فرانزک انکوائری میں 2010 سے 2018 تک 236 مشکوک پائلٹس سامنے آئے، علی زیدی

اپ ڈیٹ 02 جولائ 2020

ای میل

حکومتی وزرا نے پریس کانفرنس میں پائلٹس کے جعلی لائسنس کی رپورٹ پبلک کرنے کا دفاع کیا— فوٹو: اسکرین شا
حکومتی وزرا نے پریس کانفرنس میں پائلٹس کے جعلی لائسنس کی رپورٹ پبلک کرنے کا دفاع کیا— فوٹو: اسکرین شا

وفاقی وزیر بحری امور علی حیدر زیدی نے کہا ہے کہ فرانزک انکوائری میں 2010 سے 2018 تک 236 مشکوک پائلٹس سامنے آئے جنہیں معطل کردیا گیا ہے۔

وزیر اطلاعات شبلی فراز اور وزیر اعظم کے مشیر برائے احتساب شہزاد اکبر کے ہمراہ اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے علی زیدی نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی ایک مؤقف لانے کی کوشش کر رہی ہے کہ نیویارک کا روزویلٹ ہوٹل فروخت ہو رہا ہے تو ایسا کچھ نہیں ہو رہا ہے۔

مزید پڑھیں: کراچی طیارہ حادثہ: پائلٹ اور معاون کے ذہنوں پر کورونا سوار تھا، وزیر ہوا بازی

ان کا کہنا تھا کہ جتنے بھی قومی اثاثے ہیں ان پر مستقل مشاورت ہوتی ہے کہ کیسے ان سے زیادہ سے زیادہ منافع کمایا جا سکے لہٰذا اس وقت محض مشاورت ہو رہی ہے۔

وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ اس وقت تو امریکا میں کوئی گاڑی نہیں خرید رہا لہٰذا یہ کہنا انتہائی احمقانہ بات ہے کہ روزویلٹ فروخت ہو رہا ہے، کچھ نہیں فروخت ہورہا۔

علی زیدی کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف کی حکومت نے اقتدار میں آنے کے بعد اپنے مینڈیٹ کے تحت ماضی میں ملک کے اداروں کو جس طرح سے تباہ کیا گیا تھا، اس کے خلاف تحقیقات شروع کیں، اسی طرح پی آئی اے اور سول ایویشن بھی ادارے ہیں، ہر انڈسٹری میں یہ کام شروع ہوا۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں بے باضابطگیوں اور مشکوک چیزوں کی اطلاعات موصول ہوئیں اور پتا چلا کہ کچھ پائلٹس کے لائسنس میں بے ضابطگیاں تھیں لہٰذا 54 ایسے لوگوں کو فوری معطل کردیا گیا اور اس کے ساتھ ساتھ پوری آرگنائزیشن کی تفصیلی فرانزک انکوائری شروع کی گئی۔

یہ بھی پڑھیں: کراچی ایئرپورٹ کے قریب پی آئی اے کا مسافر طیارہ آبادی پر گر کر تباہ،97 افراد جاں بحق

علی زیدی نے مزید کہا کہ 2010 سے ایک نیا لائسنس کا نظام متعارف کرایا گیا جو کمپیوٹرائزڈ تھا لیکن اس میں فائر وال اور پاس ورڈ کے تحفظ کی سہولت موجود نہیں تھی، اس لیے یہ ساری بے ضابطگیاں ہوئیں۔

انہوں نے بتایا کہ جب فرانزک انکوائری کمیشن نے اس کی تفصیلی جانچ کی گئی تو پتا چلا کہ 2010 میں آٹھ، 2011 میں 20، 2012 میں 28، 2013 میں پھر 20، 2014 میں 12، 2015 میں 25، 2016 میں 39، 2017 میں 46 اور 2018 میں 38 (مجموعی تعداد 236 بنتی ہے) اور یہ پلائٹس کی بے ضابطگیاں تھیں اور یہ مشکوک تھے، جب یہ انکشاف ہوا تو ان تمام پائلٹس کو معطل کردیا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ پہلے ایوی ایشن پالیسی کی ہر سال تجدید ہوتی تھی لیکن مارچ 2019 میں پانچ سال کے لیے نئی ایوی ایشن پالیسی آئی ہے، ایک محترمہ کہہ رہی ہیں کہ ہر 6 مہینے اور سال میں ہوتا ہے لیکن یہ ان کے زمانے میں ہوتا تھا کیونکہ جتنی دفعہ تجدید ہوتی ہے اتنی دفعہ اسپیڈ منی بھی ہوتی ہے، ہمارے ہاں اسپیڈ منی جیسا کوئی چکر نہیں۔

وزیر علی زیدی نے کہا کہ یہ واضح ہو جائے کہ کوئی بھی ایسا پائلٹ جس پر کوئی شک ہو یا بے ضابطگی میں ملوث ہونے کا خدشہ ہو، وہ معطل ہے، اسے جہاز اڑانے کی اجازت نہیں ہے، ہماری حکومت کی واضح پالیسی ہے کہ ہم حفاظت کو ترجیح دیتے ہیں۔

مزید پڑھیں: پائلٹس کے 'مشکوک' لائسنس کے معاملے میں پالپا کا جوڈیشل کمیشن کے قیام کا مطالبہ

ان کا کہنا تھا کہ بہت سے پاکستانی پائلٹس ملک سے باہر دیگر ایئرلائنز میں بھی ہیں، ان پر بھی اگر کوئی شک تھا تو وہ واضح کردیا گیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ سول ایوی ایشن نےانفارمیشن ٹیکنالوجی نظام کو اپ گریڈ اور مضبوط بنایا ہے، انتظامی اصلاحات کی ہیں جیسے ڈیجیٹل فنگر پرنٹنگ کی ہے اور ان کیمرہ ٹیسٹ ہوتا ہے، فائر والز مناسب بن گئی ہیں، آزادانہ پاس ورڈ بن گئے ہیں تاکہ انہیں کوئی ہیک نہ کرسکے۔

علی زیدی نے بتایا کہ ان باضابطگیوں میں ملوث افراد کو بھی معطل کردیا گیا ہے جس میں سے سول ایوی ایشن کے 5 اہم عہدیدار ہیں جو سول ایوی ایشن لائسنسنگ اتھارٹی سے تعلق رکھتے ہیں اور ان کے خلاف تحقیقات ہوں گی۔

ان کا کہنا تھا کہ ہر ایک سے تفتیش ہو گی تاکہ یہ پتا چلایا جاسکے کہ ان بے ضابطگیوں میں کون شامل تھا اور مزید تفتیش جاری ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پی آئی اے لائسنس معطلی: 'وفاق کے بیان کی عدالتی تحقیقات ہونی چاہیے'

انہوں نے مزید کہا کہ جتنے بھی ملوث افراد ہیں سب کو کٹہرے میں لایا جائے گا، کوئی یہ نہ سمجھے کہ اگر کسی کی سیاسی وابستگی ہے تو وہ بچ جائے گا، آپ کو پتا ہونا چاہیے کہ اداروں کو تباہ کرنے میں اس ملک میں بیٹھے ہوئے سیاستدانوں کا بڑا ہاتھ ہے۔

اس موقع پر انہوں نے مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما اور سینیٹر مشاہد اللہ خان کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ مشاہد اللہ نے پی آئی اے میں جو ڈرامے کیے ہیں وہ ساری قوم کو پتا ہیں، جن کو نہیں پتا اگر وہ صرف گوگل پر ان کا نام لکھ لیں تو شاید یہ آئے گا کہ انہوں نے کہاں کہاں بے ضابطگیاں کیں اور ادھر اُدھر رشتے دار بھرتی کیے۔

وفاقی وزیر نے یقین دہانی کرائی کہ چند مہینوں میں اس انکوائری کی تکمیل کے بعد سول ایوی ایشن اتھارٹی سیفٹی کے لحاظ سے دنیا کی صف اول کی اتھارٹیز میں آجائے گی کیونکہ جب آپ نے گندے انڈے نکال دینے ہیں تو چیزیں خودبخود ٹھیک ہوتی چلی جاتی ہیں۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ بہت جلد پی آئی اے خطے کی بہترین ایئرلائن بننے کی راہ پر گامزن ہے اور بہت سی ایئرلائنز بنانے میں پی آئی اے کا کردار رہا ہے۔

مزید پڑھیں: یورپی ممالک کیلئے پی آئی اے کی پروازوں پر پابندی

اس موقع پر وزیر اعظم کے مشیر برائے احتساب شہزاد اکبر نے کہا کہ اس معاملے کا آغاز سپریم کورٹ کے ازخود نوٹس سے ہوا تھا جس کے بعد سے 18-2017 سے عمل شروع کردیا گیا تھا اور انہی معاملات کو لے کر 2018 میں سپریم کورٹ نے اس وقت کے وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کو طلب بھی کیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ چینی، آٹے بحران سمیت کسی بھی شعبے کو اٹھا کر دیکھ لیں اس میں ریگولیٹر اپنا کام صحیح طریقے سے نہیں کر رہا اور وہ اس لیے کہ اس کاروبار میں کسی اعلیٰ سطح کے حکومتی عہدیدار یا خاندان کے کاروباری مفادات ہیں۔

شہزاد اکبر کا کہنا تھا کہ ہمارے دو مقاصد ہیں جن میں سے ہماری پہلی ترجیح عوام کی حفاظت ہے اور اگر ہمیں شک بھی ہو گا تو ہم کسی لمحے کی تاخیر کے بغیر اسٹاف کو گراؤنڈ کردیں گے اور اگر ہمیں کسی بھی بے ضابطگی کا تھوڑا بہت بھی شبہ ہو گا تو وہاں بھی اسٹاف کو گراؤنڈ کردیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان، یورپ میں فضائی آپریشن کے سلسلے میں لگی پابندی کے خلاف اپیل کے لیے جا رہا ہے، ماضی میں بھی ناقص حفاظتی انتظامات کے باعث یورپی یونین ہماری فلائٹس معطل کرتا رہا ہے۔

اس موقع پر وزیر اطلاعات شبلی فراز نے کہا کہ ہم تمام مسافروں کو یہ یقین دہانی کرانا چاہتے ہیں کہ جو پائلٹس بھی جہاز اڑا رہے ہیں وہ جانچ کے عمل سے گزر چکے ہیں اور سفر کرنے والوں کو یہ یقین ہونا چاہیے کہ جہاز اڑانے والے اس عمل سے گزر چکے ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں شہزاد اکبر نے کہا کہ یہ 262 پائلٹس کی فہرست مشتبہ پائلٹس کی ہے اور مشتبہ پائلٹس میں سے 28 کا عمل مکمل ہو چکا ہے جن کا معاملہ کل منسوخی کے لیے کابینہ کے پاس آیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: 28 پائلٹس کے لائسنس جعلی ثابت، کیس کابینہ میں لے جانے کا فیصلہ

قومی اسمبلی میں پائلٹس کے بارے میں بتانے کے حوالے سے سوال کا جواب دیتے ہوئے علی زیدی نے کہا کہ کیا ہم عذیر بلوچ کی جے آئی ٹی کی طرح اسے بھی چھپا لیتے، اس نے جن لوگوں پر قتل کروانے کے الزامات عائد کیے ہیں، وہ آج ہم سے اسمبلی میں بیٹھ کر بجٹ پر بحث کرتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ عوام کی حکومت ہے اور عوام کو یہ بتانا پڑتا ہے کہ اس ملک میں ان کے ساتھ زیادتیاں کس نے کیں، بے ضابطگیوں کے بارے میں ہم بتائیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ بھارت میں 4 ہزار پائلٹس کو ان کا میڈیا جعلی کہہ رہا ہے لہٰذا یہ حفاظت اور اداروں کو بہتر، صاف و شفاف بنانے کا مسئلہ ہے۔