‘چھوٹے، درمیانے زرعی کاروباروں کو حکومتی امداد کی ضرورت ہے’

اپ ڈیٹ 02 اگست 2020

ای میل

بین الااقوامی تجارتی مرکز نے سندھ اور بلوچستان کے دیہاتوں میں یہ سروے کیا۔ فائل فوٹو: ڈان
بین الااقوامی تجارتی مرکز نے سندھ اور بلوچستان کے دیہاتوں میں یہ سروے کیا۔ فائل فوٹو: ڈان

اسلام آباد: انٹرنیشنل ٹریڈ سینٹر(آئی ٹی سی) کی سروے رپورٹ کے مطابق سندھ اور بلوچستان میں لگ بھگ تمام زرعی مائیکرو، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری ادارے (ایم ایس ایم ایز) کورونا وائرس سے شدید متاثر ہوئے ہیں اور انہیں اپنا کاروبار بچانے کے لیے حکومت کی فوری مدد کی ضرورت ہے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ کی ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن (ڈبلیو ٹی او) کی ایجنسی انٹرنیشنل ٹریڈ سینٹر (آئی ٹی سی) 6 سالہ 'دیہی علاقوں کی ترقی اور استحکام' (گراسپ) کے منصوبے پر عمل کر رہا ہے جس کا مقصد پاکستان میں غربت کا خاتمہ اور سندھ اور بلوچستان کے چھوٹے درجے کے کاروبار کو مضبوط بنانا ہے۔

یہ منصوبہ 2019 میں شروع ہوا تھا جس کی فنڈنگ یورپی یونین کر رہی ہے اور یہ 2024 تک مکمل ہوگا۔

مزید پڑھیں: ای سی سی نے 100 ارب روپے کے زرعی پیکج کی منظوری دے دی

بلوچستان میں اس سروے میں نشاندہی کی گئی کہ 29 فیصد زرعی کاروباروں اور 34 فیصد کسان حکومت سے عارضی سبسڈی کا مطالبہ کر رہے ہیں تاکہ وہ بحران کے دوران اپنے پے رول کے اخراجات برداشت کرسکیں۔

اسی طرح 23 فیصد زرعی کاروباروں اور 28 فیصد کسانوں نے حکومت سے کام کرنے کا ماحول اور صفائی ستھرائی بہتر بنانے کا مطالبہ کیا تاکہ ورکرز کو واپس لاسکیں جبکہ 14 اور 18 فیصد سے سیکیورٹی امداد فراہم کرنے پر زور دیا تاکہ زرعی غذا کے شعبے کو اجناس کی گرتی ہوئی قیمتوں پر تحفظ فراہم کیا جاسکے۔

تقریباً 70فیصد زرعی کاروباری اداروں اور کسانوں نے کہا کہ انہیں معلومات تک رسائی حاصل اور ان کی مدد کے لیے اٹھائے گئے پالیسی اقدامات پر فوائد حاصل کرنے میں مشکلات کا سامنا رہا ہے، بالترتیب 29 فیصد اور 23 فیصد نے بتایا کہ سروے میں درج دیگر تجویز کردہ پالیسیوں کے علاوہ حکومت کی طرف سے عارضی اجرت سبسڈی سب سے زیادہ فائدہ مند ہوگی۔

سروے کے بیشتر رسپانڈنٹس (جواب دہندگان) نے کہا کہ انہیں گراسپ کے تحت فوری طور پر مدد کی ضرورت ہے تاکہ وہ اپنے کاروباری اداروں کو بچانے کے لیے حکمت عملی تیار کرسکیں۔

یہ بھی پڑھیں: سماجی و زرعی شعبے کیلئے عالمی بینک سے 37 کروڑ ڈالر قرض کا معاہدہ

انہوں نے چند دیگر فوری ضروریات بھی بتائیں جن میں ان پٹ کی دستیابی میں اضافہ، منڈی کے بارے میں معلومات کی فراہمی اور مالی اعانت تک رسائی میں مدد شامل ہے۔

آئی ٹی سی سروے نے اس بات کی نشاندہی کی کہ 28 فیصد کے زرعی کاروبار اور 29 فیصد کسان حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اس بحران سے نمٹنے کے لیے کریڈٹ گارنٹی اسکیمیں مہیا کریں۔

سندھ کے نصف دیہی ایم ایس ایم ای چاہتے ہیں کہ صوبائی انتظامیہ ان پٹ جیسے بیج، کھاد اور خوراک کی ادائیگی کو موخر کردے۔

ہر پانچ میں سے ایک کاشت کار اور 18 فیصد زرعی کاروباروں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ حکومت ہنگامی بنیادوں پر خوراک کے ذخائر یا فوڈ بینک بنائے تاکہ پیداواری سرگرمی پر تعاون حاصل ہوسکے۔

ایک چوتھائی نے اشیا کی گرتی قیمتوں کے خلاف تحفظ کی شکل میں سیکیورٹی نیٹ کا بھی مطالبہ کیا۔