ٹک ٹاک نے 6 ماہ میں 5 کروڑ ویڈیوز ڈیلیٹ کیں

اپ ڈیٹ 11 جولائ 2020

ای میل

— شٹر اسٹاک فوٹو
— شٹر اسٹاک فوٹو

ٹک ٹاک دنیا کی مقبول ترین سوشل میڈیا ایپس میں سے ایک ہے جس میں روزانہ ہی لاتعداد ویڈیو اپ لوڈ کی جاتی ہیں۔

اب کمپنی نے ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ وہ کس طرح اپنے صارفین کے مواد کی جانچ پڑتال کرتی ہے۔

گزشتہ دنوں کمپنی کی جانب سے ٹرانسپیرنسی رپورٹ جاری کی گئی جس کے مطابق جولائی سے دسمبر 2019 کے دوران اس نے دنیا بھر میں 4 کروڑ 90 لاکھ سے زائد ویڈیو کو پالیسیوں کی خلاف ورزی پر ڈیلیٹ کیا۔

کمپنی کی جانب سے سب سے زیادہ ویڈیو بھارت میں ڈیلیٹ کی گئی جن کی تعداد ایک کروڑ 60 لاکھ سے زائد تھی، جس کے بعد امریکا دوسرے نمبر پر ہے جہاں یہ تعداد 46 لاکھ رہی۔

حیران کن طور پر پاکستان اس فہرست میں تیسرے نمبر پر موجود ہے جہاں ٹک ٹاک نے 37 لاکھ 28 ہزار سے زائد ویڈیوز ڈیلیٹ ہوئیں جبکہ برطانیہ میں 20 لاکھ اور روس میں 12 لاکھ ے زائد ویڈیوز کو صاف کیا گیا۔

کمپنی کا کہنا تھا کہ گزشتہ سال کے اختتام پر مواد کے حوالے سے نیا نظام متعارف کرایا گیا تھا تاکہ اسے زیادہ شفاف اور رپورٹ ہونے والی ویڈیوز کو ڈیلیٹ کرنے کی وجوہات آسان بنائی جاسکیں۔

جب کوئی ویڈیو کمنی کے اصولوں کی خلاف ورزی کرتی ہے تو اس پر پالیسی کی خلاف ورزی کا لیبل لگایا جاتا ہے اور پھر ہٹا دی جاتی ہے۔

صرف دسمبر کے مہینے میں 25 فیصد ے زائد ایسی ویڈیوز کو پلیٹ فارم سے ہٹایا گیا جو نامناسب مواد پر مبنی تھیں، 25 فیصد کے قریب ویڈیوز بچوں کے تحفظ کی پالیسیوں کی خلاف ورزی پر ہٹائی گئیں، جن میں نقصان دہ، خطرناک یا غیرقانونی مواد جیے منشیات یا الکحل کے استعمال کو دکھایا گیا تھا۔

غیرقانونی سرگرمیوں پر مبنی 21.5 فیصد مواد کو صاف کیا گیا جبکہ خودکشی، خود کو نقصان پہنچانے یا خطرناک والی 15.6 فیصد ویڈیوز کو ہٹایا گیا۔

8 فیصد ویڈیوز کو پرتشدد مواد کی وجہ سے ڈیلیٹ کیا گیا جبکہ 3 فیصد ہراساں اور بدزبانی پر مبنی مواد کی وجہ سے ہٹائی گئیں، ایک فیصد ویڈیوز نفرت انگیز مواد کی پالیسیوں کی خلاف ورزی کا نتیجہ تھیں۔

گزشتہ سال کی آخری ششماہی کے دوران 26 ممالک کی جانب سے ٹک ٹاک کے صارفین کے ڈیٹا سے متعلق درخواستیں کی گئی جن میں سے ایک پاکستان کی جانب سے بھی کی گئی تھی۔

ویڈیوز ہٹانے کے لیے ٹک ٹاک کو 45 درخواستیں 10 ممالک سے موصول ہوئیں۔

کمپنی کا کہنا تھا 'آج کی ٹیکنالوجی اتنی ایڈوانسڈ نہیں کہ ہم پالیسیوں کے نفاذ کے لیے خود پر انحصار کرسکیں'۔

یہ رپورٹ اس وقت سامنے آئی جب بھارت میں قومی سلامتی کو جواز بناکر ٹک ٹاک پر پابندی عائد کی جاچکی ہے جبکہ امریکا کی جانب سے بھی اس مقبول ایپ پر پابندی کا عندیہ دیا جارہا ہے۔