کراچی: تازہ دودھ، آٹے اور سبزیوں کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ

اپ ڈیٹ 13 جولائ 2020

ای میل

دودھ کی فی لیٹر قیمت 120 روپے ہوگئی—فائل فوٹو: رائٹرز
دودھ کی فی لیٹر قیمت 120 روپے ہوگئی—فائل فوٹو: رائٹرز

کراچی: حکومت کی رٹ اور قیمتوں کو چیک کرنے کے لیے کوئی مؤثر نظام نہ ہونے کی وجہ سے شہرقائد میں اسٹیک ہولڈرز نے دودھ کی فی لیٹر قیمت میں 10 روپے جبکہ دہی کی قیمت میں 20 روپے فی کلو کا اضافہ کردیا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق تازہ دودھ کی قیمت 10 روپے فی لیٹر اضافے سے 120 روپے فی لیٹر جبکہ دہی کی قیمت 20 روپے فی کلو کے اضافے سے 180 روپے کلو ہوگئی۔

خیال رہے کہ فی من یا 37.5 لیٹر 330 روپے اضافے سے 3 ہزار 840 روپے ہونے کے بعد اسٹیک ہولڈرز نے پہلے ہی 7 جولائی کو دودھ کی قیمت 120 روپے فی لیٹر تک کرنے سے متعلق خبردار کردیا تھا۔

اس سے قبل شہر میں گزشتہ برس دودھ کی سرکاری قیمت 94 روپے فی لیٹر مقرر کیے جانے کے باوجود یہ 110 روپے فی لیٹر میں فروخت ہورہا تھا۔

مزید پڑھیں: لاک ڈاؤن کے باعث طلب کم ہونے پر دودھ کی قیمتوں میں نمایاں کمی

تاہم ماضی کی پریکٹس کے طور پر کمشنر کراچی کی جانب سے دودھ کے اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مذاکرات کا اعلان کیا جائے گا لیکن کچھ وقت کے ساتھ معاملے کو نطر انداز کردیا جائے گا اور پھر صارفین کو اضافی قیمت ادا کرنا پڑے گی۔

دوسری جانب شہر میں تازہ دودھ کی قیمت میں اضافے کا دفاع کرتے ہوئے ڈیری کیٹل فارمرز ایسوسی ایشن کے صدر شاکر عمر گجر کا کہنا تھا کہ حکومت بڑھتی ہوئی لاگت، خوراک کی افراط زر اور یوٹیلیٹی چارجز وغیرہ میں اضافے کا احساس نہیں کر رہی تھی۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس وقت ایک بھینس 3 لاکھ روپے کی دستیاب ہے جو گزشتہ برس ایک لاکھ 30 سے 40 ہزار روپے تک تھی۔

انہوں نے کہا کہ فارمرز، ہول سیلرز اور ریٹیلر کی جانب سے یکطرفہ طور پر قیمت میں اضافے کے بعد کمشنر کی جانب سے منگل کو اجلاس بلایا گیا ہے تاکہ قیمتوں پر بات چیت کی جائے۔

ادھر آل کراچی ملک ریٹیلرز ویلفیئرز ایسوسی ایشن کے میڈیا کوآرڈینیٹر عبدالوحید گدی کا کہنا تھا کہ ہول سیل مارکیٹ میں قیمتوں میں اضافے کے بعد کراچی میں 90 فیصد ریٹیلر 120 روپے فی لیٹر میں تازہ دودھ فروخت کر رہے ہیں۔

گندم کا آٹا

ایک طرف جہاں دودھ کی قیمتوں میں اضافہ ہوا وہی گندم کے آٹے کی قیمت کو پر لگ گئے۔

دو روز قبل فلور ملز مالکان نے ڈھائی نمبر آٹے کی قیمت 46 روپے 50 پیسے سے بڑھا کر 48 روپے فی کلو کردی جبکہ 10 کلو آٹے کے تھیلے کی قیمت 475 روپے سے بڑھا کر 485 روپے مقرر کردی۔

اپریل کے آخری ہفتے سے لے کر اب تک فلور ملز مالکان نے صوبائی محکمہ صحت کے حکام کی جانب سے اندرون سندھ سے کراچی آنے والی گندم کی گاڑیوں کو نہ چھوڑنے کی وجہ سے اوپن مارکیٹ میں گندم کی قیمت میں اضافے جیسے مختلف بہانوں سے ڈھائی نمبر آٹے کی قیمت میں ساڑھے 12 روپے تک کا اضافہ کیا۔

بعد ازاں فلور ملز مالکان کی جانب سے گندم کی پنجاب اور بلوچستان نقل و حمل کی وجہ سے کراچی اور حیدرآباد میں آٹے اور گندم کے سنگین بحران پر خبردار کیا گیا تھا۔

ساتھ ہی انہوں نے مطالبہ کیا تھا سندھ سے گندم کی پنجاب اور بلوچستان نقل و حرکت کو روکنے کے لیے سرحدوں کو سیل کرنے کے لیے سخت اقدامات کیے جائیں۔

یہ بھی پڑھیں: افراط زر کے دباؤ کی وجہ غذائی اشیا کی قیمتوں میں اضافہ ہے، اسٹیٹ بینک

خیال رہے کہ سندھ کی سال 20-2019 کے لیے گندم کی خریداری 30 جون 2020 کو ختم ہوگئی تھی اور کاشتکاروں سے فی 100 بیگ پر 3500 روپے کے ریٹ مقرر ہوئے تھے۔

تاہم چیئرمین پاکستان فلو ملز ایسوسی ایشن سندھ زون کے چیئرمین خالد مسعود کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت نے مبینہ طور پر 14 لاکھ ٹن کے مقابلے میں 12 لاکھ 35 ہزار ٹن گندم پیدا کی۔

انہوں نے اوپن مارکیٹ میں گندم کی قیمتوں میں اضافے کو آٹے کی قیمتوں سے جوڑتے ہوئے بتایا کہ اپریل میں مارکیٹ میں فی 100 کلو کا تھیلا 3500 سے بڑھ کر 4500 روپے ہوگیا۔

سبزیاں

دودھ اور آٹے کی قیمتوں کے علاوہ شہر قائد میں سبزیوں کی بھی زائد نرخ پر فروخت جاری ہے۔

کئی دکانداروں کی جانب سے پیاز 40 روپے کلو کے بجائے 50 روپے کلو فروخت کیا جارہا ہے جبکہ ٹماٹر کی قیمت بھی 80 سے 100 روپے فی کلو کے درمیان ہے جبکہ گزشتہ ہفتے یہ 120 روپے فی کلو تک پہنچ گیا تھا۔

یہی نہیں بلکہ آلو کی قیمت بھی بڑھ گئی ہے اور یہ مارکیٹ میں 50 روپے کے بجائے 60 روپے فی کلو میں فروخت ہورہا ہے اس کے علاوہ لوکی کی قیمت 80 روپے سے بڑھ کر 100 اور 120 تک جا پہنچی ہے۔

اس کے علاوہ کریلا بھی 60 سے 70 روپے فی کلو سے بڑھ کر 100 روپے تک پہنچ گیا ہے جبکہ 60 روپے کلو ملنے والی گوبھی بھی 80 روپے تک پہنچ گئی ہے۔

مزید یہ کہ شہر میں ترئی کی قیمت بھی 80 روپے کلو سے بڑھ کر 100 روپے کلو ہوگئی۔