آسٹریلیا: 'جنگلات میں لگی آگ سے تقریباً 3 ارب جانور ہلاک یا دربدر ہوئے'

اپ ڈیٹ 28 جولائ 2020

ای میل

سال 2019 کے آخر اور 20 کے شروع میں آسٹریلیا کے جنگلات میں غیرمعمولی آگ لگی تھی —فائل فوٹو: اے ایف پی
سال 2019 کے آخر اور 20 کے شروع میں آسٹریلیا کے جنگلات میں غیرمعمولی آگ لگی تھی —فائل فوٹو: اے ایف پی

ورلڈ وائڈ فنڈ فار نیچر (ڈبلیو ڈبلیو ایف) کی تحقیق میں کہا گیا ہے کہ سال 20-2019 میں آسٹریلیا کے جنگلات میں لگنے والی آگ کے نتیجے میں تقریباً 3 ارب کوآلا، کینگروز اور دیگر مقامی جانور ہلاک یا دربد ہوئے۔

خلیج ٹائمز میں شائع فرانسیسی خبررساں ادارے اے ایف پی کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا کہ ڈبلیو ڈبلیو ایف کی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ اس غیرمعمولی آگ کے نتیجے میں 3 ارب جانور ہلاک ہوئے یا متاثرہ علاقہ چھوڑ گئے اور یہ 'جدید تاریخ میں جنگلی حیات کی بدترین تباہی میں سے ایک ہے'۔

آسٹریلیا کی مختلف جامعات کے سائنسدانوں نے اپنی تحقیق میں کہا کہ جنگلی حیات میں 14 کروڑ 30 لاکھ ممالیہ، 2 ارب 46 کروڑ رینگنے والے جانوروں، 18 کروڑ پرندوں اور 5 کروڑ 10 لاکھ مینڈکوں کو متاثر کیا۔

مزید پڑھیں: آسٹریلیا: تیز ہواؤں نے سلگتی آگ کو بھڑکتے شعلوں میں بدل دیا

منگل کو جاری ہونے والی اس رپورٹ کو یونیورسٹی آف سڈنی، یونیورسٹی آف نیو ساؤتھ ویلز، یونیورسٹی آف نیو کاسل، چارلس اسٹرٹ یونیورسٹی اور کنزرویشن گروپ برڈ لائف آسٹریلیا کے سائنسدانوں کی جانب سے تیار کیا گیا۔

اس تحقیق کے مصنفین میں سے ایک کرس ڈکمین کا کہنا تھا کہ اگرچہ رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ آگ کی وجہ سے کتنے جانور مرے لیکن خوراک، پناہ گاہ اور شکاریوں سے تحفظ میں کمی کے باعث جو اس آگ سے بچ گئے 'شاید ان کے لیے بھی بہت اچھا' نہیں تھا۔

خیال رہے کہ 2019 کے آخر اور 2020 کے آغاز میں آسٹریلیا بھر کے جنگلات اور خشک سالی سے متاثرہ زمین کا ایک لاکھ 15 ہزار اسکوائر کلومیٹرز سے زائد (44 ہزار اسکوائر میل) حصے پر آگ لگی تھی جس کے نتیجے میں 30 افراد ہلاک اور ہزاروں گھر تباہ ہوگئے تھے۔

یہ جدید آسٹریلیائی تاریخ میں سب سے وسیع اور طویل بش فائر سیزن تھا جبکہ سائنسدانوں نے اس بحران کو آب و ہوا کی تبدیلی کے اثرات قرار دیا۔

اس سے قبل جنوری میں ہونے والی ایک تحقیق میں کہا گیا تھا کہ آگ نے نیو ساؤتھ ویلز اور ویکٹوریا کی مشرقی ریاستوں کو سب سے زیادہ متاثر کیا اور ایک ارب جانور ہلاک ہوگئے تھے۔

تاہم منگل کو سامنے آنے والے سروے سے متعلق یونیورسٹی آف سڈنی کی سائنسدان للی وین ایڈین کا کہنا تھا کہ اس تحقیق نے پورے براعظم میں آگ لگنے کے زون کو کور کیا۔

علاوہ ازیں اس سروے کے نتائج پر اب بھی کام جاری ہے اور حتمی رپورٹ آئندہ ماہ کے آخر میں پیش کی جائے گی لیکن مصنفین کا کہنا تھا کہ 3 ارب جانوروں کے متاثر ہونے کی تعداد میں تبدیلی کا امکان نہیں ہے۔

اس رپورٹ کو کمیشنڈ کرنے والی ورلڈ وائڈ فنڈ فار نیچر کی آسٹریلین برانچ کے سی ای او ڈرموٹ او گورمین کا کہنا تھا کہ 'ابتدائی حقائق بہت چونکانے والے ہیں'۔

یہ بھی پڑھیں: آسٹریلیا کے جنگلات میں لگی آگ سے تباہی، ہزاروں افراد محصور

انہوں نے کہا کہ دنیا میں کہیں اور اس طرح کے کسی واقعے کے بارے میں سوچنا بہت مشکل ہے جس کے نتیجے میں اتنی بڑی تعداد میں جانور ہلاک یا دربدر ہوئے ہوں۔

ساتھ ہی انہوں نے 'اسے جدید تاریخ میں جنگلی حیات کی بدترین آفات میں سے ایک قرار دیا'۔

سائنسدانوں کا کہنا تھا کہ گلوبل وارمنگ آسٹریلیا کی موسم گرما کو طویل کر رہی ہے اور اسے خطرناک بنا رہی ہے جبکہ موسم سرما کی مدت کم ہونے کے باعث بش فائر کی روک تھام کے کاموں میں مشکلات پیدا ہوگئی ہیں۔

علاوہ ازیں برطانوی خبررساں ادارے 'رائٹرز' کی رپورٹ کے مطابق جب آسٹریلیا میں آگ لگی تھی اس وقت ڈبلیو ڈبلیو ایف نے متاثرہ جانوروں کی تعداد کا تخمینہ ایک ارب 25 کروڑ لگایا تھا تاہم یہ تعداد ان کے تخمینے سے تقریباً 3 گنا زیادہ ہے۔

مذکورہ تحقیق کی قیادت کرنے والی یونیورسٹی آف سڈنی کی للی وان ایڈین نے کہا کہ یہ تحقیق جنگلات میں لگنے والی آگ سے متاثرہ جانوروں سے متعلق براعظم تک محیط پہلا تجزیہ اور دیگر اقوام اس کی بنیاد پر ایسی آگ کے اثرات کو زیادہ بہتر طریقے سے سمجھ سکتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق تباہ شدہ رہائش گاہوں کی وجہ سے دربدر ہونے والے جانوروں کی مجموعی تعداد کو اب خوراک اور پناہ کی قلت کا سامنا ہے جو اب شاید کسی ایسی جگہ جائیں جہاں پہلے سے دیگر جانوروں کا قبضہ موجود ہو۔