پائلٹس کے مشکوک لائسنس: سول ایوی ایشن کی رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع

اپ ڈیٹ 14 جولائ 2020

ای میل

—فائل/فوٹو:رائٹرز
—فائل/فوٹو:رائٹرز

سول ایوی ایشن اتھارٹی (سی اے اے) نے پائلٹس کے مشکوک لائسنس اور جعلی ڈگریوں سے متعلق تفصیلی رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرا دی۔

عدالت عظمیٰ کو رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن (پی آئی اے) کے پاس کُل 450 پائلٹس ہیں جبکہ نجی ایئر لائنز سمیت پائلٹس کی مجموعی تعداد ایک ہزار 934 ہے، جن کو لائسنس جاری کیا گیا۔

سی اے اے کا کہنا ہے کہ 16 مشتبہ ڈگری رکھنے والے پائلٹس میں سے 8 کو معطل کیا گیا۔

مزید پڑھیں: پائلٹس کے مشکوک لائسنسز: امریکا نے بھی پی آئی اے کی پروازیں معطل کردیں

سپریم کورٹ کو بتایا گیا ہے کہ بورڈ آف انکوائری نے 262 پائلٹس کے مشتبہ لائسنس کی نشاندہی کی تھی۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق مشکوک پائلٹ لائسنس کے بارے میں حالیہ انکشاف کے بعد اتھارٹی نے اپنے لائسنس اور امتحان کے نظام تک رسائی محدود کردی تھی اور صرف پائلٹ لائسنسنگ برانچ اور امتحان ہال، اسلام آباد میں واقع مجازی انتظامیہ کو ہی امتحانی ایپلی کیشن سرور تک رسائی حاصل ہے۔

سی اے اے کے ڈی جی حسن ناصر جامی نے عدالت کے سامنے پیش کی گئی رپورٹ میں بتایا کہ لائسنسنگ اور امتحانات کے سرور سے رابطہ قائم کرنے کے لیے صرف نامزد سسٹم یا کلائنٹس کو اجازت دینے کے لیے سیکیورٹی فائر وال ترتیب دی گئی تھی، جبکہ دوسرے سسٹمز سے رابطے مکمل طور پر بلاک کردیئے گئے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ دفتری اوقات کے بعد سسٹم کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے ایپلی کیشن سرور بند رہے گا اور دفتری اوقات کے بعد کوئی امتحان نہیں ہوسکے گا ۔

انہوں نے کہا کہ امتحانات ہالوں میں نیٹ ورک پرنٹرز لگائے گئے ہیں جہاں مارکس شیٹ پر امتحان لینے والے اور امتحان دینے والے دونوں دستخط کریں گے۔

امتحاناتی ورک سٹیشن کو مالیشیئس کوڈ، مالویئر اور وائرس سے بچانے کے لیے ایک اینٹی وائرس سسٹم لگایا گیا تھا اس کے علاوہ بائیو میٹرک تصدیق کے لیے امتحانی سسٹم کو موجودہ رننگ سسٹم کے ساتھ مربوط کردیا گیا تھا۔

مزید برآں رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سی سی ٹی وی کیمرا سسٹم کراچی اور اسلام آباد میں امتحانی کمرے کی مانیٹرنگ کے لیے لگایا گیا تھا۔

سی اے اے نے وفاقی حکومت کے کنٹرولنگ ڈویژن کے ذریعے قومی ڈیٹا بیس اور رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) سے درخواست کی ہے کہ وہ تکنیکی امتحان کے لیے خودکار بائیو میٹرک شناختی حل (اے بی آئی ایس) تیار کرے جس سے غیر مجازی رسائی کا امکان کم ہوسکے۔

جعلی لائسنس سے متعلق ایوی ایشن نے کہا کہ جعلی لائسنس والے پائلٹس نے ریکارڈ میں ردو بدل سمیت امتحان میں حصہ نہیں لیا تھا اور 54 جعلی لائسنس والے پائلٹس کا لائسنس معطل کر کے دوبارہ تصدیق کی جارہی ہے۔

رپورٹ کے مطابق پی آئی اے کے 141، سیرین کے 10 اور ایئر بلیو کے 9 پائلٹس علاوہ 102 دیگر پائلٹس کو بھی گروانڈ کر دیا گیا ہے۔

سی اے اے نے عدالت کو رپورٹ میں بتایا کہ پی آئی اے کے 6 اور سابق شاہین ایئر لائن کے 2 پائلٹس کی ڈگریاں جعلی نکلیں جبکہ چند پائلٹس نے ایف اے اور او لیول کے جعلی سرٹیفیکیٹس بھی جمع کرا رکھے تھے۔

سپریم کورٹ کو بتایا گیا ہے کہ وفاقی حکومت کو 54 میں سے 28 پائلٹس کے لائسنس منسوخ کرنے کی سمری بھیج دی گئی ہے جبکہ 208 مشتبہ لائسنس رکھنے والے پائلٹس میں سے 34 کی معطلی کے احکامات جاری ہوچکے ہیں۔

سی اے اے نے کہا ہے کہ مستقبل میں جعلی لائسنس سے بچنے اور بائیو میٹرک تصدیق کے لیے نادرا کو درخواست بھیج دی گئی اور امتحان لینے کے لیے سی سی ٹی وی کیمرے سمیت جدید ٹیکنالوجی کو استعمال کیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں: ملائیشیا نے سی اے اے سے لائسنس کی تصدیق کے منتظر پاکستانی پائلٹس کو معطل کردیا

پائلٹس سے متعلق معاملات سامنے آنے کے بعد کیے گئے فیصلوں سے آگاہ کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ کمرشل اور ایئر ٹرانسپورٹ لائسنس کے لیے ہائر سیکنڈری (ایف اے) اور ایف ایس سی تک تعلیم لازمی قرار دی گئی ہے۔

اسی طرح کمرشل پائلٹ لائسنس کے لیے 200 گھنٹے جہاز اڑانے کا تجربہ اور 3 گھنٹے فلائٹ ٹیسٹ لیا جائے گا۔

سول ایوی ایشن نے کہا کہ ایئر ٹرانسپورٹ لائسنس کے لیے 1500 گھنٹے جہاز اڑانے اور 4 گھنٹے فلائٹ ٹیسٹ لازمی ہوگا، اس کے ساتھ ساتھ پائلٹس کو لائسنس کے حصول کے لیے 8 مختلف پرچے بھی دینا ہوں گے۔

خیال رہے کہ 25 جون کو گزشتہ سماعت پر سپریم کورٹ نے سی اے اے کے ڈائریکٹر جنرل کو طلب کیا تھا اور مختلف ایئرلائنز کے مسافر طیارے اڑانے والے پائلٹوں کو مشکوک / جعلی لائسنس جاری کرنے سے متعلق وضاحت طلب کی تھی جس سے لوگوں کی زندگیاں داؤ پر لگیں۔

واضح رہے کہ وزیر ہوا بازی غلام سرور خان نے گزشتہ ماہ قومی اسمبلی میں انکشاف کیا تھا کہ پاکستانی پائلٹس کی بڑی تعداد کے پاس جعلی لائسنس ہیں جس کے بعد متعدد ممالک کی جانب سے پی آئی اے کی پروازوں پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔

یورپی یونین اور برطانیہ نے فوری طور پر پابندی کا اعلان کیا تھا جس کے بعد اقوام متحدہ اور دیگر ممالک کی جانب سے بھی احکامات جاری کیے گئے تھے۔

امریکا نے دو روز قبل پی آئی اے کی خصوصی پروازوں پر پابندی کا فیصلہ کیا تھا جبکہ رواں برس اپریل میں پی آئی اے کو ایک سال کے لیے براہ راست پروازوں کی اجازت مل گئی تھی۔

ترجمان پی آئی اے عبداللہ خان نے اجازت نامے کی منسوخی کی تصدیق کرتے ہوئے کہا تھا کہ اجازت نامے کے تحت پی آئی اے کی 6 پروازیں آپریٹ ہوچکی تھیں۔

عبداللہ خان نے بتایا تھا کہ پی آئی اے کو حاصل خصوصی اجازت کے تحت امریکا کے لیے 12 پروازوں کی منظوری دی گئی تھی۔

مزید پڑھیں: پائلٹس کے 'مشکوک لائسنسز' سے پی آئی اے، سی اے اے کی ساکھ متاثر

امریکا کے لیے پروازوں کی معطلی کی وجہ کے بارے میں انہوں نے بتایا تھا کہ پروازوں کا اجازت نامہ پائلٹس کے مشتبہ لائسنسز اور سول ایوی ایشن اتھارٹی کی کارروائی کے باعث منسوخ کیا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ اجازت نامہ منسوخ کیے جانے کی ای میل موصل ہو چکی ہے تاہم امریکی اعتراضات دور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

پائلٹس کے 'مشکوک' لائسنسز کا معاملہ

خیال رہے کہ پائلٹس کے مشکوک یا جعلی لائسنسز کے معاملے کا آغاز 24 جون کو ہوا جب قومی اسمبلی میں کراچی مسافر طیارہ حادثے کی تحقیقاتی رپورٹ پیش کرتے ہوئے وفاقی وزیر ہوا بازی غلام سرور خان نے کہا تھا کہ 860 پائلٹس میں سے 262 ایسے پائے گئے جن کی جگہ کسی اور نے امتحان دیا تھا۔

جس کے بعد پاکستان نے 26 جون کو امتحان میں مبینہ طور پر جعل سازی پر پائلٹس کے لائسنسز کو 'مشکوک' قرار دیتے ہوئے انہیں گراؤنڈ کردیا تھا۔

غلام سرور خان نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ 'جن پائلٹس پر سوالات اٹھائے گئے ہیں وہ 262 ہیں، پی آئی اے میں 141، ایئربلیو کے 9، 10 سرین، سابق شاہین کے 17 اور دیگر 85 ہیں'۔

جس کے بعد پی آئی اے کی انتظامیہ نے اپنے 150 پائلٹس کو گراؤنڈ کرنے (کام کرنے سے روکنے) کا فیصلہ کیا تھا۔

29 جون کو ویتنام کی ایوی ایشن اتھارٹی نے عالمی ریگولیٹرز کی جانب سے پائلٹس کے ’مشکوک لائسنس‘ رکھنے کی تشویش پر مقامی ایئرلائنز کے لیے تمام پاکستانی پائلٹس کو گراؤنڈ کردیا تھا۔

اگلے روزیورپین یونین ایئر سیفٹی ایجنسی (ایاسا) نے پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز کے یورپی ممالک کے فضائی آپریشن کا اجازت نامہ 6 ماہ کے لیے عارضی طور پر معطل کردیا تھا جس پر 3 جولائی سے اطلاق ہوا۔

اسی روز اقوام متحدہ کے ڈپارٹمنٹ آف سیفٹی اینڈ سیکیورٹی (یو این ڈی ایس ایس) نے پاکستانی ایئرلائن کو اپنی 'تجویز کردہ فہرست' سے ہٹا دیا تھا۔

جس کے بعد یکم جولائی کو برطانیہ کی سول ایوی ایشن اتھارٹی نے اپنے 3 ایئرپورٹس سے پی آئی اے کی پروازوں پر پابندی لگانے کا اعلان کیا تھا جبکہ متحدہ عرب امارت نے بھی سول ایوی ایشن اتھارٹی سے مختلف فضائی کمپنیوں میں کام کرنے والے پاکستانی پائلٹس اور انجینئرز کے کوائف کی تصدیق کی درخواست کی تھی۔

اس کے بعد 3 جولائی کو ملائشیا کے ایوی ایشن ریگولیٹر نے پاکستانی لائسنس رکھنے والے اور مقامی ایئر لائنز میں ملازمت کرنے والے پائلٹس کو عارضی طور پر معطل کردیا تھا۔

جس کے بعد 4 جولائی کو وزیر ہوا بازی غلام سرور خان نے کہا تھا کہ انکوائری مکمل ہونے کے بعد مزید 30 ’مشتبہ لائسنس' کے حامل پائلٹس کو اظہار وجوہ کے نوٹسز بھیجے جاچکے ہیں۔

7 جولائی کو یورپی یونین ایوی ایشن سیفٹی ایجنسی (ایاسا) نے 32 رکن ممالک کو 'پاکستان میں جاری کردہ پائلٹ لائسنسز سے متعلق مبینہ فراڈ' کے حوالے سے خط لکھا اور ان پائلٹس کو فلائٹ آپریشن سے روکنے کی سفارش کی تھی۔

اسی روز سول ایوی ایشن اتھارٹی نے 'مشکوک' لائسنسز سے متعلق انکوائریاں مکمل ہونے کے بعد پی آئی اے کے 34 پائلٹس کے کمرشل فلائنگ لائسنسز معطل کردیے تھے۔