اپوزیشن کو این آر او طرز کی کوئی رعایت نہیں دی جائے گی، وزیراعظم

اپ ڈیٹ 31 جولائ 2020

ای میل

وزیراعظم نے کہا کہ ایف اے ٹی ایف سے متعلق ترامیم ملک کے سنہری مستقبل کے لیے اہم تھیں — فائل فوٹو: فیس بک
وزیراعظم نے کہا کہ ایف اے ٹی ایف سے متعلق ترامیم ملک کے سنہری مستقبل کے لیے اہم تھیں — فائل فوٹو: فیس بک

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان نے ایک مرتبہ پھر کہا ہے کہ وہ قومی احتساب آرڈیننس میں اپوزیشن کی مجوزہ ترامیم قبول کر کے انہیں کسی قسم کا این آر او (قومی مفاہمتی آرڈیننس) نہیں دیں گے۔

پارلیمنٹ ہاؤس میں پی ٹی آئی پارلیمینٹرین کے لیے ظہرانے کی میزبانی کرتے ہوئے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ہم اپوزیشن کے ہاتھوں بلیک میل نہیں ہوں گے اگر اپوزیشن ایف اے ٹی ایف سے متعلق بلز کی مخالفت کرتی ہے تو ہم ان کی منظوری کے لیے پارلیمان کا مشترکہ اجلاس بلا سکتے تھے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق اس سلسلے میں پی ٹی آئی کے ایک رکن نے بتایا کہ وزیراعظم عمران خان نے ایف اے ٹی ایف بلز کی حمایت کرنے کے لیے اپوزیشن کی ’بارگیننگ‘ اور ’استحصال‘ پر سخت تنقید کی۔

یہ بھی پڑھیں: جب تک زندہ ہوں کسی کو این آر او نہیں دوں گا، وزیراعظم

وزیراعظم نے کہا کہ اپوزیشن نے قومی احتساب آرڈیننس 1999 کی 38 دفعات میں سے 34 کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا تا کہ نیب میں جاری کیسز بند ہوسکیں۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ’وہ (اپوزیشن رہنما) دعویٰ کررہے تھے انہوں نے پی ٹی آئی حکومت سے کبھی این آر او نہیں مانگا لیکن ان کی تجویز کردہ ترامیم ان کے این آر او مانگنے کا ثبوت ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’اپوزیشن نے ایف اے ٹی ایف بلز کو احتساب آرڈیننس کی 34 دفعات ختم کرنے کے لیے ’پلی بارگین‘ کے طور پر استعمال کرنے کی کوشش کی، اپوزیشن رہنماؤں کی تمام سیاست ’مجرمانہ‘ ڈیزائن اور ان کے مفادات کے گرد گھومتی ہے۔

مزید پڑھیں: حکومت نے آرڈیننس کی شکل میں کلبھوشن یادیو کو این آر او دیا، بلاول بھٹو

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ’ایف اے ٹی ایف سے متعلق ترامیم ملک کے سنہری مستقبل کے لیے اہم تھیں، ’ہم صرف ماضی کی غلطیاں سدھار رہے ہیں‘۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ قومی مفاد میں کوئی بھی قانون سازی کی جائے اپوزیشن کو اس کی حمایت کرنی چاہیے، ’اگر اپوزیشن قومی مفاد پر اپنے مفاد کو ترجیح دے گی تو اس کی حقیقت کھل کر سامنے آجائے گی‘۔

13 کھرب روپے کی معاشی سرگرمیاں

تعمیراتی شعبے کے ایک اجلاس میں وزیراعظم کو بتایا گیا کہ آئندہ 4 ماہ کے عرصے میں 13 تعمیراتی کمپنیوں کی سرمایہ کاری سے 13 کھرب روپے کی معاشی سرگرمیاں پیدا ہوں گی۔

وزیراعظم نے نیشنل کوآرڈینیشن کمیٹی برائے ہاﺅسنگ، کنسٹرکشن اینڈ ڈیولپمنٹ کے اجلاس کی صدارت کی، جس میں ایسوسی ایشن آف بلڈرز اینڈ ڈیولپرز آف پاکستان (آباد) کے 13 نمائندگان نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔

یہ بھی پڑھیں: تعمیراتی صنعت کو ریلیف سے اصل فائدہ کس کو ہوگا؟

دفتر وزیراعظم سے جاری پریس ریلیز کے مطابق ’اجلاس میں موجود آباد کے 13 نمائندگان کی جانب سے آئندہ تین سے چار ماہ میں مختلف منصوبے شروع کرنے کی یقین دہانی کراگئی، جس کے نتیجے میں 13 کھرب روپے کی معاشی سرگرمیاں پیدا ہوں گی‘۔

13 کمپنیوں کے ان منصوبوں میں ایک لاکھ کے قریب رہائشی یونٹس کی تعمیر بھی شامل ہے۔

وزیراعظم نے آباد کی جانب سے تعمیراتی شعبے میں دی جانے والی مراعات کا بھرپور فائدہ اٹھانے اور اربوں روپے کی معاشی سرگرمیاں شروع کرنے کی یقین دہانی پر اظہار اطمینان کیا۔

اجلاس میں تعمیراتی شعبے میں حکومت کی جانب سے دی جانے والی مراعات اور اس کے نتیجے میں شروع ہونے والی سرگرمیوں پر پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

آباد کے نمائندوں نے تعمیرات کے شعبے میں حکومت کی جانب سے تاریخی مراعات اور آسانیاں فراہم کرنے پر وزیرِاعظم کی تعریف کی، انہوں نے کہا کہ پہلی مرتبہ نجی بینکوں کی جانب سے تعمیراتی سرگرمیوں کے لیے بلڈرز اینڈ ڈیولپرز کی حوصلہ افزائی کی جا رہی ہے۔