سپریم کورٹ نے حکومت کو شوگر ملز مالکان کے خلاف کارروائی کی اجازت دے دی

اپ ڈیٹ 14 جولائ 2020

ای میل

حکومت نے 21 فروری کو ملک بھر میں چینی کے بحران کی تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل دی تھی— فائل فوٹو: پی آئی ڈی
حکومت نے 21 فروری کو ملک بھر میں چینی کے بحران کی تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل دی تھی— فائل فوٹو: پی آئی ڈی

سپریم کورٹ نے شوگر انکوائری رپورٹ پر عملدرآمد سے روکنے سے متعلق سندھ ہائی کورٹ کا حکم امتناع خارج کرتے ہوئے حکومت کو کمیشن کی سفارشات کی روشنی میں شوگر ملز مالکان کے خلاف کارروائی کی اجازت دے دی۔

چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس عالم خان میاں خیل پر مشتمل 3 رکنی بینچ نے مذکورہ کیس کی سماعت کی۔

مختصر فیصلے میں سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت کو قانون کے مطابق شوگر ملز مالکان کے خلاف کارروائی کی اجازت دے دی۔

مزید پڑھیں: اداروں کو شوگر مافیا کے خلاف کارروائی سے روکا نہیں جاسکتا، اسلام آباد ہائیکورٹ

عدالت عظمیٰ نے حکومت کو شوگر ملز مالکان کے خلاف غیر ضروری اقدامات نہ کرنے کی ہدایت کی اور اس کے ساتھ ہی سپریم کورٹ نے حکومتی عہدیداران کو شوگر کمیشن رپورٹ پر بیان بازی سے بھی روک دیا۔

سپریم کورٹ نے اسلام آباد اور سندھ ہائی کورٹس کو اس معاملے پر زیرِ سماعت مقدمات کے فیصلے 3 ہفتے کے اندر جاری کرنے کی ہدایت کردی۔

عدالت عظمیٰ نے کہا کہ عدالتی فیصلوں تک حکومت، شوگر ملز کے خلاف کوئی حتمی حکم نہیں جاری کر سکتی۔

خیال رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے اس حوالے سے کیس کا زبانی حکم جاری کیا تھا لیکن اس کا تفصیلی فیصلہ آنا باقی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: شوگر انکوائری کمیشن کی تشکیل کے نوٹیفکیشنز پر حکومت کٹہرے میں

سماعت کے دوران شوگر ملز کے وکیل نے اعتراض کیا تھا کہ حکومتی وزرا بیان بازی کرکے میڈیا ٹرائل کرتے ہیں جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے تھے کہ بیان بازی سیاسی معاملہ ہے زیادہ مداخلت نہیں کر سکتے۔

دوران سماعت اٹارنی جنرل نے کہا کہ یہ پہلا کمیشن ہے جس میں 2 وزرائے اعلی پیش ہوئے، وزیراعظم کے قریب ترین ساتھی کو بھی کمیشن میں پیش ہونا پڑا، کیا 20 شوگر ملز آسمان سے اتری ہیں جو ان کے خلاف کارروائی نہیں ہو سکتی؟

اٹارنی جنرل نے کہا کہ حکومت چینی کے بعد پیٹرولیم بحران پر بھی کمیشن بنا رہی ہے لیکن سندھ ہائی کورٹ نے جس طرح کارروائی سے روکا وہ ' قانون کے خلاف ' ہے، چاہتے ہیں پیٹرول کمیشن سے پہلے حکم امتناع والا مسئلہ حل ہو۔

سماعت کے دوران جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے کہ شفاف کام ہونا چاہیے تاکہ ملوث افراد کیفر کردار تک پہنچ سکیں، تکنیکی معاملات میں عوام کے مفاد کو پیچھے نہیں رہنے دیں گے۔

سپریم کورٹ کی جانب سے حکومت کو شوگر ملز مالکان کے خلاف کارروائی کی اجازت سے متعلق کیس کا تفصیلی فیصلہ بعد میں جاری کیا جائے گا۔

چینی بحران کی تحقیقات اور کارروائی کا معاملہ

خیال رہے کہ حکومت نے 21 فروری کو ملک بھر میں چینی کی قیمت میں یکدم اضافے اور اس کے بحران کی تحقیقات کے لیے انکوائری کمیٹی تشکیل دی تھی۔

کمیٹی کے سامنے تفتیش کے لیے پہلا سوال یہ تھا کہ ‘کیا رواں برس چینی کی پیداوار گزشتہ برس کے مقابلے میں کم تھی، کیا کم پیداوار ہی قیمت میں اضافے کی وجہ تھی’ اور کمیٹی سے کہا گیا تھا کہ وہ تفتیش کرے کہ ‘کیا کم از کم قیمت کافی تھی’ اور تیسرا سوال دیا گیا تھا کہ ‘کیا شوگر ملوں نے گنے کو مہنگا خریدا، اگر ہاں تو اس کی وجوہات معلوم کی جائیں’۔

بعدازاں چینی کے بحران کی تحقیقات کرنے والی کمیٹی نے 4 اپریل کو اپنی رپورٹ عوام کے سامنے پیش کی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ چینی کی برآمد اور قیمت بڑھنے سے سب سے زیادہ فائدہ جہانگیر ترین کے گروپ کو ہوا جبکہ برآمد اور اس پر سبسڈی دینے سے ملک میں چینی کا بحران پیدا ہوا تھا۔

انکوائری کمیٹی کی تحقیقات کے مطابق جنوری 2019 میں چینی کی برآمد اور سال 19-2018 میں فصلوں کی کٹائی کے دوران گنے کی پیدوار کم ہونے کی توقع تھی اس لیے چینی کی برآمد کا جواز نہیں تھا جس کی وجہ سے مقامی مارکیٹ میں چینی کی قیمت میں تیزی سے اضافہ ہوا۔

یہ بھی پڑھیں: سندھ ہائیکورٹ: شوگر انکوائری رپورٹ کی کارروائی پر حکم امتناع میں توسیع

جس کے بعد 21 مئی کو حکومت چینی بحران پر وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) کی تحقیقاتی رپورٹ کا فرانزک آڈٹ کرنے والے کمیشن کی حتمی رپورٹ منظرعام پر لائی تھی جس کے مطابق چینی کی پیداوار میں 51 فیصد حصہ رکھنے والے 6 گروہ کا آڈٹ کیا گیا جن میں سے الائنس ملز، جے ڈی ڈبلیو گروپ اور العربیہ مل اوور انوائسنگ، 2 کھاتے رکھنے اور بے نامی فروخت میں ملوث پائے گئے۔

معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر نے کہا تھا کہ انکوائری کمیشن کو مل مالکان کی جانب سے 2، 2 کھاتے رکھنے کے شواہد ملے ہیں، ایک کھاتہ سرکاری اداروں جیسا کہ ایس ای سی پی، ایف بی آر کو دکھایا جاتا ہے اور دوسرا سیٹھ کو دکھایا جاتا ہے جس میں اصل منافع موجود ہوتا ہے۔

معاون خصوصی نے کہا تھا کہ انکوائری کمیشن کے مطابق اس وقت ملک میں شوگر ملز ایک کارٹیل کے طور پر کام کررہی ہیں اور کارٹیلائزیشن کو روکنے والا ریگولیٹر ادارہ مسابقتی کمیشن پاکستان اس کو روک نہیں پارہا، 2009 میں مسابقتی کمیشن نے کارٹیلائزیشن سے متعلق رپورٹ کیا تھا جس کے خلاف تمام ملز مالکان میدان میں آگئے تھے۔

چنانچہ 7 جون کو وزیر اعظم عمران خان نے شوگر کمیشن کی سفارشات کی روشنی میں چینی اسکینڈل میں ملوث افراد کے خلاف سفارشات اور سزا کو منظور کرتے ہوئے کارروائی کی ہدایت کی تھی۔

بعدازاں 10 جون کو پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن (پی ایس ایم اے) نے انکوائری کمیشن کی تشکیل اور اس کی رپورٹ کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دی تھی جس کے بعد 11 جون کو اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے حکومت کو شوگر انکوائری کمیشن کی تحقیقاتی رپورٹ کی سفارشات پر عمل کرنے سے روک دیا تھا۔

بعدازاں اٹارنی جنرل نے عدالت کو یقین دہانی کروائی تھی کہ شوگر ملز مالکان کے خلاف کارروائی منصفانہ اور غیر جانبدار ہوگی، چنانچہ 20 جون کو اپنے فیصلے میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے چینی انکوائری کمیشن کی رپورٹ پر کارروائی روکنے کے لیے شوگر ملزم ایسوسی ایشن اور ملز مالکان کی جانب سے دائر درخواست کو مسترد کرتے ہوئے چینی رپورٹ پر کارروائی کی اجازت دے دی تھی۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں چینی انکوائری کمیشن کی تشکیل درست قرار دی تھی جبکہ حکومتی ارکان کو چینی کیس پر غیر ضروری بیان بازی سے روکتے ہوئے ہدایت دی تھی کہ چینی کیس میں تمام فریقین منصفانہ ٹرائل کو یقینی بنائیں۔

دوسری جانب جون کے مہینے ہی میں میرپور خاص شوگر ملز اور سندھ کی دیگر 19 ملز نے چینی کی ذخیرہ اندوزی اور قیمتوں میں اضافے کے خلاف مرتب کی گئی انکوائری کمیشن کی رپورٹ پر سندھ ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا اور رپورٹ کو کالعدم قرار دینے کی درخواست کی تھی۔

جس پر 23 جون کو عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ قابل وکیل کی جانب سے اٹھائے گئے اعتراضات قابل غور ہیں اور ساتھ ہی وفاقی حکومت کو 30 جون تک تحقیقاتی رپورٹ پر عملدرآمد سے روک دیا تھا اور 30 جون کو سندھ ہائی کورٹ نے آئندہ سماعت تک حکم امتناع میں توسیع کردی تھی۔

دوسری جانب 28 جون کو وفاقی حکومت نے شوگر کمیشن رپورٹ پر عملدرآمد روکنے کے سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرتے ہوئے کالعدم قرار دینے کی استدعا کی تھی۔