لگتا ہے معاون خصوصی سب کچھ چلا رہا ہے اور پیٹرولیم بحران کا ذمے دار بھی ہے، لاہور ہائیکورٹ

اپ ڈیٹ 16 جولائ 2020

ای میل

لاہور ہائی کورٹ نے استفسار کیا کہ حکومت بتائے اگر یہ قلت مصنوعی تھی تو کس کے خلاف کیا ایکشن لیا گیا —
لاہور ہائی کورٹ نے استفسار کیا کہ حکومت بتائے اگر یہ قلت مصنوعی تھی تو کس کے خلاف کیا ایکشن لیا گیا —

چیف جسٹس لاہور ہائی نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر حکومت کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا ہے کہ ایسا لگتا ہے کہ معاون خصوصی سب کچھ چلا رہا ہے اور اس بحران کا ذمہ دار بھی ہے۔

پیٹرولیم بحران کی تحقیقات کے لیے دائر درخواست پر لاہور ہائیکورٹ میں سماعت ہوئی جس میں اٹارنی جنرل پاکستان اور چیئرپرسن اوگرا عدالت میں پیش ہوئے۔

مزید پڑھیں: پیٹرولیم مصنوعات کا بحران اور مجموعی صورتحال پر ایک نظر

چیف جسٹس قاسم خان نے ایڈووکیٹ اظہر صدیق اور دیگر کی درخواستوں پر سماعت کی تو وفاقی حکومت کے وکیل نے پیٹرول بحران پر کابینہ اجلاس کے منٹس عدالت میں پیش کر دیے۔

چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ قاسم خان نے کہا کہ جو پرنسپل سیکریٹری یہ منٹس بنا رہا ہے وہ شاید وزیر اعظم کو خوش کرنے کے لیے بنا رہا ہے، منٹس آف میٹنگ میں جہاں کابینہ لکھا ہونا چاہیے تھا وہاں ہر جگہ وزیر اعظم لکھا ہوا ہے، اتنی بڑی سطح پر اتنی بڑی غلطی کی اُمید نہیں تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ جو لوگ عوام کے ووٹوں سے آئے ہیں ان کا کام عوام کی خدمت کرنا ہے، معاون خصوصی عوام کے نہیں کمپنیز کے مفاد کا سوچتے ہیں اور جو لوگ ووٹ لے کر آتے ہیں وہ اپنے لوگوں کے بارے میں سوچتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وفاقی کابینہ کے مطابق ملک میں پیٹرول کی قلت مصنوعی تھی، حکومت بتائے اگر یہ قلت مصنوعی تھی تو کس کے خلاف کیا ایکشن لیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: لاہور ہائیکورٹ کا پیٹرولیم بحران کی تحقیقات کیلئے کمیشن بنانے کا فیصلہ

چیف جسٹس نے کہا کہ مینٹس آف میٹنگ سے واضح ہوتا ہے کہ کابینہ کو قانونی نکات پر گائیڈ نہیں کیا گیا، لکھا جاتا کہ وزارت پیٹرولیم اس کی ذمہ دار ہے جبکہ وزارت پیٹرولیم کہتی ہے کہ یہ اوگرا کا اختیار ہے، جب دو ادارے اس طرح کریں گے تو کیا حکومت ٹھیک کام کر سکتی ہے۔

جسٹس قاسم نے مزید کہا کہ لگتا ہے کہ معاون خصوصی سب کچھ چلا رہا ہے اور اس بحران کا بھی ذمہ دار ہے۔

عدالت نے استفسار کیا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کیسے ہوتا ہے جس پر اٹارنی جنرل نے بتایا کہ پہلے اوگرا کہتا ہے اور پھر وزارت سمری تیار کرتی ہے۔

چیف جسٹس نے پھر استفسار کیا کہ کیا اوگرا نے کہا کہ قیمت 26 سے بڑھا دیں جس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ اوگرا نے نہیں کہا۔

مزید پڑھیں: پیٹرول بحران ختم ہونے کے بعد مزید 3 کمپنیوں کو ڈیڑھ کروڑ روپے کا جرمانہ

اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ تو پھر 26 تاریخ کو کیسے قیمت بڑھا دی جب کہ اوگرا نے ہی تجویز نہیں کیا جس پر اٹارنے جنرل نے بتایا کہ وزارت پیٹرولیم نے فون پر اوگرا سے بات کی۔

انہوں نے کہا کہ کیا یہ ملک کے ساتھ مذاق چل رہا ہے، اگر قیمت پہلے بڑھانی تھی تو ٹھوس وجہ چاہیے۔

اٹارنی جنرل نے کہا کہ مجھے جیسے بتایا گیا ویسے ہی بتا رہا ہوں، میں یہاں زبانی بات چیت کا دفاع نہیں کر رہا اور نہ ہی کسی معاون خصوصی کا دفاع کر رہا ہوں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ اجلاس کی رپورٹ تو پورے ملک کے لیے شاکنگ ہے اور اس رپورٹ کو دیکھ کر یاد آیا کہ پنجابی میں کہتے ہیں آ بیل مجھے مار۔

جسٹس قاسم خان نے کہا کہ حکومت جو کمیشن بنائے گی عدالت اس کی پابند رہے گی، کمیشن کی رپورٹ کا عدالت جائزہ لے کر اس کیس کا فیصلہ کرے گی۔

یہ بھی پڑھیں: اوگرا نے پیٹرولیم بحران کا ذمہ دار 6 آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کو ٹھہرادیا

اوگرا کی چیئرپرسن عظمیٰ عادل نے کہا کہ میں کل ریٹائر ہو رہی ہوں، سب ریکارڈ دے دیا ہے، میں یہ نہیں کر کہہ رہی کہ سب حکومت کی غلطی ہے لیکن سب اوگرا پر ڈالنا بھی درست نہیں۔

عظمیٰ عادل نے کہا کہ عدالت آنے والے چیئرمین اوگرا کو بھی سماعت پر بلائے۔

چیف جسٹس قاسم خان نے مزید کہا کہ اگر حکومت کمیشن بناتی ہے تو کب تک رپورٹ بنا لے گی جس پر اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ حکومت کمیشن بنائے گی اور 6 سے 8 ہفتے میں رپورٹ بنا لے گی۔

جسٹس قاسم خان نے کہا کہ رپورٹ جلد از جلد آنی چاہیے، اگر کمیشن نہیں بنتا تو تمام حکومتی ادارے ان درخواستوں پر جواب داخل کریں جس پر اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ اس کی نوبت نہیں آئے گی۔

لاہور ہائی کورٹ نے سماعت چھ ہفتوں کے لیے ملتوی کر دی۔

واضح رہے کہ یکم جون کو حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کے بعد ملک میں پیٹرول کا بحران پیدا ہوگیا تھا جس پر حکومت اور اوگرا کے نوٹس کے باوجود قلت پر قابو نہ پایا جاسکا۔

تاہم 26 جون کو جیسے ہی حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 25 روپے 58 پیسے تک اضافہ کیا ملک میں پیٹرول اور ڈیزل کی قلت ختم ہوگئی تھی۔

ملک میں پیٹرول کی قلت اور ذخیرہ اندوزی میں ملوث کمپنیوں کا پتا لگانے کے لیے وزارت توانائی کے پیٹرولیم ڈویژن نے 8 رکنی کمیٹی بھی تشکیل دی تھی۔