سول ایوی ایشن کا مشتبہ لائسنسز پر عہدیداروں کو نوٹس

ای میل

اب تک 40 سے زائد پائلٹس نے ایوی ایشن ڈویژن کے سامنے اپنی اپیلیں جمع کروائی ہیں۔ فائل فوٹو:ڈان
اب تک 40 سے زائد پائلٹس نے ایوی ایشن ڈویژن کے سامنے اپنی اپیلیں جمع کروائی ہیں۔ فائل فوٹو:ڈان

راولپنڈی / لاہور: سپریم کورٹ کی ہدایت کے بعد سول ایوی ایشن اتھارٹی (سی اے اے) نے مشکوک پائلٹ لائسنس جاری کرنے کے معاملے میں مبینہ طور پر ملوث ہونے پر تحقیقات کا سامنا کرنے والے اپنے 5 معطل عہدے داروں کو کو شوکاز (اظہار وجوہ کا) نوٹس جاری کردیا۔

دوسری جانب ایوی ایشن ڈویژن، سی اے اے کے انفارمیشن ٹیکنالوجی (آئی ٹی) کے ماہرین کے جعلی لائسنس میں مبینہ طور پر ملوث ہونے کے کیس کو وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) کو بھیجنے پر قانونی ماہرین سے مشاورت کر رہا ہے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق اتھارٹی کی لائسنس برانچ کے ایک سینئر جوائنٹ ڈائریکٹر اور ہیومن ریسورس کے سپروائزر، ان عہدیداروں میں شامل ہیں جنہیں معطل کردیا گیا تھا۔

ان پر الزام لگایا گیا تھا کہ وہ کچھ پائلٹس کو پراکسیز کے ذریعے امتحانات میں شامل ہونے دیتے ہیں۔

واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے منگل کو سی اے اے کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) حسن ناصر جامی، جو ایوی ایشن ڈویژن کے سیکریٹری بھی ہیں، ان کو مشکوک لائسنسز کے معاملے پر محکمانہ کارروائی کرنے کا حکم دیا تھا۔

مزید پڑھیں: پی آئی اے کے برطرف پائلٹ نے لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کرلیا

عدالت عالیہ نے مشاہدہ کیا تھا کہ 'جعلی لائسنسز پر اپنے دستخط کرنے والے افراد کو بھی جیل جانا چاہیے'۔

ذرائع کے مطابق ایوی ایشن ڈویژن نے سی اے اے کے 5 عہدیداروں کو معطل کردیا تھا اور محکمہ آئی ٹی کے عہدیداروں کے ساتھ ساتھ کچھ بیرونی افراد کے بھی اس اسکینڈل میں ملوث ہونے کا شبہ ظاہر کیا تھا۔

مشکوک فلائنگ لائسنس رکھنے والے 262 پائلٹس میں سے 102 پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائن سے وابستہ تھے، جنہیں گراؤنڈ کردیا گیا تھا اور ان کے خلاف محکمانہ کارروائی کا آغاز کردیا گیا ہے۔

262 پائلٹس میں سے 161 کو معطل اور شوکاز نوٹس جاری کیے گئے تھے جبکہ 28 پائلٹس کے لائسنس منسوخ کردیے گئے ہیں۔

مزید برآں اب تک 40 سے زائد پائلٹس نے ایوی ایشن ڈویژن کے سامنے اپنی اپیلیں جمع کروائی ہیں۔

جس پر توقع کی جارہی ہے کہ ایوی ایشن ڈویژن کی جانب سے مشکوک پائلٹ لائسنسز کی تصدیق کے عمل کو آئندہ ہفتے مکمل کرلیا جائے گا۔

اس حوالے سے ایوی ایشن کے ایک سینئر عہدیدار نے بتایا کہ 'ڈبل چیک' کے بعد ان کے خلاف تمام محکمہ جاتی اور قانونی کارروائیاں کی جائیں گی۔

حکم امتناع

دوسری جانب لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس محمد عامر بھٹی نے مشکوک ہونے پر اپنے لائسنس کی معطلی کو چیلنج کرنے والے بلال چغتائی کی دائر رٹ پٹیشن پر حکم امتناع جاری کردیا۔

انہوں نے اپنی درخواست میں حکومتِ پاکستان، سی اے اے کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) اور انتظامیہ سمیت دیگر کو فریق بنایا اور مؤقف اپنایا کہ سی اے اے نے ایئر ٹرانسپورٹ پائلٹ کے تحریری امتحان میں خود نہ بیٹھنے کا الزام عائد کر کے لائسنس معطل کردیا ہے۔

درخواست گزار پائلٹ نے کہا کہ 14 جولائی کو لائسنس معطلی کا نوٹی فیکیشن موصول ہوا اور 14 روز میں اپیل دائر نہ کرنے کی صورت میں لائسنس منسوخی کے لیے کارروائی کا عندیہ دیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: نجکاری فہرست میں پی آئی اے شامل نہیں، ہمیں اس کی تشکیلِ نو کرنی ہے، غلام سرور

انہوں نے کہا کہ سول ایوی ایشن رولز کے تحت ڈی جی سول ایوی ایشن کو اپنے ہی کیے گئے فیصلے کے خلاف دائر اپیل پر فیصلہ کرنے کا اختیار دیا گیا ہے، جو غیر آئینی ہے۔

درخواست میں مؤقف اپنایا گیا کہ درخواست گزار پائلٹس کا مؤقف سنے بغیر ڈی جی سول ایوی ایشن نے لائسنس معطل کردیا۔

لاہور ہائی کورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا کہ ڈی جی سول ایوی ایشن کو اپنے ہی فیصلے کے خلاف اپیل پر سماعت کرنے کا اختیار دینا آئین میں دیے گئے شفاف ٹرائل کی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔

انہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ ڈی جی سول ایوی ایشن کو اپیل کا اختیار دینے کے رولز کو آئین سے متصادم قرار دے کر کالعدم قرار دیا جائے۔

درخواست میں کہا گیا کہ ایئر ٹرانسپورٹ پائلٹ لائسنس معطلی کے حکم کو بھی غیرآئینی قرار دے کر کالعدم کیا جائے اور حتمی فیصلے تک لائسنس معطلی کے حکم پر عمل درآمد روکا جائے۔

جج نے سماعت ملتوی کرتے ہوئے مدعا علیہ کو کارروائی میں فیصلہ لینے سے روک دیا، معاملے کی اگلی سماعت کی تاریخ بعد میں مقرر کی جائے گی۔

پائلٹس کے 'مشکوک' لائسنسز کا معاملہ

خیال رہے کہ 24 جون کو قومی اسمبلی میں کراچی مسافر طیارہ حادثے کی تحقیقاتی رپورٹ پیش کرتے ہوئے وفاقی وزیر ہوابازی غلام سرور خان نے کہا تھا کہ 860 پائلٹس میں سے 262 ایسے پائے گئے جن کی جگہ کسی اور نے امتحان دیا تھا۔

جس کے بعد پاکستان نے 26 جون کو امتحان میں مبینہ طور پر جعل سازی پر پائلٹس کے لائسنسز کو 'مشکوک' قرار دیتے ہوئے انہیں گراؤنڈ کردیا تھا۔

وزیر ہوابازی غلام سرورخان نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ 'جن پائلٹس پر سوالات اٹھائے گئے ہیں وہ 262 ہیں، پی آئی اے میں 141، ایئربلیو کے 9، 10 سرین، سابق شاہین کے 17 اور دیگر 85 ہیں'۔

جس کے بعد پی آئی اے کی انتظامیہ نے اپنے 150 پائلٹس کو گراؤنڈ کرنے (کام کرنے سے روکنے) کا فیصلہ کیا تھا۔

مزید پڑھیں: ’پائلٹس کے مشتبہ لائسنس کا معاملہ صرف پی آئی اے سے منسلک نہیں‘

بعدازاں 29 جون کو وینتام کی ایوی ایشن اتھارٹی نے عالمی ریگولیٹرز کی جانب سے پائلٹس کے ’مشکوک لائسنس‘ رکھنے کی تشویش پرمقامی ایئرلائنز کے لیے تمام پاکستانی پائلٹس کو گراؤنڈ کردیا تھا۔

جس کے بعد 30 جون کو یورپین یونین ایئر سیفٹی ایجنسی (ایاسا) نے پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز (پی آئی اے) کے یورپی ممالک کے فضائی آپریشن کا اجازت نامہ 6 ماہ کے لیے عارضی طور پر معطل کردیا تھا جس پر 3 جولائی سے اطلاق ہوگا۔

اسی روز اقوام متحدہ کے ڈپارٹمنٹ آف سیفٹی اینڈ سیکیورٹی (یو این ڈی ایس ایس) نے پاکستانی ایئرلائن کو اپنی 'تجویز کردہ فہرست' سے ہٹا دیا تھا۔

جس کے بعد یکم جولائی کو برطانیہ کی سول ایوی ایشن اتھارٹی نے اپنے 3 ایئرپورٹس سے پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کی پروازوں پر پابندی لگانے کا اعلان کیا تھا جبکہ متحدہ عرب امارت نے بھی سول ایوی ایشن اتھارٹی سے مختلف فضائی کمپنیوں میں کام کرنے والے پاکستانی پائلٹس اور انجنیئرز کے کوائف کی تصدیق کی درخواست کی تھی۔