ایف اے ٹی ایف نے پاکستان کو گھر صاف کرنے کا موقع فراہم کیا ہے، مشاہد حسین

02 اگست 2020

ای میل

مشاہد حسین نے کہا کہ ایف اے ٹی ایف ہمیں بلیک لسٹ میں نہیں ڈالے گا — فائل فوٹو بشکریہ جاوید حسین
مشاہد حسین نے کہا کہ ایف اے ٹی ایف ہمیں بلیک لسٹ میں نہیں ڈالے گا — فائل فوٹو بشکریہ جاوید حسین

اسلام آباد: سینیٹر مشاہد حسین نے کہا ہے کہ پاکستان فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے پاکستان یہ کام کر رہا ہے لیکن حقیقتاً منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی اعانت ملکی مفاد میں نہیں ہے۔

انہوں نے سینٹر فار پاکستان اینڈ گلف اسٹڈیز کے زیر اہتمام ایک ویبنار سے خطاب کرتے ہوئے کہا ایف اے ٹی ایف ایک نیا ہتھیار ہے جس میں ممالک پر دباؤ ڈالا جاتا ہے کہ وہ ہدایات پر عمل کریں اور حال ہی میں متحدہ عرب امارات کو مالی اعانت کے معاملات پر متنبہ کیا گیا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہمیں اپنا گھر خود صاف کرنا چاہیے۔

مزید پڑھیں: پاکستان ایف اے ٹی ایف کے ایکشن پلان پر عملدرآمد کو یقینی بنا رہا ہے، مشیر خزانہ

انہوں نے کہا کہ ایف اے ٹی ایف ہمیں بلیک لسٹ میں نہیں ڈالے گا بلکہ ہم پر دباؤ بڑھاتے رہیں گے۔

یہ ویبنار 'کورونا کے بعد ایک سڑک، ایک بیلٹ کی وابستگی: پاک چین اقتصادی راہداری پر توجہ' کے موضوع پر منعقد کیا گیا تھا اور اس میں عالمی منظرنامے میں تبدیلی کے تناظر میں سیاسی مستقبل پر توجہ مرکوز کی گئی۔

سینیٹر مشاہد حسین سید اس ویبنار کے مرکزی مقرر تھے اور انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ آج پاکستان کو جو مسائل درپیش ہیں، وہ افغان جہاد کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال کا نتیجہ ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایف اے ٹی ایف نے ہمیں اسے صاف کرنے کا موقع فراہم کیا ہے، افغانستان کے داخلی امور کے بارے میں پاکستان کا بدلتا ہوا رویہ بھی خطے کے مستحکم مستقبل کے لیے اچھا ہے۔

جو پاک چین انسٹی ٹیوٹ کے چیئرمین مشاہد حسین نے موجودہ حکومت کی پاک ایران سرحد پار پائیدار امن کے لیے جدوجہد کرنے کی تعریف کی۔

یہ بھی پڑھیں: ایف اے ٹی ایف کا پاکستان کو ایکشن پلان پر عملدرآمد کیلئے مزید وقت دینے کا فیصلہ

انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان کا گزشتہ سال ایران کا دورہ بہت اہم تھا، نہ تو پاکستان کی سرزمین ایران کے خلاف استعمال ہونی چاہیے اور نہ ہی ایرانی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہونی چاہئے۔

سینیٹر حسین نے کہا کہ اگر جنداللہ پاکستان میں ہوتی، بلوچ لبریشن آرمی ایران میں ہوتی، اگر ہم ایرانی بلوچ کارڈ کھیلتے ہیں تو وہ دوسرے کارڈ کو کھیلیں گے لہٰذا میں سمجھتا ہوں کہ ہمیں ایسا نہیں کرنا چاہیے کیونکہ یہ صرف ہندوستان کے مفادات کی تکمیل کا سبب بنے گا۔

مقررین نے امریکا اور ہندوستان کے درمیان بڑھتے ہوئے تعلقات اور افغانستان میں القاعدہ اور داعش کے عسکریت پسند گروپ کے ظہور پر بھی تبادلہ خیال کیا۔

مشاہ حسین سید نے کہا کہ شام میں داعش گروپ کو سی آئی اے اور موساد کی حمایت حاصل تھی، یہ بات دستاویزی شکل میں موجود ہے کہ شامی فوج سے لڑنے والے داعش کے عسکریت پسند گولن ہائٹس میں اسرائیلی اسپتالوں میں طبی امداد حاصل کر رہے ہیں۔

اسی کے ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ دنیا بدل رہی ہے اور کووڈ 19 کے بحران کے دوران مغرب کا زوال واضح طور پر ظاہر ہوا ہے۔

مزید پڑھیں: کورونا وائرس: پاکستان کو ایف اے ٹی ایف سے 5 ماہ کا اضافی وقت مل گیا

قائداعظم یونیورسٹی میں افریقہ، شمالی اور جنوبی امریکا کے ایریا اسٹڈی سینٹر کے ڈاکٹر منور حسین نے کہا کہ امریکا پاک چین اقتصادی راہداری کو چینی کی وسعت کے طور پر دیکھتا ہے اور اس ترقی کو پسند نہیں کرتا ہے کیونکہ اس نے پاک چین اقتصادی کو امریکا کے لیے خطرہ تصور کیا ہے۔

ڈاکٹر حسین نے کہا ، امریکی تصور کرتے ہیں کہ یہ راہداری مقامی قابلیت کو پامال کرتے ہوئے امریکی تسلط اور ان کے آزاد خیال عالمی نظم و ضبط کو ڈی ریل کرنے کا سبب بنے گی۔

یہ خبر یکم اگست بروز ہفتہ ڈان اخبار میں شائع ہوئی۔