آیا صوفیہ کو مسجد میں تبدیل کرنے پر تنقید کو ترک صدر نے مسترد کردیا

اپ ڈیٹ 12 جولائ 2020

ای میل

ترک صدر نے جمعے کے روز اعلان کیا تھا کہ یونیسکو کے عالمی ورثہ قرار دیے گئے آیا صوفیہ میں 24 جولائی سے مسلمان نماز پڑھ سکیں گے۔ فائل فوٹو:اے ایف پی
ترک صدر نے جمعے کے روز اعلان کیا تھا کہ یونیسکو کے عالمی ورثہ قرار دیے گئے آیا صوفیہ میں 24 جولائی سے مسلمان نماز پڑھ سکیں گے۔ فائل فوٹو:اے ایف پی

استنبول: ترک صدر رجب طیب اردوان نے ہفتے کے روز بازنطینی دور کی یادگار آیا صوفیہ کو مسجد میں تبدیل کرنے کے ترکی کے فیصلے پر عالمی سطح پر مذمت کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس فیصلے میں ان کے ملک کی 'خودمختار حقوق' کے استعمال کا اظہار کیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ ترک صدر نے جمعے کے روز اعلان کیا تھا کہ یونیسکو کے عالمی ورثہ قرار دیے گئے آیا صوفیہ میں 24 جولائی سے مسلمان نماز پڑھ سکیں گے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق ناقدین کا کہنا تھا کہ ترک صدر مسلم اکثریتی ملک کے سیکولر ستونوں کو ختم کررہے ہیں۔

ماضی میں انہوں نے کئی مرتبہ اس اہم ترین عمارت کو مسجد بنانے کا مطالبہ کیا تھا۔

رجب طیب اردوان نے ویڈیو کانفرنس کے ذریعے ایک تقریب میں شرکت کی جہاں انہوں نے کہا کہ 'جو لوگ اپنے ممالک میں اسلامو فوبیا کے خلاف کوئی قدم نہیں اٹھاتے وہ ترکی کے خود مختار حقوق کو استعمال کرنے کے حق پر حملہ کرتے ہیں'۔

مزید پڑھیں: آیا صوفیہ کو مسجد بنانے پر عالمی چرچ کونسل کا اظہار افسوس

دنیا بھر کے سیاحوں کے لیے اہم مقام آیا صوفیہ کو پہلی بار عیسائی بازنطینی سلطنت میں ایک گرجا گھر کے طور پر تعمیر کیا گیا تھا تاہم سن 1453 میں سلطنت عثمانیہ کے قسطنطنیہ پر فتح کے بعد سے اسے مسجد میں تبدیل کردیا گیا تھا۔

رجب طیب اردوان کا یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا جب 1934 میں ترکی کی جدید سیکولر ریاست کے بانی مصطفی کمال اتاترک کے دور حکومت میں سلطنت عثمانیہ کے دور کی مسجد کو میوزیم میں تبدیل کرنے کے کابینہ کے فیصلے کو ترکی کی اعلی عدالت نے منسوخ کردیا تھا۔

عدالت نے فیصلہ سنایا کہ 'کنونشن میں (عالمی ثقافتی اور قدرتی ورثہ کے تحفظ سے متعلق) ایسی کوئی شقیں موجود نہیں ہیں جو مقامی قانون کے مطابق آیا صوفیہ کے استعمال کو روکتی ہیں'۔

اس کے بعد رجب طیب اردوان نے صدارتی حکم نامے پر دستخط کیے جس میں 'آیا صوفیہ مسجد' کا کنٹرول ترکی کے مذہبی امور کے ڈائریکٹوریٹ دیانت کے حوالے کردیا گیا۔

ترک رہنما کا کہنا تھا کہ 'ہم نے یہ فیصلہ اس بات پر نہیں کیا کہ دوسرے کیا کہتے ہیں بلکہ یہ دیکھ کر کیا ہے کہ ہمارا حق کیا ہے اور ہماری قوم کیا چاہتی ہے، بالکل اسی طرح جیسے ہم نے شام، لیبیا اور کہیں اور کیا تھا'۔

ترک صدر نے نیٹو اتحادی امریکا اور روس سے اپیلوں کے باوجود اس منصوبے کو آگے بڑھایا جس کے ساتھ انقرہ نے حالیہ برسوں میں قریبی تعلقات استوار کیے۔

یونان نے اس اقدام کو اشتعال انگیز قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی جبکہ فرانس نے اس پر ناراضی کا اظہار کیا اور امریکا نے بھی مایوسی کا اظہار کیا۔

روس کے نائب وزیر خارجہ الیگزنڈر گروشکو نے کہا ماسکو کو اس فیصلے پر افسوس ہے۔

انہوں نے انٹرفیکس نیوز ایجنسی کو بتایا کہ 'یہ گرجا گھر ترکی کی سرزمین پر ہے تاہم اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ ہر کسی کے لیے ایک ورثہ ہے'۔

یہ بھی پڑھیں: آیا صوفیہ عدالتی فیصلے کے بعد دوبارہ مسجد بن گیا، ترک صدر

روسی آرتھوڈوکس چرچ کا کہنا تھا کہ ہمیں افسوس ہے کہ عدالت نے فیصلہ دیتے ہوئے تشویش کو مدنظر نہیں رکھا اور اس فیصلے سے بڑے اختلافات جنم لے سکتے ہیں۔

دنیا بھر کے 30 کروڑ آرتھوڈوکس عیسائیوں کے روحانی پیشوا کا کہنا تھا کہ عمارت کو مسجد میں تبدیل کرنے سے عیسائیوں کو مایوسی ہوگی اور مشرق اور مغرب میں تقسیم ہوگی۔

گرجا گھروں کی عالمی کونسل نے ترکی کے صدر رجب طیب اردوان سے مطالبہ کیا کہ وہ آیا صوفیہ میوزیم کو مسجد میں تبدیل کرنے کے اپنے فیصلے کو واپس لے۔

دی ورلڈ کونسل آف چرجز، 350 گرجا گھروں کی نمائندگی کرتی ہے جس نے ترک صدر کو لکھے گئے مراسلے میں کہا کہ 'میوزیم کو مسجد میں بدلنے سے تفریق کی فضا قائم ہوگی'۔

تاہم جرمن مارشل فنڈ کے انقرہ کے ڈائریکٹر اوزگور انلوحسیرکلی نے کہا کہ اس اقدام سے عوام کا دل و دماغ جیت لیا جائے گا کیونکہ بیشتر ترک 'مذہبی یا قوم پرست جذبات کے ایسے فیصلے کے حامی ہوں گے'۔

انہوں نے کہا کہ یہ ایک ایسی بحث ہے جسے صدر اردوان ہار نہیں سکتے اور اپوزیشن جیت نہیں سکتی، حقیقت میں یہ مسئلہ اپوزیشن جماعتوں کا اتحاد ختم کرنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے'۔

مزید پڑھیں: طیب اردوان کا مسلمانوں، عیسائیوں کے درمیان متنازع مقام کو مسجد بنانے کا فیصلہ

ترک صدر کے قوم پرست اتحادی ڈیولیٹ باہسیلی نے اس فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ آیا صوفیہ کو دوبارہ مسلمان عبادت گاہ کے طور پر کھولنے کی 'ہماری خواہش طویل عرصے سے ہے'۔

جمعہ کے روز سامنے آنے والے فیصلے کے بعد سیکڑوں افراد مشہور عمارت کے باہر جمع ہوئے اور شام کی نماز ادا کی جبکہ ہفتے کے روز پولیس نے آیا صوفیہ کے اطراف میں رکاوٹیں کھڑی کردی تھیں۔

ترک صدر نے یقین دہانی کرائی کہ آیا صوفیہ غیر مسلمانوں سمیت تمام زائرین کے لیے کھلا رہے گا۔

ان کے معاون برائے میڈیا فرحتین التون نے ٹوئٹ کیا کہ 'آیا صوفیہ کے دروازے پوری دنیا کے زائرین کے لیے کھلے رہیں گے'۔

ان کا کہنا تھا کہ 'تمام مذہبی طبقات کے لوگوں کو اس کا دورہ کرنے کے لیے خیرمقدم اور حوصلہ افزائی کرتے ہیں، بالکل اسی طرح جیسے وہ نیلی مسجد سمیت دیگر مساجد کا دورہ کرسکتے ہیں'۔