج حملہ: وزیراعلیٰ سندھ کا شہید سب انسپکٹر کیلئے ایک کروڑ روپے کا اعلان

اپ ڈیٹ جون 30 2020

ای میل

مراد علی شاہ نے کہا کہ واقعہ چینی قونصل خانے پر حملے سے مماثلت رکھتا ہے —فوٹو: ڈان نیوز
مراد علی شاہ نے کہا کہ واقعہ چینی قونصل خانے پر حملے سے مماثلت رکھتا ہے —فوٹو: ڈان نیوز

وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) پر دہشت گردوں کے حملے میں شہید ہونے والے سب انسپکٹر کے لیے ایک کروڑ روپے اور ان بیٹے کو سرکاری نوکری دینے کا اعلان کردیا۔

کراچی میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انسانی جان کی کوئی قیمت نہیں، یہ کوئی احسان نہیں بلکہ شہید کی خدمات کے عوض پوری قوم کی جانب سے ایک خراج تحسین ہے۔

مزید پڑھیں: کراچی: پاکستان اسٹاک ایکسچینج کی عمارت پر حملہ، تمام 4 دہشت گرد ہلاک

سید مراد علی شاہ نے کہا کہ 'ہم تمام پولیس اہلکاروں اور افسران سمیت رینجز کے اہلکاروں کو بھی خراج تحسین پیش کرتے ہیں'۔

علاوہ ازیں سید مراد علی شاہ نے بتایا کہ شہید ہونے والے 3 گارڈز کے لیے 50، 50 لاکھ روپے کابینہ سے منظور کرائے جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ 'مذکورہ واقعہ خصوصی توجہ کا حامل ہے اور اسی لیے شہدا سمیت دیگر افراد کے معاوضے کے لیے خصوصی سمری تیار کی جائے گی جسے کابینہ کے اگلے اجلاس میں منظور کرایا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ امید ہے کہ غیر سرکاری گارڈز کے لیے ان کے متعلقہ ادارے خصوصی خیال رکھیں گے۔

سید مراد علی شاہ نے بتایا کہ شہدا کے بچوں کو نوکریاں بھی دی جائیں گی۔

علاوہ ازیں ان کا کہنا تھا کہ زخمی ہونے والے سپاہیوں کو 10، 10 لاکھ روپے دیے جائیں گے۔

سید مراد علی شاہ نے بتایا کہ 7 پولیس اہلکاروں کے لیے 5، 5 لاکھ روپے جبکہ 15 آر آر ایف کے جوانوں اور رینجرز کے اہلکاروں کے لیے ایک، ایک لاکھ روپے دیے جائیں گے۔

یہ بھی پڑھیں: بلوچستان: سیکیورٹی فورسز پر دہشت گردوں کا حملہ، میجر سمیت 6 جوان شہید

اس موقع پر سید مراد علی شاہ نے کہا کہ اسٹاک ایکسچینج پر حملہ اور نومبر 2018 میں کراچی میں چین کے قونصل خانے پر ہونے والے حملے میں مماثلت ہے، جسے پولیس نے ناکام بنا دیا تھا۔

انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ اسٹاک ایکسچینج، فنانشنل ڈسٹرکٹ، اسٹیٹ بینک سمیت اور دیگر اہم اداروں پر دہشت گرد ضرور حملہ کرسکتے ہیں اس لیے وہ اپنی سیکیورٹی پر خصوصی توجہ دیں۔

سید مراد علی شاہ نے کہا کہ ہمیں افسوس ہے کہ مالی وسائل کی کمی کے باعث گزشتہ دو برس کے دوران پولیس کی استعداد کار کو اس طرح نہیں بڑھایا گیا جس طرح سے بڑھانا چاہیے تھا۔

انہوں نے کہ 3 برس قبل پولیس کی استعداد کار کو غیرمعمولی بڑھایا گیا، انہیں مؤثر ہتھیار اور گاڑیاں فراہم کی گئیں۔

کورونا وائرس سے متاثرہ پولیس اہلکاروں کے حوالے سے سید مراد علی شاہ نے کہا کہ وائرس سے متعدد پولیس اہلکار شہید اور ایک ہزار سے زائد متاثر ہوچکے ہیں، ان کی خدمات ہر محاذ پر قابل ستائش ہیں۔

واضح رہے کہ 2018 میں کراچی کے علاقے کلفٹن میں قائم چینی قونصل خانے کے قریب فائرنگ سے 2 پولیس اہلکار شہید، 2 نامعلوم افراد جاں بحق اور ایک سیکیورٹی گارڈ زخمی ہوگیا تھا جبکہ جوابی کارروائی میں تینوں حملہ آور مارے گئے تھے۔

مزید پڑھیں: کراچی میں چینی قونصل خانے پر دہشت گردوں کا حملہ ناکام

بعدازاں اس کی حملے کی ذمہ داری کالعدم بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے قبول کی تھی۔

اسٹاک ایکسچنج پر حملے سے متعلق ڈی جی رینجرز نے کہا تھا کہ کالعدم بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے سوشل میڈیا کے ذریعے حملے کی ذمہ داری قبول کی لیکن اس طرح کا واقعہ بھارتی ایجنسی ’را‘ کی فرسٹریشن کو ظاہر کرتا ہے اور یہ کسی غیر ملکی دشمن ایجنسی کی مدد کے بغیر ممکن نہیں تھا۔

خیال رہے کہ 29 جون کو کراچی میں سیکیورٹی فورسز نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے پاکستان اسٹاک ایکسچینج کی عمارت پر حملے کی کوشش کرنے والے چاروں دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا تھا۔

اسٹاک ایکسچینج میں صبح کاروبار کے آغاز کے وقت بڑی تعداد میں لوگوں کی آمد و رفت جاری تھی جب 10 بجے سے کچھ دیر قبل دہشت گردوں نے اندر داخل ہونے کی کوشش کرتے ہوئے فائرنگ کی اور داخلی دروازے پر دستی بم حملہ بھی کیا۔

خیال رہے کہ پاکستان اسٹاک ایکسچینج کی عمارت کراچی کا معاشی حب سمجھے جانے والے علاقے میں آئی آئی چند ریگر روڈ پر واقع ہے، اس کے ساتھ ہی پولیس ہیڈ کوارٹرز، اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے علاوہ متعدد کاروباری دفاتر، بینکس اور میڈیا ہاؤسز کے دفاتر ہیں جبکہ سندھ رینجرز کا مرکزی دفتر بھی اس جگہ سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔

دہشت گردوں کی شناخت

بعد ازاں محکمہ انسداد دہشت گردی کے انچارج راجا عمر خطاب نے کہا تھا کہ 4 حملہ آوروں میں سے 3 کی شناخت فنگر پرنٹس کے ذریعے سلمان، تسلیم بلوچ اور سراج کے ناموں سے ہوگئی ہے۔

انہوں نے کہا تھا کہ تینوں کا تعلق بلوچستان کے ضلع کیچ سے تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ ایک دہشت گرد کو ان کی گاڑی سے 25 فٹ، دوسرے کو 26 فٹ، تیسرے کو 300 فٹ اور چوتھے کو 312 فٹ کی دوری پر ہلاک کیا گیا۔

راجا عمر خطاب نے کہا تھا کہ گاڑی سلمان نے پرانی سبزی منڈی سے نقد رقم دے کر خریدی تھی اور اپنا اصل شناختی کارڈ بھی جمع کرایا تھا جو ابھی ایکسائز ڈپارٹمنٹ کے پاس ہے۔

انہوں نے کہا تھا کہ دہشت گرد لیاری ایکسپریس وے کے غریب آباد انٹرچینج سے آئے تھے اور انہوں نے حملے کے لیے ماڑی پور روڈ استعمال کیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ محکمہ انسداد دہشت گردی نے شواہد حاصل کرکے تحقیقات کا آغاز کردیا ہے۔