سنتھیارچی کو احکامات کی خلاف ورزی پر توہین عدالت کا نوٹس

اپ ڈیٹ 02 جولائ 2020

ای میل

عدالتی احکامات کے باوجود سنتھیا رچی نے رحمٰن ملک کے خلاف بیان دیے — فائل فوٹو: ڈان نیوز
عدالتی احکامات کے باوجود سنتھیا رچی نے رحمٰن ملک کے خلاف بیان دیے — فائل فوٹو: ڈان نیوز

اسلام آباد کے سیشن کورٹ نے پاکستان میں مقیم امریکی بلاگر سنتھیا رچی کو احکامات کی خلاف ورزی کرتے ہوئے سینیٹر رحمٰن ملک کے خلاف بیانات دینے پر توہین عدالت کا نوٹس جاری کردیا۔

واضح رہے کہ 29 جون کو سیشن کورٹ نے پاکستان میں مقیم امریکی بلاگر کو پیپلز پارٹی اور سینیٹر رحمٰن ملک کے خلاف کسی بھی قسم کے بیانات نہ دینے کے احکامات جاری کیے تھے۔

مزید پڑھیں: سنتھیا رچی کا رحمٰن ملک کیخلاف مقدمہ درج کروانے کیلئے عدالت سے رجوع

نوٹس کے مطابق عدالت نے سنتھیارچی کو 13 جولائی کو جوابدہی کے لیے طلب کرلیا۔

نوٹس کا عکس
نوٹس کا عکس

واضح رہے کہ سیشن کورٹ نے سنتھیا رچی کو سینیٹر رحمٰن ملک کے خلاف کسی قسم کا مواد شائع کرنے سے بھی منع کیا تھا۔

بعدازاں عدالتی احکامات کے باوجود سنتھیا رچی نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر سینیٹر رحمٰن ملک کے خلاف بیانات جاری کیے۔

یہ بھی یاد رہے کہ سنتھیا رچی نے عدالتی احکامات کے باوجود ایک غیرملکی خبررساں ایجنسی کو انٹرویو دیا تھا اور پیشی کے بعد میڈیا سے بات کرکے الزامات بھی لگائے تھے۔

سنتھیا رچی ریپ الزامات

خیال رہے کہ سنیتھا رچی نے اپنے فیس بک پیج پر جاری ایک لائیو ویڈیو میں دعویٰ کیا تھا کہ '2011 میں سابق وزیر داخلہ رحمٰن ملک نے ریپ کیا تھا، یہ بات درست ہے، میں دوبارہ کہوں گی کہ اس وقت کے وزیر داخلہ رحمٰن ملک نے میرا ریپ کیا تھا'۔

سنتھیا رچی نے سابق وقافی وزیر مخدوم شہاب الدین اور سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی پر جسمانی طور ہراساں کرنے کا بھی الزام عائد کیا تھا اور کہا تھا کہ اس دوران یوسف رضا گیلانی ایوان صدر میں مقیم تھے۔

یہ بھی پڑھیں: سنتھیا رچی کا پاکستان مخالف سرگرمیوں کی تحقیقات کرنے کا دعویٰ

انہوں نے مزید کہا تھا کہ مجھے مارنے اور میرا ریپ کرنے کی لاتعداد دھمکیاں موصول ہوئی ہیں، ساتھ ہی انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ جو کچھ بھی کہہ رہی ہیں اس کی حمایت میں شواہد موجود ہیں۔

دوسری جانب رحمٰن ملک، یوسف رضا گیلانی، ان کے بیٹے اور مخدوم شہاب الدین نے الزامات کو سختی سے مسترد کردیا تھا۔

بعد ازاں پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما اور سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے امریکی نژاد پاکستانی بلاگر سنتھیا رچی کے خلاف پاکستان اور امریکا میں ہتک عزت کا دعوی دائر کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ سنتھیا رچی نے بے بنیاد الزامات لگا کر میری ساکھ مجروح کی۔

علاوہ ازیں سینیٹر رحمٰن ملک کے وکلا نے بذریعہ ٹی سی ایس امریکی خاتون سنتھیا رچی کو الزامات عائد کرنے پر 50 کروڑ روپے ہرجانے کا نوٹس بھجوایا تھا۔

مزیدپڑھیں: عدالت کا ایف آئی اے کو سنتھیا رچی کیخلاف قانون کے مطابق کارروائی کا حکم

سابق وزیر داخلہ رحمٰن ملک کے ترجمان ریاض علی طوری کی جانب سے جاری بیان کے مطابق سینیٹر رحمٰن ملک نے اپنے قانونی نوٹس میں سنتھیا رچی کے الزامات کو جھوٹ کا پلندہ قرار دے کر سختی سے تردید کی۔

بعدازاں 9 جون کو سینیٹر رحمٰن ملک نے امریکی خاتون سنتھیا رچی کو 50 ارب روپے ہرجانے کا دوسرا نوٹس بھجوایا تھا۔

رحمٰن ملک کے وکلا نے سنتھیا رچی کو نوٹس بذریعہ کوریئر بھجوایا تھا، جس میں رحمٰن ملک نے سنتھیا رچی کے لگائے گئے الزامات کو جھوٹ کا پلندہ قرار دے کر سختی سے مسترد کیا تھا۔

سنتھیا رچی ٹوئٹ تنازع

واضح رہے کہ بلاگر سنتھیا رچی نے سابق وزیراعظم شہید بینظیر بھٹو کے حوالے سے ایک ٹوئٹ کی تھی جس پر پیپلز پارٹی کے رہنماؤں نے انہیں سخت تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔

اس ٹوئٹ پر ان کے خلاف پولیس میں وقاص عباسی نے شکایت دائر کی تھی جبکہ پی پی پی کے ضلعی صدر راجا شکیل عباسی نے مقدمے کے اندراج کے لیے ایف آئی اے سے رجوع کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: 'پی ٹی اے بھی امریکی بلاگر سنتھیا رچی کے خلاف کارروائی نہیں کرسکتی'

درخواست میں کہا گیا تھا کہ سنتھیا رچی نے پاکستان پیپلز پارٹی کی چیئر پرسن اور سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو کو سوشل میڈیا پر مبینہ طور پر بدنام کرنے کی کوشش کی۔

تاہم ایف آئی اے کی جانب سے اس معاملے میں ایف آئی آر درج کرنے کی مخالفت کی گئی تھی اور دعویٰ کیا تھا کہ درخواست گزار کو (برقی جرائم کی روک تھام کے قانون) پری وینشن آف الیکٹرانک کرائم ایکٹ (پیکا) 2016 کی دفعات کے تحت اس معاملے میں مداخلت کرتے ہوئے شکایت کنندہ بننے کا حق نہیں۔

مزید کہا گیا کہ ایکٹ کہتا ہے کہ ایسے معاملے میں کوئی متاثرہ شخص یا اس کے نا بالغ ہونے کی صورت میں اس کے سرپرست ایسی معلومات کو ہٹانے، ختم کرنے یا اس تک رسائی روکنے کے لیے ایف آئی اے میں درخواست دے سکتے ہیں۔

مزید پڑھیں: بلاگر سنتھیا رچی کا پیپلز پارٹی کے رہنما رحمٰن ملک پر ریپ کا الزام

ایف آئی اے کا کہنا تھا کہ قانون کو پڑھنے سے یہ انکشاف ہوتا ہے کہ صرف اصل متاثرہ شخص یا اس کے سرپرست ہی شکایت درج کراسکتے ہیں۔

چنانچہ ایف آئی اے کی جانب سے مقدمہ درج نہ کیے جانے پر شکیل عباسی نے ڈسٹرک اینڈ سیشن جج کی عدالت میں درخواست دائر کی تھی جس پر ایف آئی کو نوٹس بھی جاری کیا گیا تھا۔

جس کے بعد راجا شکیل عباسی نے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج عطا ربانی کے سامنے کرمنل پروسیجر کوڈ کے سیکشن 22 اے کے تحت درخواست دائر کی تھی جس میں سنتھیا رچی کے خلاف پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کی چیئرپرسن اور سابق وزیراعظم کو سوشل میڈیا پر مبینہ طور پر بدنام کرنے پر مقدمہ درج کرنے کی استدعا کی تھی۔

چنانچہ 15جون کو ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج محمد جہانگیر اعوان نے ایف آئی اے کو پاکستان پیپلزپارٹی کے رہنما راجا شکیل عباسی کی جانب سے دائر درخواست پر سنتھیا رچی کے خلاف مقدمہ درج کرنے کی ہدایت کی تھی۔

بلاگر نے اپنے خلاف کارروائی روکنے کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا تاہم عدالت نے ان کی درخواست مسترد کردی تھی۔