سابق فاٹا میں زمین کی تقسیم کا نظام نہیں، قبائلی ایک دوسرے سے لڑپڑے ہیں، مولانا فضل الرحمٰن

اپ ڈیٹ 02 جولائ 2020

ای میل

مولانا فضل الرحمٰن کا کہنا تھا کہ پہلی مرتبہ موجودہ حکومت نے نئے سال کا ہدف گزشتہ سال سے کم رکھا ہے ۔ فائل فوٹو:ڈان نیوز
مولانا فضل الرحمٰن کا کہنا تھا کہ پہلی مرتبہ موجودہ حکومت نے نئے سال کا ہدف گزشتہ سال سے کم رکھا ہے ۔ فائل فوٹو:ڈان نیوز

جعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کا کہنا ہے کہ فاٹا کے خیبر پختونخوا میں انضمام سے وہاں کا پرانا ایف سی آر کا قانون ختم ہوگیا مگر کوئی نیا نظام نہیں دیا گیا۔

ملتان میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمٰن کا کہنا تھا کہ 'فاٹا میں زمین کی تقسیم کا نظام موجود نہیں ہے جس کی وجہ سے وہاں کے قبائلی آپس میں لڑ پڑے ہیں اور مملکت کی بقا کا سوال پیدا ہوگیا ہے'۔

خیال رہے کہ میڈیا رپورٹس کے مطابق قبائلی علاقے میں دو گروہوں کے درمیان زمین کا تنازع شروع ہوا تھا جو مسلح تصادم میں تبدیل ہوگیا ہے۔

انہوں نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت کے قومی اسمبلی میں پیش کردہ حالیہ بجٹ کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ 'نئے سال کا ریونیو ہدف گزشتہ سال سے زیادہ ہوا کرتا ہے، یہ پہلی مرتبہ ہے کہ نئے سال کا ہدف گزشتہ سال سے کم رکھا گیا ہے'۔

ان کا کہنا تھا کہ 50 سال میں پہلی مرتبہ اس حکومت کے دور میں ٹیکس نمو کی شرح منفی میں گئی ہے اور براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں بھی پہلی مرتبہ 50 فیصد کمی آئی ہے۔

مزید پڑھیں: 'وفاقی حکومت کورونا کے پیچھے چھپنے کی کوشش کررہی ہے'

جے یو آئی (ف) کے سربراہ کا کہنا تھا کہ 'اس حکومت پر ملک کی عوام کا تو اعتبار ہے ہی نہیں اور اب سمندر پار پاکستانیوں کا بھی ان پر سے اعتبار اٹھ گیا ہے اور وہ ٹیکس ادا کرنا اپنے مال کا ضیاع سمجھتے ہیں'۔

ان کا کہنا تھا کہ 'ہمارا مؤقف ہمیشہ یہی رہا ہے کہ انتخابات، حکومت اور بجٹ سب ڈھونگ ہے، اس ملک کو ان لوگوں کو رحم و کرم پر کیسے چھوڑ سکتے ہیں؟'

انہوں نے کہا کہ 'آج ہمارا مؤقف ہر کسی کے سامنے آرہا ہے اور پہلے روز جو ہم نے کہا وہ صحیح تھا، بڑے بڑے دانشور جو ان حکمرانوں کی پروجیکشن کا حصہ تھے، وہ اعتراف کر رہے ہیں کہ انہیں ووٹ دینا اور ان کی حمایت کرنا ان کی غلطی تھی'۔

مولانا فضل الرحمٰن کا کہنا تھا کہ کہا جاتا ہے کہ احتساب ہوگا، کس چیز کا احتساب، ایسے احتساب پر تو حکمرانوں کو شرم آنی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ 'خیبر پختونخوا میں احتساب کمیشن بنایا گیا اور جب دیکھا کہ اس کے شکنجے میں اپنی ہی حکومت کے لوگ آرہے ہیں تو اسے ختم کردیا گیا'۔

ان کا کہنا تھا کہ 'موجودہ حکومت غیر ملکی فنڈنگ کیس، بی آر ٹی کیس، 'بلین ٹری' کے مسئلے پر عدالتوں سے حکم امتناع مانگتی پھرتی ہے، ان کا یہ احتساب اپنا اعتماد کھو بیٹھا ہے، ہم اس کے پہلے ہی قائل نہیں تھے مگر جنہوں نے اسے برقرار رکھنا چاہا تھا وہ بھی آج اس پر پشیمان ہیں'۔

انہوں نے کہا کہ کورونا عالمی وبا کی صورتحال کے دوران 18ویں ترامیم، این ایف سی ایوارڈ جیسے غیر متنازع امور کو دوبارہ متنازع بنایا جارہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: اپوزیشن جماعتوں نے وفاقی حکومت کے بجٹ کو مسترد کردیا

انہوں نے بتایا کہ 18ویں ترمیم ان چند ترامیم میں سے ایک ہے جس پر سب کا اتفاق ہے مگر اسے بھی متنازع بنایا جارہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ 'آئین صوبوں کے حصے میں کسی بھی طرح کی کمی کو تسلیم نہیں کرتا مگر دباؤ ڈالا جارہا ہے کہ صوبے اپنے حصے کو کم کریں'۔

انہوں نے کہا کہ 'ہمیں بلدیاتی الیکشن نہیں چاہیے ہم عام انتخابات چاہتے ہیں، بلدیاتی الیکشن کی جانب لوگوں کو متوجہ کرنا لوگوں کو ان کے قومی اور صوبائی اسمبلی کے ووٹ حق سے محروم رکھنا ہے'۔

چینی اور آٹا بحران پر بننے والی تحقیقاتی کمیشن کی رپورٹ کے حوالے سے سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ حکومت کہتی ہے کہ انہیں چوروں کی تلاش ہے، اگر آپ واقعی چوروں کی تلاش میں ہیں تو اپنی کابینہ کے لوگوں کو فوراً پکڑلیں۔