اسلام آباد کا واحد ہاتھی کمبوڈیا جانے کیلئے آزاد

20 جولائ 2020

ای میل

ہاتھی کی عمر 36 سال ہے اور وہ ابھی سے نفسیاتی مسائل کا شکار ہوگیا ہے، ملک امین اسلم — فائل فوٹو / اے ایف پی
ہاتھی کی عمر 36 سال ہے اور وہ ابھی سے نفسیاتی مسائل کا شکار ہوگیا ہے، ملک امین اسلم — فائل فوٹو / اے ایف پی

اسلام آباد کے چڑیا گھر میں 35 سال گزارنے والے ہاتھی 'کاوَن' کو عدالتی حکم پر کمبوڈیا منتقل کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا۔

وزیر اعظم کے مشیر برائے موسمیاتی تبدیلی ملک امین اسلم نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ اسلام آباد کے مرغزار چڑیا گھر کے کاوَن ہاتھی کو کمبوڈیا کی پناہ گاہ میں منتقل کیا جارہا ہے، کاون کو کمبوڈیا بھجوانا ہمارے لیے اداس کر دینے والا فیصلہ ہے مگر اُس کی صحت کی وجہ سے یہ قدم اٹھا رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ہاتھی کی عمر 36 سال ہے اور وہ ابھی سے نفسیاتی مسائل کا شکار ہوگیا ہے، ایشیائی ہاتھیوں کی عمریں تقریباً 40 سے 45 سال کے درمیان ہوتی ہیں۔'

ملک امین اسلم کا کہنا تھا کہ '2015 میں بین الاقوامی درخواست پر 2 لاکھ افراد نے دستخط کیے تھے جبکہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے بھی ہاتھی کو کسی محفوظ پناہ گاہ منتقل کرنے کا حکم دیا تھا۔'

انہوں نے کہا کہ 'وزارت موسمیاتی تبدیلی، وزیر اعظم عمران خان کی ہدایات کے تحت جانوروں کی دیکھ بھال سے متعلق تمام فیصلوں کی حمایت کرتی ہے، جبکہ اب وزارت عدالت کے فیصلے کی روشنی میں اسلام آباد کے چڑیا گھر کو جانوروں کے لیے بہترین پناہ گاہ کے طور پر دوبارہ بحال کرنے کی کوشش کرے گی۔'

یہ بھی پڑھیں: نایاب ہاتھی کو محفوظ مقام پر منتقل کیا جائے، اسلام آباد ہائی کورٹ

واضح رہے کہ 21 مئی کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے قرار دیا تھا کہ مرغزار چڑیا گھر میں نایاب ہاتھی کاون سمیت جانوروں کو جن حالات میں رکھا گیا ہے وہ درد اور تکالیف سے بھرپور اور قوانین کی خلاف ورزی ہے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے اسلام آباد وائلڈ لائف منیجمنٹ بورڈ کی میٹروپولیٹن کارپوریشن اسلام آباد (ایم سی آئی) کے خلاف دائر درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے کاون اور دیگر جانوروں کو دیگر پناہ گاہوں میں منتقل کرنے کا حکم دیا تھا۔

چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ نے فیصلے میں کہا کہ 'نہ تو مناسب سہولیات فراہم کی گئی ہیں اور نہ ہی جانوروں کو زندہ رہنے کے لیے ان کے رویے، سماجی اور نفسیاتی ضروریات کو پورے کرتے حالات پیدا کیے گئے ہیں۔'

فیصلے میں کہا گیا کہ مرغزار چڑیا گھر کا واحد ہاتھی کاوون کے ساتھ ظالمانہ سلوک روا رکھا گیا جس کے نتیجے میں وہ گزشتہ تین دہائیوں سے ناقابل تصور تکالیف سے گزر رہا ہے۔

کاون کی تکلیف کے حوالے سے کہا گیا کہ جن حالات میں اس کو رکھا گیا ہے اس سے حکام کو متعلقہ قانون کے مطابق نتائج کا سامنا کرنا ہوگا۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے میں کہا گیا کہ کاون کی تکالیف، انہیں ملک کے اندر یا باہر کسی محفوظ مقام پر منتقلی سے دور ہوں گی۔

مزید پڑھیں: وزارت ماحولیاتی تبدیلی کو چڑیا گھر کا انتظام سنبھالنے کی ہدایت

عدالتی فیصلے کے بعد اسلام آباد کے وائلڈ لائف مینجمنٹ بورڈ کے چیئرمین ڈاکٹر انیس رحمٰن نے 8 رکنی کمیٹی تشکیل دی تھی جسے کاون اور دیگر جانوروں کو منتقل کرنے کے لیے مناسب پناہ گاہوں کی تجاویز پیش کرنے کا ٹاسک دیا گیا تھا۔

کمیٹی نے ممکنہ مقامات کا جائزہ لینے کے بعد کمبوڈیا میں ہاتھیوں کی پناہ گاہ میں 80 ہاتھی موجود ہیں اور ماہرین کی زیر نگرانی ان کی بہترین دیکھ بھال کی جارہی ہے اور کاون کے لیے بھی یہی سب سے بہترین انتخاب ہوگا۔

خیال رہے کہ کاوون کو 1985 میں سری لنکا نے پاکستان کو تحفے میں دیا تھا اس وقت ان کی عمر ایک سال تھی اور 30 سے زائد برس تک انہیں تنگ جگہ میں زنجیروں سے باندھ کر رکھا ہوا ہے جہاں کے حالات انتہائی خراب ہیں۔

مرغزار چڑیا گھر میں کاوون کو ایسی حالت میں رکھا گیا ہے جہاں نایاب جانوروں کو درکار نفسیاتی، سماجی اور رویوں کی ضروریات ناپید ہیں۔