پائلٹس کے مشکوک لائسنسز: امریکا نے بھی پی آئی اے کی پروازیں معطل کردیں

ای میل

رواں برس پی آئی کو ہلی مرتبہ امریکا کے لیے براہ راست پروازوں  کی اجازت دی گئی تھی—فائل فوٹو: اے ایف پی
رواں برس پی آئی کو ہلی مرتبہ امریکا کے لیے براہ راست پروازوں کی اجازت دی گئی تھی—فائل فوٹو: اے ایف پی

پاکستانی پائلٹس کے مشتبہ لائسنسز کے معاملے پر برطانیہ اور ملائیشیا کے بعد امریکا نے بھی پاکستانیوں کی واپسی کے لیے قومی ایئر لائن (پی آئی اے) کی خصوصی پروازوں کے اجازت نامے کو منسوخ کردیا۔

امریکی حکام نے پی آئی اے حکام کو اجازت نامے کی منسوخی سے متعلق یکم جولائی کو ای میل بھی کی تھی۔

ترجمان پی آئی اے نے اجازت نامے کی منسوخی کی تصدیق کی اور بتایا کہ اجازت نامے کے تحت پی آئی اے کی 6 پروازیں آپریٹ ہوچکی تھیں۔

مزید پڑھیں: ملائیشیا نے سی اے اے سے لائسنس کی تصدیق کے منتظر پاکستانی پائلٹس کو معطل کردیا

عبداللہ خان نے بتایا کہ پی آئی اے کو حاصل خصوصی اجازت کے تحت امریکا کے لیے 12 پروازوں کی منظوری دی گئی تھی۔

انہوں نے بتایا کہ پروازوں کا اجازت نامہ پائلٹس کے مشتبہ لائسنسز پر اور سول ایوی ایشن اتھارٹی (سی اے اے) کی کارروائی کے باعث منسوخ کیا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ اجازت نامہ منسوخ کیے جانے کی ای میل موصل ہو چکی ہے تاہم امریکی اعتراضات دور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق امریکا میں موجود ذرائع نے تصدیق کی کہ مذکورہ فیصلہ پاکستانی عہدیدار کے بیان کی بنیاد پر لیا گیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ پی آئی اے کے متعدد پائلٹس کے لائسنسز مشکوک ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: پائلٹس کے 'مشکوک لائسنسز' سے پی آئی اے، سی اے اے کی ساکھ متاثر

یو ایس ڈپارٹمنٹ آف ٹرانسپورٹیشن( ڈی او ٹی) نے فلائٹس سیفٹی پر تشویش کا اظہار کیا ہے، اس حوالے سے پاکستانی حکام کو ارسال کردہ ای میل میں کہا گیا کہ اجازت نامے کی منسوخی کا اطلاق فوری طور پر ہوگا۔

ای میل میں مزید کہا گیا کہ نہ صرف پی آئی اے کی چارٹر فلائٹس چلانے کی اجازت واپس لی گئی ہے بلکہ قومی ایئرلائن کو امریکی پوائنٹ پر مشتمل نان ریونیو آپریشنز سے بھی روک دیا گیا ہے۔

اس حوالے سے امریکی محکمہ ٹرانسپورٹ کا کہنا ہے کہ پابندی کے بعد پی آئی اے امریکا کیلئے اپنی پروازیں نہیں چلاسکےگی اور یہ پابندی پی آئی اےکی ہرقسم کی پروازوں پرلگائی گئی ہے۔

ڈی او ٹی کے نوٹی فکیشن میں کہا گیا کہ یہ اقدام، پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی کی جانب سے حالیہ واقعات کی نشاندہی کے بعد اٹھایا گیا جو ایوی ایشن سیفٹی کے لیے سنگین تشویش کا باعث ہیں۔

تاہم واشنگٹن میں پاکستانی سفارتخانے کے عہدیدار نے کہا کہ امریکی حکام نے اب تک انہیں ایسے کسی فیصلے سے آگاہ نہیں کیا۔

عہدیدار نے دعویٰ کیا کہ ضرورت پڑنے پی آئی اے کی پروازیں جاری رہیں گی۔

خیال رہے کہ رواں برس اپریل میں پی آئی اےکو تاریخ میں پہلی مرتبہ امریکا کے لیے براہ راست پروازیں چلانے کی اجازت دی گئی تھی۔

مزید پڑھیں: تاریخ میں پہلی بار پی آئی اے کو امریکا کیلئے براہِ راست پروازوں کی اجازت

امریکی ڈپارٹمنٹ آف ٹرانسپورٹیشن سے جاری مراسلے میں کہا گیا تھا اجازت کا اطلاق 29 اپریل 2020 سے ہوگا اور جس کی مدت 29 اپریل 2021 تک ہے، پی آئی اے اس دوران ایک درجن 2 طرفہ یا یکطرفہ مسافر اور مال بردار پروازیں چلا سکتی ہے۔

اس ضمن میں ترجمان پی آئی اے نے ڈان سے بات کرتے ہوئے بتایا تھا کہ امریکا میں ہونے والے 11 ستمبر کے حملوں سے پہلے پی آئی اے کے طیاروں میں امریکا کی براہ راست پرواز کی صلاحیت نہیں تھی اس لیے انہیں کہیں نہ کہیں رکنا پڑتا تھا۔

انہوں نے مزید بتایا تھا کہ 11 ستمبر کے حملوں کے بعد امریکا نے سیکیورٹی خدشات کی بنیاد پر براہِ راست پروازوں کی اجازت دینے سے انکار کردیا تھا۔

جس کے بعد 11 مئی کو پی آئی اے کی واشنگٹن سے پہلی پرواز 'پی کے 8722' کے ذریعے 179 مسافر اسلام آباد پہنچے تھے۔

اس کے بعد 31 مئی کوپی آئی اےکی پہلی پرواز 207 پاکستانیوں کو واپس لانے کے لیے نیو جرسی روانہ ہوئی تھی۔

پائلٹس کے 'مشکوک' لائسنسز کا معاملہ

خیال رہے کہ پائلٹس کے مشکوک یا جعلی لائسنسز کے معاملے کا آغاز 24 جون کو ہوا جب قومی اسمبلی میں کراچی مسافر طیارہ حادثے کی تحقیقاتی رپورٹ پیش کرتے ہوئے وفاقی وزیر ہوا بازی غلام سرور خان نے کہا تھا کہ 860 پائلٹس میں سے 262 ایسے پائے گئے جن کی جگہ کسی اور نے امتحان دیا تھا۔

جس کے بعد پاکستان نے 26 جون کو امتحان میں مبینہ طور پر جعل سازی پر پائلٹس کے لائسنسز کو 'مشکوک' قرار دیتے ہوئے انہیں گراؤنڈ کردیا تھا۔

غلام سرورخان نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ 'جن پائلٹس پر سوالات اٹھائے گئے ہیں وہ 262 ہیں، پی آئی اے میں 141، ایئربلیو کے 9، 10 سرین، سابق شاہین کے 17 اور دیگر 85 ہیں'۔

جس کے بعد پی آئی اے کی انتظامیہ نے اپنے 150 پائلٹس کو گراؤنڈ کرنے (کام کرنے سے روکنے) کا فیصلہ کیا تھا۔

29 جون کو ویتنام کی ایوی ایشن اتھارٹی نے عالمی ریگولیٹرز کی جانب سے پائلٹس کے ’مشکوک لائسنس‘ رکھنے کی تشویش پر مقامی ایئرلائنز کے لیے تمام پاکستانی پائلٹس کو گراؤنڈ کردیا تھا۔

اگلے روزیورپین یونین ایئر سیفٹی ایجنسی (ایاسا) نے پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز کے یورپی ممالک کے فضائی آپریشن کا اجازت نامہ 6 ماہ کے لیے عارضی طور پر معطل کردیا تھا جس پر 3 جولائی سے اطلاق ہوا۔

اسی روز اقوام متحدہ کے ڈپارٹمنٹ آف سیفٹی اینڈ سیکیورٹی (یو این ڈی ایس ایس) نے پاکستانی ایئرلائن کو اپنی 'تجویز کردہ فہرست' سے ہٹا دیا تھا۔

جس کے بعد یکم جولائی کو برطانیہ کی سول ایوی ایشن اتھارٹی نے اپنے 3 ایئرپورٹس سے پی آئی اے کی پروازوں پر پابندی لگانے کا اعلان کیا تھا جبکہ متحدہ عرب امارت نے بھی سول ایوی ایشن اتھارٹی سے مختلف فضائی کمپنیوں میں کام کرنے والے پاکستانی پائلٹس اور انجینئرز کے کوائف کی تصدیق کی درخواست کی تھی۔

اس کے بعد 3 جولائی کو ملائشیا کے ایوی ایشن ریگولیٹر نے پاکستانی لائسنس رکھنے والے اور مقامی ایئر لائنز میں ملازمت کرنے والے پائلٹس کو عارضی طور پر معطل کردیا تھا۔

جس کے بعد 4 جولائی کو وزیر ہوا بازی غلام سرور خان نے کہا تھا کہ انکوائری مکمل ہونے کے بعد مزید 30 ’مشتبہ لائسنس' کے حامل پائلٹس کو اظہار وجوہ کے نوٹسز بھیجے جاچکے ہیں۔

7 جولائی کو یورپی یونین ایوی ایشن سیفٹی ایجنسی (ایاسا) نے 32 رکن ممالک کو 'پاکستان میں جاری کردہ پائلٹ لائسنسز سے متعلق مبینہ فراڈ' کے حوالے سے خط لکھا اور ان پائلٹس کو فلائٹ آپریشن سے روکنے کی سفارش کی تھی۔

اسی روز سول ایوی ایشن اتھارٹی نے 'مشکوک' لائسنسز سے متعلق انکوائریاں مکمل ہونے کے بعد پی آئی اے کے 34 پائلٹس کے کمرشل فلائنگ لائسنسز معطل کردیے تھے۔