چین میں امریکی شہریوں کی بے ضابطہ حراست کے خطرات بڑھ گئے ہیں، امریکا

اپ ڈیٹ 12 جولائ 2020

ای میل

چین نے ہانگ کانگ کے لیے متنازع سیکیورٹی قانون منظور کر لیا تھا— فائل فوٹو: اے ایف پی
چین نے ہانگ کانگ کے لیے متنازع سیکیورٹی قانون منظور کر لیا تھا— فائل فوٹو: اے ایف پی

چین اور امریکا کے درمیان ہانگ کانگ، سنکیانگ اور تبت پر بڑھتے ہوئے تناؤ پر امریکا نے اپنے شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ ان کی چین میں من مانی حراست کے خطرات بڑھ گئے ہیں۔

امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ نے سیکیورٹی الرٹ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ چین میں امریکی شہریوں کو اسٹیٹ سیکیورٹی کی بنیاد پر لمبی تفتیش اور طویل حراست کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

مزید پڑھیں: ہانک کانگ: جمہوریت کے حامی مصنفین کی کتابیں لائبریریوں سے ہٹا دی گئیں

اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ نے کہا کہ قانون کی عملداری یقینی بنانے کی نہیں بلکہ چینی حکام مقامی قانون کے تحت جبری طور پر ملک سے باہر جانے پر پابندی عائد کی جا سکتی ہے۔

بیجنگ اور واشنگٹن حالیہ عرصے میں کورونا وائرس کی وبا، تبت اور سنکیانگ کے مغربی علاقوں میں چینی پالیسیوں کے ساتھ ساتھ چینی حکام پر امریکا کی جانب سے عائد کی گئی پابندیوں کے معاملات پر ایک دوسرے پر الزامات عائد کرتے رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: چین نے ہانگ کانگ کیلئے متنازع قومی سلامتی کے قانون کی منظوری دے دی

چین نے گزشتہ ماہ جون میں ہانگ کانگ کے لیے متنازع سیکیورٹی قانون منظور کیا تھا جس پر عالمی برادری نے اپنے تحفظات کا اظہار کیا تھا جہاں اس قانون کے تحت چینی حکومت کے خلاف دنیا بھر میں کہیں بھی کچھ بھی بولنے پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔


یہ خبر 12 جولائی بروز اتوار کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی۔