سانحہ اے پی ایس: شہید طلبہ کے والدین کی اُمیدیں سپریم کورٹ سے وابستہ

اپ ڈیٹ 13 جولائ 2020

ای میل

اجون خان کے مطابق  انکوائری رپورٹ ایک عوامی دستاویز ہے اور اسے خفیہ نہیں رکھا جانا چاہیے — فوٹو:ا ے پی پی
اجون خان کے مطابق انکوائری رپورٹ ایک عوامی دستاویز ہے اور اسے خفیہ نہیں رکھا جانا چاہیے — فوٹو:ا ے پی پی

سانحہ آرمی پبلک اسکول (اے پی ایس) کی تحقیقات کے لیے ایک رکنی انکوائری کمیشن کی جانب سے حال ہی میں مکمل کی جانے والی جوڈیشل انکوائری کے بعد 2014 میں ہونے والے سانحے میں شہید ہونے والے طلبہ کے والدین اور خاندان کے دیگر افراد کی اُمیدیں سپریم کورٹ آف پاکستان سے وابستہ ہوگئی ہیں۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق انہوں نے مذکورہ انکوائری کے ساتھ بہت سی توقعات وابستہ کرلی ہیں، انہیں امید ہے کہ اس رپورٹ کو منظر عام پر لایا جائے گا اور ان عہدیداروں کے خلاف کارروائی کی جائے گی جن کی لاپروائی کے نتیجی میں ملک میں دہشت گردی کے بدترین واقعات میں سے ایک کی صورت میں نکلا جس میں 147 افراد، اکثر طلبہ شہید ہوگئے تھے۔

تقریباً 20 ماہ تک وسیع پیمانے پر کارروائی کے بعد کمیشن کے پریزائیڈنگ افسر جسٹس محمد ابراہیم نے 9 جولائی کو چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس گلزار احمد کو رپورٹ پیش کی تھی۔

مزید پڑھیں: سانحہ اے پی ایس کو کبھی فراموش نہیں کیا جائے گا، آرمی چیف   خیال رہے کہ سپریم کورٹ کے حکم پر 12 اکتوبر، 2018 کو پشاور ہائی کورٹ نے کمیشن تشکیل دیا تھا اور یہ کمیشن 19 اکتوبر 2018 کو فعال ہوا تھا۔

انکوائری کمیشن کے ترجمان نے صحافیوں کو بتایا تھا کہ انہوں نے 132 افراد کے بیانات ریکارڈ کیے تھے جن میں 31 پولیس اور فوج کے افسران تھے جبکہ دیگر 101 گواہان تھے جن میں زخمی طلبہ اور شہید بچوں کے والدین شامل تھے۔

ترجمان نے بتایا تھا کہ کمیشن نے پولیس اور سیکیورٹی ایجنسیز کی جانب سے کی جانے والے مختلف تحقیقات کا بھی جائزہ لیا تھا۔

اے پی ایس شہدا فورم کے صدر اجون خان نے کہا کہ 'میں آئندہ چند روز میں سپریم کورٹ میں درخواست دائر کروں گا اور چیف جسٹس آف پاکستان سے اپیل کروں گا کہ ہمیں انکوائری رپورٹ کی کاپی فراہم کی جائے تاکہ ہمیں کمیشن کی تحقیقات کا علم ہوسکے'۔

انہوں نے کہا کہ چونکہ ان کے مطالبے پر کمیشن قائم کیا گیا تھا اس لیے یہ ان کا حق ہے کہ وہ اس رپورٹ کی کاپی وصول کریں۔   اجون خان نے ڈان کو بتایا کہ انکوائری رپورٹ ایک عوامی دستاویز ہے اور اسے خفیہ نہیں رکھا جانا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ ہم توقع کر رہے ہیں کہ سپریم کورٹ بھی کمیشن کے نتائج کی روشنی میں ہمیں سننے کے لیے ایک بینچ تشکیل دے گا۔

مزید پڑھیں: سانحہ اے پی ایس: ’کمیشن نے عدالت عظمیٰ میں سربمہر رپورٹ جمع کرادی‘   اجون خان، جن کا بیٹا اے پی ایس کا طالب علم تھا اور اس واقعے میں شہید ہوا تھا ، انہوں نے کہا کہ کمیشن کی شرائط ایک خاص مسئلے تک ہی محدود نہیں تھیں اور شہید طلبہ کے والدین کی تشویش کا بڑا مسئلہ یہ تھا کہ اس سانحے کی ذمہ داری غفلت کے مرتکب عہدیداروں پر عائد ہونے چاہیے۔   سانحے سے متعلق والدین کے علم میں ایک خفیہ خط کی بات آئی تھی جس میں 28 اگست 2014 کو نیشنل کاؤنٹر ٹیرارزم اتھارٹی (نیکٹا) نے مختلف صوبائی اور وفاقی حکام کو آگاہ کیا تھا کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) آرمی پبلک اسکول اور کالج اور پاک فوج کی جانب سے چلائے جانے والے دیگر تعلیمی اداروں پر حملے کی منصوبہ بندی کررہی ہے تاکہ فوجی افسران کے زیادہ سے زیادہ بچوں کو قتل کرکے اپنے ساتھیوں کے قتل کا بدلہ لیا جاسکے۔

کمیشن نے اہم فوجی افسران کے بیانات ریکارڈ کیے تھے ان میں پشاور کور کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل ہدایت الرحمٰن، اس وقت کے آرمی پبلک ایجوکیشنل انسٹی ٹیوشنز (اے پی ای آئی) کے چیئرمین بی او جی بریگیڈیئر مدثر اعظم، 102 بریگیڈ کے افسر، ایچ کیو-11 کور، بریگیڈیئر عنایت اللہ، میڈیکل کور کے میجر ڈاکٹر عاصم شہزاد اور سیکریٹری بی او جی کرنل حضرت بلال شامل تھے۔

اسی طرح کمیشن نے اعلی رینک کے پولیس حکام کے بیانات بھی ریکارڈ کیے تھے جن میں 2 سابق صوبائی پولیس افسران صلاح الدین محسود اور ناصر درانی، اس وقت کے ڈی آئی جی کاؤنٹر ٹیرارزم ڈپارٹمنٹ محمد عالم شنواری، اس وقت کے سیکریٹری داخلہ و محکمہ قبائلی امور اختر علی شاہ اور اس وقت کے کیپٹل سٹی افسر اعجاز خان، اس وقت کے ایس پی کینٹ فیصل شہزاد اور ایس پی سٹی مصطفیٰ تنویر اور دیگر شامل تھے۔

مختلف وجوہات، خاص طور پر سرحد پر پاک بھارت کشیدگی کے باعث کمیشن کی کارروائیوں کو کچھ وقت کے لیے مؤخر کرنا پڑا تھا۔

یاد رہے کہ 16 دسمبر 2014 کو کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے 6 دہشت گردوں نے اے پی ایس پر بزدلانہ کارروائی کرتے ہوئے طلبہ سمیت 140 سے زائد افراد کو شہید کردیا تھا۔

سانحہ اے پی ایس کے بعد پاک فوج نے قبائلی علاقوں میں آپریشن ضربِ عضب کا آغاز کیا تھا اور حکومت نے دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے نیشنل ایکشن پلان کا آغاز کرنے کا اعلان کیا تھا۔

جس کے بعد اپریل 2018 میں بچوں کے والدین کی درخواست اور ان کی شکایات کے ازالے کے لیے اُس وقت کے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے ازخود نوٹس لیا تھا۔

مزید پڑھیں: سانحہ اے پی ایس کی تحقیقات کیلئے جوڈیشل کمیشن تشکیل

بعد ازاں 9 مئی 2018 کو چیف جسٹس کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے ایک بینچ نے سانحے کی تحقیقات کے لیے پشاور ہائی کورٹ کے جج پر مشتمل کمیشن بنانے کے لیے زبانی احکامات جاری کیے تھے تاہم ہائی کورٹ کو تحریری احکامات موصول نہیں ہوئے تھے جس کے باعث کمیشن تشکیل نہیں پایا تھا۔

عدالت عظمیٰ نے 5 اکتوبر 2018 کو کیس کی سماعت کے دوران کمیشن کی تشکیل کے لیے تحریری احکامات صادر کر دیئے تھے۔

جس کے بعد 14 اکتوبر 2018 کو پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے سپریم کورٹ کی ہدایات کی روشنی میں جسٹس محمد ابراہیم خان کی سربراہی میں اے پی ایس سانحے کی تحقیقات کے لیے عدالتی کمیشن تشکیل دیا تھا۔