عمران خان کو جو کام سب سے پہلے کرنا تھا اب تک تو وہ بھی نہ ہوسکا

17 جولائ 2020

ای میل

لکھاری ڈان کے اسٹاف ممبر ہیں۔
لکھاری ڈان کے اسٹاف ممبر ہیں۔

اور اب ہمیں 'پائلٹوں کے جعلی لائسنسوں' سے متعلق نئی خبریں سننے کو مل رہی ہیں۔ چونکہ دنیا کے مختلف ہوابازی سے متعلق ادارے اور اس کے ساتھ ساتھ کئی غیر ملکی ایئر لائنز پاکستانی پائلٹوں کو ملازمت پر رکھتی ہیں، اس لیے انہوں نے سول ایوی ایشن اتھارٹی (سی اے اے) سے سوالوں کی بھرمار کردی ہے جن میں پائلٹوں کے لائسنس یا پرواز کی صلاحیت سے متعلق سوالات سرِ فہرست ہیں۔ بس یوں سمجھ لیجیے کہ یہ معاملہ اب یکسر طور پر ایک نیا موڑ اختیار کرچکا ہے۔

عمان سول ایوی ایشن اتھارٹی نے 2 جولائی کو بھیجے گئے اپنے خط میں سی اے اے کی جانب سے جاری کردہ اسناد پر سوال اٹھایا تھا۔ سی اے اے نے خط کے جواب میں کہا کہ 'یہ واضح کرنا ضروری ہے کہ سی اے اے کے جاری کردہ پائلٹ لائسنس اصلی ہیں اور انہیں قانونی تقاضوں کے مطابق جاری کیا گیا ہے۔ کسی بھی پائلٹ کا لائسنس جعلی نہیں ہے دراصل معاملے کا غلط مطلب نکالا گیا ہے اور میڈیا / سوشل میڈیا میں اسے غلط انداز میں پیش کیا گیا ہے'۔

میں یہ جاننا چاہوں گا کہ اس بات کا مطلب کیا ہے۔ وزیر ہوابازی نے پارلیمنٹ سے اپنے خطاب کے دوران کم از کم 3 مواقع پر یعنی 2 بار انگریزی اور ایک بار اردو میں لفظ 'جعلی' کا استعمال کیا تھا۔ یہی نہیں بلکہ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ ایسے کئی پائلٹوں کو سیاسی دباؤ کے تحت بھرتی کیا گیا تھا۔ یہ تقریر عام دستیاب ہے۔ جعلی لائسنسوں کے حوالے سے مباحثہ تقریر کے 35ویں منٹ کے بعد شروع ہوا جب انہوں نے کہا تھا کہ فروری 2019ء سے پائلٹ لائسنسوں کے معاملے کی تفتیش جاری ہے، اور اس دوران ایسے بہت سے جعلی لائنسنسوں کا پتا لگایا گیا ہے۔

مزید پڑھیے: ’میں نے آج تک اتنا پُر مزاح ڈراؤنا کھیل تماشا نہیں دیکھا‘

2 دن بعد انہوں نے پریس کانفرنس بلائی جس میں اس الزام کو دہرایا اور اس کا تفصیلی جواز پیش کیا گیا کہ جو پائلٹ جعلی لائسنس رکھتے ہیں (بقول ان کے نہ کہ میرے) ان کے نام بتانا کیوں ضروری ہوگیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ بعض اوقات کسی مرض کے علاج کے لیے کیموتھراپی لازمی ہوجاتی ہے۔

اب جب دنیا کے مختلف ہوابازی کے ادارے سی سی اے سے لائسنسوں کے معیار کے بارے میں سوال پوچھ رہی ہیں تو یہ ادارہ کس طرح اس کا ذمہ دار میڈیا کو ٹھہرا سکتا ہے؟

اور جو عمانی حکام کو جواب بھیجا گیا ہے کیا وزیر موصوف نے اس خصوصی جواب کی منظوری دی ہے؟ کیونکہ وہ تو پارلیمنٹ اور عوام کو یہ بتا رہے ہیں کہ پاکستان کے شعبہ ہوابازی کے مسائل اس قدر بگڑ گئے ہیں کہ جنہیں ٹھیک کرنے کے لیے انہیں کیمو تھراپی کرنی پڑ گئی ہے۔ لیکن حیرانی کہ وہ عین اسی لمحے دنیا کے حصوں کے ہم منصبوں کو مڑ کر کہتے ہیں کہ جی کسی بھی پائلٹ کا لائنسنس جعلی نہیں ہے اور میڈیا نے معاملے کا غلط مطلب نکال لیا اور غیر مناسب انداز سے پیش کیا۔

مجھے وہ وقت اب بھی یاد ہے جب وزیرِاعظم عمران خان ایسا کہا کرتے تھے کہ جب کہیں کوئی فضائی یا کسی بھی قسم کا کوئی حادثہ پیش آئے تو متعلقہ وزیر کو اس کی ذمہ داری قبول کرنی چاہیے۔ آپ کو وہ دنیا بھر کی مثالیں یاد ہیں جو انہوں نے اپنا کیس مضبوط کرنے کے لیے پیش کی تھیں؟ ان کا مؤقف تھا کہ اگر کسی وزیر کی نگرانی میں کوئی فضائی حادثہ پیش آئے تو اسے عہدہ چھوڑ دینا چاہیے۔ انہوں نے اس کی ایک وجہ یہ بیان کی تھی کہ جس وزیر کے دور میں کوئی حادثہ پیش آئے تو وہ وزیر کبھی بھی ان حقائق کو منظر عام پر آنے نہیں دے گا جو ان میں قائدانہ صلاحیتوں اور اہلیت کی کمی ظاہر کرتے ہوں۔

مزید پڑھیے: پائلٹس کے لائسنس جعلی یا مشکوک؟ اصل معاملہ آخر ہے کیا؟

میرا خیال ہے کہ ہمارے پاس اس بات کی زندہ مثال بھی موجود ہے جسے ہم نے اپنی آنکھوں سے بنتے دیکھا ہے۔

پاکستان تحریک انصاف کے 2 سالہ اقتدار کے دوران اکتوبر 2019ء میں وہ ٹرین حادثہ پیش آیا جس کے نتیجے میں 70 سے زائد افراد جل کر مرگئے تھے۔ کیا کسی کو خبر ہے کہ اس کا ذمہ دار کسے ٹھہرایا گیا ہے؟ کیا کسی وزیر نے عہدہ چھوڑا؟ پھر ہم نے ایک فضائی حادثہ دیکھا جس کے نتیجے میں 98 افراد مارے گئے لیکن اس کے بعد ہوا صرف یہ کہ ایک وزیر سامنے آئے جو پائلٹوں پر الزام دھر رہے ہیں جبکہ ان کے لوگ غیر ملکی ہم منصبوں کو شرمیلے انداز میں بتا رہے ہیں کہ جی ایسی کوئی بات نہیں ہے دراصل ہمارے ملکی میڈیا نے رائی کا پہاڑ بنا رکھا ہے۔

بات یہیں پر ختم نہیں ہوجاتی۔ ہمارے ہاں ایسے بھی وزیر پائے جاتے ہیں جنہوں نے عمران خان کی نگرانی میں دگنا گردشی قرضہ دیکھا تو پرطیش انداز میں اسے صفر تک لانے کا وعدہ کرلیا اور ان کی واحد سزا یہ ہوئی کہ انہیں پیٹرولیم کی وزارت کا قلمدان دے دیا گیا، جسے موجودہ وزیر ہوابازی نے ابھی چھوڑا ہی تھا۔

جب پیٹرولیم کا قلمدان ملا تو اسی وزیر کی موجودگی میں ہم نے پیٹرول اور ڈیزل کی ترسیل کا پہلا بحران دیکھا اور اب توانائی کے شعبے میں ایندھن کی ترسیل کا بحران سر اٹھانے لگا ہے۔ شکر ہے کہ ہائڈل پاور نے انہیں بچایا لیا کیونکہ اگر اس کا سہارا نہ ہوتا تو ایندھن کی ترسیل کے مسائل کی بنا پر پورے ملک میں ویسی ہی لوڈ شیڈنگ ہورہی ہوتی جس کا سامنا شہرِ کراچی کو ہے۔

عہدہ سنبھالنے کے بعد وزیرِاعظم عمران خان نے قوم سے اپنے پہلے خطاب میں کہا تھا کہ ان کے وژن کے مطابق پاکستان میں اصلاحات لانے کا سفر ایف بی آر سے شروع ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک ملک جہاں 20 کروڑ میں سے صرف 8 لاکھ افراد ٹیکس ادا کرتے ہوں وہ زیادہ وقت اپنے معاملات خود نہیں چلا سکے گا۔ بعدازاں انہوں نے بتایا کہ کس طرح اس ملک میں امراء ٹیکس ادا نہیں کرتے۔ انہوں نے کہا تھا کہ 'میرا آپ سے وعدہ ہے کہ سب سے پہلے ہم ایف بی آر کو ٹھیک کریں گے'۔

مزید پڑھیے: جہانگیر ترین کا اندازہ کہاں غلط ہوا؟

پی ٹی آئی کے مرتب کردہ اس وژن میں بھی یہی عزم ملتا ہے، جس میں شامل معاشی ترقی کے باب کی ابتدا بھی ایف بی آر سے ہوتی ہے۔ اس میں 'ایک ٹھوس ٹیکس پالیسی، ٹیکس کے مؤثر انتظامی ڈھانچے اور ضابطوں پر عمل درآمد کروانے کے ایک مؤثر مکینزم' کا وعدہ کیا گیا ہے۔ اس کام کو انجام دینے کے لیے ایف بی آر کی خود مختاری بڑھانے اور اس پر وزارتِ خزانہ کا اثر و رسوخ گھٹانے کا وعدہ کیا گیا۔

یہ تو ماضی کی باتیں ہیں۔ اگلے 2 برسوں میں ہم نے ایف بی آر کے 4 مختلف چیئرمین کو عہدہ سنبھالتے دیکھا یعنی ہر ایک چیئرمین کے حصے میں اوسطاً 3 ماہ کی مدت ملازمت آئی، اور آج ہم ایک ایسے موڑ پر کھڑے ہیں جہاں نہ صرف ایف بی آر میں اصلاحات کے حوالے سے کوئی پلان موجود نہیں ہے بلکہ موجودہ سال کے ریوینیو ہدف کو حاصل کرنے کے لیے بھی کوئی ٹیکس پلان دستیاب نہیں ہے یا کم از کم کسی کی نظر سے تو بالکل بھی نہیں گزرا ہے کیونکہ وزارتِ خزانہ آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات میں مصروف ہے۔ بہت ہوگئیں 'سب سے پہلے ایف بی آر کو ٹھیک کریں گے' جیسی باتیں۔ بہت ہوگئیں 'وزارتِ خزانہ کے اثرو رسوخ کو گھٹانے' جیسی باتیں۔

آج افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ حکومت تو اپنے وزراء کا احتساب تک نہیں کرسکتی، پورے ملک کو احتساب کے دائرے میں لانا تو دُور کی بات ہے۔ 'ہم شروعات ایف بی آر سے کریں گے' وزیراعظم کے ان الفاظ سے ہم صرف یہی نتیجہ اخذ کرسکتے ہیں کہ 2 برس ہوگئے لیکن پی ٹی آئی حکومت نے تو اپنے کام کی شروعات تک نہیں کی ہے۔


یہ مضمون 16 جولائی 2020ء کو ڈان اخبار میں شائع ہوا۔