مندر کی حد بندی کروانا لازمی ہے، سی ڈی اے

اپ ڈیٹ 06 جولائ 2020

ای میل

سی ڈی اے نے تعمیراتی کام شروع ہونے سے قبل عمارت کے منصوبے کی منظوری بھی لازمی قرار دی۔ فائل فوٹو: محمد بن نوید
سی ڈی اے نے تعمیراتی کام شروع ہونے سے قبل عمارت کے منصوبے کی منظوری بھی لازمی قرار دی۔ فائل فوٹو: محمد بن نوید

اسلام آباد: کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کا کہنا ہے کہ تعمیراتی کام شروع کرنے سے قبل مندر انتظامیہ کو شہری ایجنسی کے ذریعے اس جگہ کی باضابطہ حد بندی کروانا ضروری ہے۔

مزید برآں انہوں نے تعمیراتی کام شروع ہونے سے قبل عمارت کے منصوبے کی منظوری بھی لازمی قرار دے دی۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق سی ڈی اے کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ 'ہم نے چند سال قبل مندر کے قیام کے لیے ایچ ۔9 میں پلاٹ الاٹ کیا تھا تاہم الاٹیز کے لیے سی ڈی اے کے ضمنی قوانین پر عمل کرنا لازمی ہے'۔

انہوں نے کہا کہ جب بھی مندر میں انتظامیہ کام کا آغاز کرے گی اس کی ترجیحی بنیادوں پر منظوری دی جائے گی۔

مزید پڑھیں: اسلام آباد میں مندر کی تعمیر کے خلاف درخواست پر سی ڈی اے کو نوٹس

اس سے قبل جمعہ کو سی ڈی اے نے اس جگہ پر باؤنڈری وال تعمیر کرنے سے مندر کی انتظامیہ کو روک دیا تھا۔

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رکن قومی اسمبلی لال چند ملی نے ڈان سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ 'ہم قواعد کی پاسداری کرتے ہیں لیکن ایک باؤنڈری وال کی تعمیر ضروری تھی کیونکہ چند لوگ جنہیں مدرسوں کی حمایت حاصل ہے، نے 2018 میں اس پلاٹ پر خیمے لگائے تھے اور اسے صاف ہونے میں ہمیں کئی ماہ لگے تھے'۔

واضح رہے کہ سن 2016 میں میئر عنصر عزیز کی سربراہی میں سی ڈی اے بورڈ نے ہندو برادری کو مندر کے لیے چار کنال اراضی الاٹ کی تھی۔

سی ڈی اے بورڈ نے یہ الاٹمنٹ ہیومن رائٹ کمیشن آف پاکستان کی ہدایت پر کی تھی۔

واضح رہے کہ اس وقت اسلام آباد میں ہندو برادری کے لیے کوئی مندر نہیں ہے۔

ماضی میں سید پور گاؤں میں ایک مندر تھا لیکن کئی دہائیاں قبل ہی اسے ترک کردیا گیا تھا۔

مندر کی تعمیر کا معاملہ

یاد رہے کہ گزشتہ دنوں وزیراعظم عمران خان نے وفاقی دارالحکومت میں پہلے مندر کی تعمیر کے لیے 10 کروڑ روپے کی گرانٹ کی منظوری دی تھی، یہ منظوری وزیر برائے مذہبی امور پیر نور الحق قادری کی وزیراعظم سے ملاقات میں گرانٹ کے لیے کی گئی درخواست کے بعد سامنے آئی تھی۔

اس سے قبل 23 جون کو ایچ 9 ایریا میں دارالحکومت کے پہلے مندر کی تعمیر شروع کرنے کے لیے سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب منعقد ہوئی تھی۔

پارلیمانی سیکریٹری برائے انسانی حقوق لال چند ملہی کی جانب سے مندر کا سنگ بنیاد رکھا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: سی ڈی اے نے اسلام آباد میں مندر کے مقام پر چار دیواری کی تعمیر روک دی

خیال رہے کہ اسلام آباد ہندو پنچایت نے مذکورہ مندر کا نام شری کرشنا مندر رکھا ہے۔

یہ بات مدنظر رہے کہ قومی کمیشن برائے انسانی حقوق کے حکم پر 2017 میں سی ڈی اے کی جانب سے اسلام آباد کے ایچ 9/2 میں 20 ہزار اسکوائر فٹ کا پلاٹ ہندو پنچایت کو دیا گیا تھا۔

تاہم سائٹ میپ، سی ڈی اے اور دیگر متعلقہ اتھارٹیز سے دستاویزات کی منظوری سمیت دیگر رسمی کارروائیوں کے پورے ہونے میں تاخیر کی وجہ سے تعمیرات کام شروع نہیں ہوسکا تھا۔

خیال رہے کہ سیاسی جماعت مسلم لیگ (ق) سمیت مذہبی جماعتوں جمعیت علمائے اسلام (ف)، مرکزی جمعیت اہل حدیث اور اسلام آباد میں لال مسجد اور دیگر مدارس سے وابستہ مذہبی رہنماؤں سمیت چند عام شہریوں کی جانب سے اس مندر کی تعمیر کی مخالفت کی جارہی ہے۔

اس حوالے سے گزشتہ ماہ کے آخر میں اسلام آباد ہائی کورٹ میں ایک شہری چوہدری تنویر نے درخواست بھی دائر کی تھی جس پر عدالت نے سی ڈی اے سے جواب طلب کرلیا۔

درخواست گزار وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ اسلام آباد کے سیکٹر ایچ 9 میں مندر کی تعمیر کے لیے دی گئی زمین واپس لی جائے، مزید یہ کہ مندر کی تعمیر کے لیے تعمیراتی فنڈز بھی واپس لیے جائیں۔

وکیل درخواست گزار نے کہا کہ سید پور گاؤں میں پہلے سے مندر موجود ہے، حکومت اس کی تزئین و آرائش کرسکتی تھی۔

ایچ 9 میں مندر کو دی گئی زمین دارالحکومت کے ماسٹر پلان کی خلاف ورزی ہے۔

انہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ اسلام آباد کے ماسٹر پلان پر عمل درآمد کرایا جائے جبکہ مندر کی تعمیر پر حکم امتناع جاری کیا جائے، جس پر عدالت نے مندر کی تعمیر کو فوری روکنے کی استدعا مسترد کرتے ہوئے حکم امتناع کی درخواست پر نوٹس جاری کردیے۔