روشن سندھ پروگرام کیس: وزیراعلیٰ سندھ 8 جولائی کو نیب میں طلب

اپ ڈیٹ 06 جولائ 2020

ای میل

شمسی توانائی کیس میں وزیراعلیٰ سندھ کو تیسری مرتبہ طلب کیا گیا ہے—فائل فوٹو: ڈان نیوز
شمسی توانائی کیس میں وزیراعلیٰ سندھ کو تیسری مرتبہ طلب کیا گیا ہے—فائل فوٹو: ڈان نیوز

قومی احتساب بیورو (نیب) نے وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کو اربوں روپے کے شمسی توانائی کے کیس میں تیسری مرتبہ 8 جولائی کو طلب کرلیا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق وزیراعلیٰ سندھ کو نیب ہیڈکوارٹرز میں تفتیشی افسران کے سامنے پیش ہونے کی ہدایت کی گئی۔

خیال رہے کہ 4 جون کو انسداد بد عنوانی ادارے میں پیشی کے موقع پر وزیراعلیٰ سندھ کو سوالنامہ فراہم کیا گیا تھا اور انہیں جواب جمع کروانے کی ہدایت کی گئی تھی۔

نیب پہلے ہی اس کیس میں پلی بارگین کے ذریعے 29 کروڑ روپے برآمد کرچکا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: روشن سندھ پروگرام کیس: وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نیب میں پیش، تحقیقاتی ٹیم کی تفتیش

خیال رہے کہ یہ معاملہ پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کی قیادت بشمول سابق صدر آصف علی زرداری، بلاول بھٹو زرداری، مراد علی شاہ، فریال تالپور اور کچھ سینئر بینکرز اور بیوروکریٹس کے خلاف جعلی بینک اکاؤنٹس کیس سے متعلق ہے۔

اس کیس میں وزیراعلیٰ سندھ پر الزام ہے کہ انہوں نے سندھ میں شمسی توانائی سے چلنے والی لائٹس کی خریداری اور تقسیم کے لیے غیر قانونی ٹھیکے دیے۔

اس سے قبل وزیراعلیٰ سندھ 4 جون کو تفتیش کے سلسلے میں پیش ہوئے تو انہوں نے نیب کے الزامات سے لاتعلقی کا اظہار کیا تھا۔

نیب کی تحقیقاتی ٹیم نے وزیراعلیٰ سندھ سے دو گھنٹے سے زائد تفتیش کی تھی اور جعلی اکاونٹس سے متعلق بھی سوالات پوچھے گئے تھے۔

مزید پڑھیں: روشن سندھ پروگرام کیس: شرجیل میمن کی عبوری ضمانت منظور

خیال رہے کہ وزیراعلیٰ سندھ کو نیب کے دیگر کیسز کا بھی سامنا ہے جن میں شوگر ملز سبسڈی کیس اور نوری آباد پاور پروجیکٹ کیس شامل ہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق جب مخصوص شوگر ملز کو سبسڈیز دی گئی تھیں اس وقت وہ سندھ کے وزیر خزانہ تھے اور یہ سبسڈی حاصل کرنے والوں میں بند کی جانے والی ٹھٹہ شوگر ملز اور داود شوگر ملز شامل ہیں۔