بلاول کو جہاں مباحثہ کرنا ہے کرلیں، بس نو دو گیارہ نہ ہوں، مراد سعید

اپ ڈیٹ 13 جولائ 2020

ای میل

مراد سعید نے بلاول بھٹو زرداری کی گفتگو کو تنقید کا نشانہ بنایا — فوٹو: اسکرین شاٹ
مراد سعید نے بلاول بھٹو زرداری کی گفتگو کو تنقید کا نشانہ بنایا — فوٹو: اسکرین شاٹ

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما اور وفاقی وزیر مواصلات مراد سعید نے چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) بلاول بھٹو زرداری کی جانب سے میڈیا پر تنقید کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت آزادی اظہار رائے پر یقین رکھتی ہے۔

بلاول بھٹو زرداری کی پریس کانفرنس کے جواب میں اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مراد سعید نے کہا کہ تحریک انصاف آزادی اظہار رائے پر یقین رکھتی ہے، ہم اپنے صحافیوں اور میڈیا ہاؤسز کے ساتھ ہیں۔

مزید پڑھیں: مراد سعید نے اپوزیشن کو بڑا چیلنج کردیا

انہوں نے کہا کہ اگر آپ کی کسی جے آئی ٹی رپورٹ پر میڈیا پر بات ہوتی ہے تو اس پر میڈیا کو للکارنا، انسان بنو جیسے الفاظ کہنا غلط ہے اور ہم اس کی بھرپور مذمت کرتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے سب سے پہلے کہا تھا کہ میں خیبر پختونخوا حکومت کو چیلنج کرتا ہوں اور جس دن ان کا چیلنج آیا تھا، ہم نے 15منٹ کے اندر اسے تسلیم کیا تھا اور یہاں تک کہا تھا کہ تحریک انصاف کی خیبر پختونخوا میں حکومت کو 7سال ہو گئے اور آپ کی سندھ میں 3 نسلوں سے حکومت چل رہی ہے، تو آپ کو ہم دعوت دیتے ہیں کہ آپ خیبر پختونخوا آئیں اور ہم بھی سندھ آتے ہیں، آپ کو کارکردگی کا پتا چل جائے گا۔

مراد سعید کا کہنا تھا کہ بلاول نے کہا کہ میں مباحثے کا چیلنج دیتا ہوں لیکن ان کی اس بات پر پورے پاکستان کو ہنسی آ رہی تھی کیونکہ جب اسپیکر صاحب کہتے ہیں اور جب مجھے فلور پر گفتگو کا موقع ملتا ہے تو موصوف ہمیشہ نو دو گیارہ ہوتے ہیں، میں اسپیکر صاحب سے گزارش کرتا ہوں کہ جب بھی پارلیمنٹ کا اجلاس ہو تو قوم کا مطالبہ ہے کہ آپ پارلیمنٹ کے دروازے کچھ دیر کے لیے بند کیا کریں تاکہ ان کو انہی کے سامنے جواب بھی ملے، ان سے چند سوال بھی ہوں اور یہ راہ فرار اختیار نہ کریں۔

انہوں نے کہا کہ میں قوم کے سامنے ایک مرتبہ پھر چیلنج کرتا ہوں کہ میرے ورکر ہمیشہ اعتراض کرتے ہیں کہ وہ تو موروثی سیاست پر ایوان میں آیا اور اس کی کوئی سیاسی جدوجہد نہیں تو آپ اسے کیوں چیلنج کرتے ہیں لیکن پھر بھی آپ کی خواہش پوری کردیتا ہوں۔

یہ بھی پڑھیں: قومی اسمبلی میں پیپلزپارٹی کی شازیہ سومرو نے مراد سعید کی طرف ہیڈ فون پھینک دیا

پی ٹی آئی رہنما نے کہا کہ اگر پارلیمنٹ میں بحث کرنی ہے تو ایشو آپ کی مرضی کا ہو گا، ہم آپ کو پارلیمنٹ میں خوش آمدید کہتے ہیں لیکن گزارش اتنی سی ہے کہ جب آپ بات کریں تو نو دو گیارہ نہ ہوں۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر میڈیا کے سامنے بات کرنی ہے تو میں نے آپ کو یہ بھی دعوت دی تھی کہ امپائر بھی آپ کی مرضی کا ہوگا، آپ ڈھونڈیں، اگر کسی جلسے میں بات کرنی ہے، کسی میڈیا ہاؤس یا پروگرام میں بات کرنی ہے، کسی بھی جگہ مباحثہ کرنا ہے تو کر لیتے ہیں تاکہ قوم کو پتا چلے کہ آپ تو 3 نسلوں سے سندھ پر حکمرانی کر رہے ہیں اور جو پرچی لہرا کر ہمیشہ گفتگو کرتا ہے تو اس کا بھی پتا چلے اور سیاسی ورکر کا بھی پتا چلے۔

مراد سعید نے کہا کہ آج فرزند زرداری کرپشن کی بات کررہے تھے تو لوگ پوچھتے ہیں کہ سرے محل، 65 ملین ڈالر، ہار کی چوریاں، سندھ کی ترقی کا پیسہ کس طرح فیک اکاؤنٹس کی نذر ہوا، 7 سالوں میں سندھ کی صحت کا ساڑھے پانچ کھرب روپے کہاں گیا؟

انہوں نے کہا کہ لاڑکانہ میں بھوک و افلاس سے بچوں کی اموات ہو رہی ہے ان کی ترقی پر جو پیسہ لگنا تھا اب اس کے اوپر پوری جے آئی ٹی ہے جو اب پارلیمنٹ کے ریکارڈ کا بھی حصہ ہے اور آج وہ فرزند زرداری کرپشن کی بات کر رہے تھے۔

مزید پڑھیں: گورنر نیویارک کے حوالے سے مراد سعید کے دعوے کی حقیقت کیا ہے؟

تحریک انصاف کے رہنما نے کہا کہ عمران خان پاکستان کے وہ واحد لیڈر ہیں جو سپریم کورٹ کی طرف سے بھی صادق اور امین قرار دیے جا چکے ہیں، ان کے ابو کے اوپر کتنے کرپشن کے کیسز ہیں، فرزند زرداری کے اپنے صدقے کے بکرے، گھر کے اخراجات، سالگرہ کی تقریبات بھی جعلی اکاؤنٹس سے دیے جاتے ہیں اور یہاں تک کہ فرزند زرداری اور ایان علی کے ٹکٹ کے پیسے بھی ایک ہی اکاؤنٹ سے ادا کیے جاتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو صادق و امین جیسا لیڈر ملا تو آڈیٹر جنرل کی پہلے سال کی رپورٹ میں انہوں نے گھما پھرا کر بات کی لیکن پاکستان میں بے ضابطگیوں میں 98 فیصد کمی آ چکی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پی آئی اے 2008 تک منافع بخش ادارہ تھا، زرداری آ جاتے ہیں، پی آئی اے کا خسارہ بڑھتا جاتا ہے، 2013 سے 2018 میں خسارہ مزید بڑھ جاتا ہے۔

مراد سعید نے کہا کہ اسٹیل ملز 08-2007 تک منافع میں تھا، 09-2008 میں زرداری کی حکومت کا پہلا سال تھا اور اسٹیل ملز خسارے میں چلی گئی، پاکستان ریلوے ان کی حکومت میں خسارے میں چلی گئی، یہ تمام قومی ادارے ان کے دور میں خسارے میں چلے گئے اور آج ہم اصلاحات کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ نواز شریف اور ان کی حکومت میں کارکردگی کیا تھی، ،میں ان کے ہی دو وزرا کے بیان کا حوالہ دیتا چلوں کہ انہوں نے سابقہ حکومتوں کے بارے میں کہا کہ جو پی آئی اے خریدے گا، اسٹیل ملز اسے مفت میں دیا جائے گا، مطلب پہلے ادارے تباہ کرو، کرپشن کی نذر کردو، اپنی مرضی سے تعیناتیاں کرو، کمیشن کھاؤ اور اس کے بعد ادارے کی حالت یہ کردو کہ جو ایک ادارہ خریدے گا اس کو دوسرا ادارہ مفت میں دیا جائے گا۔

اس موقع پر انہوں نے کورونا پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پہلے دن سے یہ لاک ڈاؤن کا کہہ رہے تھے کیونکہ پوری دنیا میں لاک ڈاؤن کی بات ہو رہی تھی اور یہ غلام ذہنیت کے لوگ ہیں تو انہوں نے بھی یہی بات کی۔

یہ بھی پڑھیں: حکومت سندھ 8 برسوں میں ایسا ہسپتال نہ بناسکی جہاں آصف زرداری کا علاج ہوسکے، مراد سعید

تحریک انصاف کے رہنما نے کہا کہ یہ کہہ رہے تھے کہ کوئی بھوک سے نہیں مرتا لیکن آج اوکسفوم کی رپورٹ کہہ رہی ہے کہ کورونا کی نسبت بھوک سے زیادہ لوگ مریں گے، اس پر عمران خان اسمارٹ لاک ڈاؤن کی سوچ لے کر آئے جس پر انہوں نے شور مچایا لیکن آج دنیا کہہ رہی ہے کہ اسمارٹ لاک ڈاؤن ہی واحد حل ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ آج دنیا اسمارٹ لاک ڈاؤن کی سوچ کو سراہ رہی ہے جس پر انہیں دکھ ہوا کیونکہ یہ سمجھ رہے تھے کہ یا تو پاکستان کی معیشت بیٹھ جائے گی یا خدانخواستہ پاکستان میں بہت زیادہ اموات ہو جائیں گی لیکن پاکستان اس وقت ایشیا میں کورونا پر قابو اور کیسز کے پھیلاؤ کو روکنے والے ممالک میں شامل ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ بلاول نے عمران خان پر الزامات کی بوچھاڑ کی لیکن ایک شخص پر، جو پاکستان کے لیے ہمیشہ فخر کا سبب بنا، پاکستان کی اعلیٰ عدلیہ نے انہیں صادق اور امین ڈکلیئر کردیا جبکہ انہیں چور اور ڈاکو ایسے ہی نہیں کہتے بلکہ ان پر جے آئی ٹی کی رپورٹس بنی ہوئی ہیں لیکن یہ لوگ آ کر عمران خان پر گفتگو کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ سندھ کو اپنی جاگیر سمجھتے ہیں لیکن یہ ان کی جاگیر نہیں ہے، سندھ کا بھی اتنا حق پاکستان پر ہے جتنا باقی علاقوں کا ہے، چاہے یہ ناراض ہوں یا خوش ہوں لیکن عمران خان کا فیصلہ ہے کہ سندھ میں غربت زیادہ ہے جس کی وجہ سے جہاں غربت زیادہ ہو گی، احساس پروگرام میں ان کی شرح بڑھائیں گے اور وہاں کے عوام کو سب سے زیادہ پیسہ ملنے جا رہا ہے۔

مزید پڑھیں: ملک میں کورونا کیسز میں 1737، صحتیاب افراد کی تعداد میں 5 ہزار 217 کا اضافہ

ان کا کہنا تھا کہ 18ویں ترمیم کے بعد 62 فیصد فنڈز آپ کے پاس آتے ہیں لیکن آپ کراچی میں کام نہیں کر رہے تو ہم اس پر خاموش نہیں رہ سکتے، آپ کام نہیں کر رہے تو ہم کریں گے۔

واضح رہے کہ آج پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کی پالیسیز کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔

کراچی میں پیپلز پارٹی کے دیگر رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا تھا کہ پی ٹی آئی نے پاکستان کی خارجہ پالیسی کو سب سے زیادہ نقصان پہنچایا ہے اور اب ہماری معیشت اور جمہوریت کو جو نقصان پہنچا رہے ہیں وہ اب اس نکتے پر پہنچ چکا ہے کہ عمران خان کا وزیراعظم رہنا نہ صرف ہمارے جمہوریت، معیشت بلکہ ہر پاکستانیوں کی زندگی کے لیے خطرہ بن چکا ہے۔