پاکستانی فورسز نے اپنے دفاع میں افغان فورسز کی فائرنگ کا جواب دیا، ترجمان دفترخارجہ

اپ ڈیٹ 01 اگست 2020

ای میل

ترجمان دفتر خارجہ عائشہ فاروقی — فائل فوٹو:میڈیا ٹوڈے
ترجمان دفتر خارجہ عائشہ فاروقی — فائل فوٹو:میڈیا ٹوڈے

دفتر خارجہ کی ترجمان عائشہ فاروقی نے چمن میں باب دوستی کراسنگ پر مشتعل مظاہرین اور سیکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپ کے حوالے سے کہا کہ افغان فورسز نے بین الاقوامی سرحد کے اطراف پاکستان کی طرف جمع ہونے والے بے گناہ شہریوں پر بلا اشتعال فائرنگ کی اور پاکستانی فورسز نے ‘صرف اپنے دفاع’ میں افغان فورسز کی فائرنگ کا جواب دیا۔

انہوں نے کہا کہ چوکیوں پر تعینات پاکستانی فوجیوں نے افغان سیکیورٹی فورسز کی فائرنگ پر ردعمل کا اظہار کیا۔

مزید پڑھیں: افغان حکومت سرحدوں کو محفوظ بنانے کیلئے تعاون کرے، شبلی فراز

ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستانی فوجیوں نے مقامی آبادی کے تحفظ کے لیے جوابی کارروائی کی اور صرف اپنے دفاع میں فائرنگ کیا۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کی فورسز نے پہلے فائرنگ نہیں کی اور صرف اپنے دفاع میں جواب دیا۔

انہوں نے کہا کہ کشیدگی کو کم کرنے کے لیے پاکستان نے دونوں فوجی اور سفارتی چینلز کو متحرک کیا اور انتھک کوششوں کے بعد افغان سیکیورٹی فورسز نے فائرنگ روک دی۔

انہوں نے کہا کہ افغان حکام کی درخواست پر سرحدیں پیدل چلنے والوں اور تجارتی نقل و حمل کے لیے کھول دی گئی تھیں۔

عائشہ فاروقی نے کہا کہ پاکستان دونوں ممالک کے مابین تجارتی نقل و حمل کو بین الاقوامی قواعد میں لانے کی کوشش کر رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ عید الاضحیٰ کی وجہ سے پیدل چلنے والوں کو اجازت دی گئی۔

مزید پڑھین: چمن: سرحد پر سیکیورٹی فورسز اور مشتعل ہجوم میں جھڑپ، 3 افراد ہلاک

انہوں نے بتایا کہ اس مقصد کے لیے جمع ہونے والے لوگوں کو افغان فورسز نے جان بوجھ کر نشانہ بنایا۔

دفتر خارجہ کی جانب سے واقعے میں متعدد ہلاکتوں اور ریاستی انفرااسٹرکچر کو نقصان پہنچنے پر افسوس کا اظہار کیا گیا۔

ترجمان نے کہا کہ بدقسمتی سے افغان سرحد میں نقصان ہوا۔

عائشہ فاروقی نے کہا کہ اگر افغان سیکیورٹی فورسز کی طرف سے آغاز نہ کیا جاتا تو ان سب سے بچا جاسکتا تھا۔

انہوں نے زور دیا کہ پاکستان خطے میں امن اور استحکام کے مفاد میں افغانستان کے ساتھ برادرانہ تعلقات کو مزید فروغ دینے کے لیے اپنی مخلصانہ کوشش کرتا ہے۔

ترجمان نے امید ظاہر کی کہ ہماری تعمیری کاوشوں کا مثبت بدلہ دیا جائے گا۔

مزید پڑھیں: پاک افغان سرحد: فائرنگ کے نتیجے میں 3 شہری جاں بحق

واضح رہے کہ 30 جولائی کو چمن میں باب دوستی کراسنگ پر مشتعل مظاہرین اور سیکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپ میں ایک خاتون سمیت کم از کم 3 افراد ہلاک اور 20 سے زائد زخمی ہوگئے تھے جبکہ پاکستان اور افغان سیکیورٹی فورسز کے درمیان زبردست فائرنگ کا تبادلہ بھی ہوا تھا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق ذرائع کا کہنا تھا کہ جمعرات کو بڑی تعداد میں لوگوں نے اکٹھے ہوکر سرحد عبور کرنے کے ارادے سے باب دوستی پر دھرنا دیا۔

فرنٹیئر کور (ایف سی) کے اہلکاروں نے انہیں گیٹ سے ہٹ جانے کو کہا تاہم انہوں نے ایسا کرنے سے انکار کردیا تھا۔

ایف سی حکام نے انہیں بتایا تھا کہ مظاہرین کی منتقلی تک گیٹ نہیں کھولا جائے گا۔

مزید پڑھیں: پاک افغان سرحد: فائرنگ کے نتیجے میں 3 شہری جاں بحق

دریں اثنا خواتین اور بچوں سمیت افغان شہریوں کی ایک بڑی تعداد بھی افغانستان میں داخل ہونے کے لیے وہاں جمع ہوگئی تاہم جب سرحدی عہدیداروں نے گیٹ نہیں کھولا تو مظاہرین مشتعل ہوگئے اور باب دوستی پر واقع ایف سی اور دیگر سرکاری اداروں کے دفاتر پر حملہ کیا اور ایف سی اور نادرا کے دفاتر کو آگ لگا دی۔

بعد ازاں مظاہرین چمن شہر کی جانب گئے جہاں انہوں نے زبردستی تمام بازار اور شاپنگ مال بند کرادیے اور سڑکیں بند کردیں۔