علی بابا کے بانی جیک ما بھارتی عدالت میں طلب

اپ ڈیٹ 27 جولائ 2020

ای میل

عدالت نے جیک ما کو ذاتی حیثیت میں پیش ہونے یا وکیل کے ذریعے جواب جمع کرانے کی ہدایت کی 
 — فائل فوٹو: اے پی
عدالت نے جیک ما کو ذاتی حیثیت میں پیش ہونے یا وکیل کے ذریعے جواب جمع کرانے کی ہدایت کی — فائل فوٹو: اے پی

نئی دہلی: ہندوستان کی ایک عدالت نے علی بابا کے بانی جیک ما کو طلب کر لیا ہے جہاں ہندوستان میں ادارے کے ایک سابق ملازم نے دعویٰ دائر کرتے ہوئے کہا کہ کمپنی کی ایپس میں سینسرشپ اور جعلی خبروں پر اعتراض کرنے کے بعد انہیں نوکری سے برطرف کردیا گیا تھا۔

خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق یہ معاملہ ایک ایسے موقع پر سامنے آیا ہے جب گزشتہ ماہ سرحد پر دونوں ملکوں کی افواج کے مابین تصادم کے بعد علی بابا کی یو سی نیوز، یو سی براؤزر اور 57 دیگر چینی ایپس پر سیکیورٹی خدشات کے باعث پابندی عائد کردی گئی تھی۔

مزید پڑھیں: علی بابا: 12 سو روپے ماہانہ سے کھرب پتی بننے تک

اس پابندی کی چین نے مذمت کی تھی جس کے بعد بھارت نے تمام متاثرہ کمپنیوں سے تحریری جوابات طلب کیے تھے اور ان میں یہ بات بھی شامل ہے کہ آیا انہوں نے مواد کو سینسر کیا ہے یا کسی غیر ملکی حکومت کے لیے کارروائی کی ہے۔

20 جولائی کو عدالت میں درخواست دائر کی گئی تھی اور علی بابا کے یوسی ویب کے سابق ملازم پشپندررا سنگھ پرمار نے الزام عائد کیا کہ یہ کمپنی چین کے لیے ناگوار سمجھے جانے والے مواد کو سینسر کرتی تھی اور اس کی ایپس یوسی براؤزر اور یوسی نیوز نے غلط خبروں کی ترویج کی تاکہ سماجی اور سیاسی انتشار پیدا ہو۔

عدالتی دستاویز سے ظاہر ہوتا ہے کہ بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی کے سیٹلائٹ شہر گروگرام کی ضلعی عدالت کی سول جج سونیا شیوکند نے علی بابا، جیک ما اور ایک درجن کے قریب افراد یا کمپنی یونٹس کو حاضری کے سمن جاری کرتے ہوئے ہدایت کی تھی کہ وہ 29 جولائی کو خود عدالت میں پیش ہوں یا اپنے وکیل کو بھیجیں۔

عدالتی حکمنامے کے مطابق جج نے 30 دن کے اندر کمپنی اور اس کے عہدیداروں سے تحریری جوابات بھی طلب کیے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: علی بابا کے بانی کمپنی کو الوداع کہنے کے لیے تیار

یو سی انڈیا نے ایک بیان میں کہا کہ وہ ہندوستان کی منڈی اور اپنے مقامی ملازمین کی فلاح و بہبود کے سلسلے میں اپنی وابستگی میں اٹل رہا ہے اور اس کی پالیسیاں مقامی قوانین کے مطابق ہیں، ہم جاری قانونی چارہ جوئی پر تبصرہ کرنے سے قاصر ہیں۔

علی بابا کے نمائندوں نے چینی کمپنی کی طرف سے یا جیک ما کی جانب سے ردعمل کی درخواست کی گئی لیکن انہوں نے جواب نہیں دیا۔

اکتوبر 2017 تک گروگرام یوسی ویب آفس میں بطور ایسوسی ایٹ ڈائریکٹر کام کرنے والے پارمر نے عدالت میں 2 لاکھ 68 ہزار ڈالر ہرجانے کا دعویٰ کیا ہے، ان کے وکیل سے سوالات کیے گئے تو انہوں نے یہ کہہ کر جواب دینے سے انکار کردیا کہ معاملہ ابھی عدالت میں زیر سماعت ہے۔