کلبھوشن کیس: بھارت کو وکیل مقرر کرنے کی ایک اور پیشکش کی جائے، عدالت

اپ ڈیٹ 24 اگست 2020

ای میل

بھارتی جاسوس کو دو مرتبہ قونصلر رسائی دی گئی—فائل/فوٹو:ڈان
بھارتی جاسوس کو دو مرتبہ قونصلر رسائی دی گئی—فائل/فوٹو:ڈان

اسلام آباد ہائی کورٹ نے تین سینئر وکلا کو کلبھوشن یادیو کیس میں عدالتی معاون مقرر کردیا اور اٹارنی جنرل خالد جاوید خان سے کہا ہے کہ بھارتی جاسوس کے دفاع کے لیے وکیل مقرر کرنے کے لیے ایک مرتبہ پھر بھارتی حکومت کو پیشکش کی جائے۔

کلبھوشن یادیو کے لیے وکیل کے تقرر کے لیے حکومت پاکستان کی جانب سے دائر درخواست پر اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب پر مشتمل ڈویژنل بینچ نے سماعت کی۔

ہائی کورٹ کے بینچ نے اس کیس میں غیر ضروری بیانات دینے سے گریز کرنے کا انتباہ دیا، عدالت کا کہنا تھا کہ ’کلبھوشن یادیو سے متعلق کوئی بھی بیان دیتے ہوئے ہر کسی کو فیئر ٹرائل کا حق ذہن میں رکھنا چاہیئے۔

مزید پڑھیں:کلبھوشن یادیو کیلئے وکیل مقرر کرنے کی حکومتی درخواست 3 اگست کو سماعت کیلئے مقرر

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق عدالت نے اپنے حکم میں کہا کہ ’ہم سپریم کورٹ کے سینئر ایڈووکیٹس اور سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدور عابد حسن منٹو، میر حامد خان اور سابق اٹارنی جنرل آف پاکستان اور سپریم کورٹ کے سینئر وکیل مخدوم علی خان کو بالعموم قانونی معاونت کے لیے اور بالخصوص عالمی عدالت انصاف کے فیصلے کے مؤثر نفاذ کو یقینی بنانے کے لیے عدالتی معاونین مقرر کرتے ہیں‘۔

جس پر اٹارنی جنرل خالد جاوید خان نے اس بات کی ذمہ داری لی کہ ان کا دفتر اس سلسلے میں حکومت کو مشورہ دے گا، ان کا کہنا تھا کہ کلبھوشن یادیو کے پاکستان میں جاسوسی اور دہشت گردی جیسے سنگین جرائم کے اعتراف کے باوجود حکومت فیئر ٹرائل کے لیے پر عزم ہے۔

انہوں نے عدالت کو یہ بھی بتایا کہ ’کلبھوشن یادیو کا خیال رکھا جارہا ہے اور اس کی صحت اچھی ہے‘۔

سماعت کے دوران اٹارنی جنرل آف پاکستان خالد جاوید خان سے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کلبھوش یادیو کیس کا پس منظر بتانے کی ہدایت کی۔

اٹارنی جنرل نے دلائل دیے کہ کلبھوشن یادیو کو 3 مارچ 2016 کو غیر قانونی طور پر پاکستان داخل ہونے پر گرفتار کیاگیا اور اس نے بھارتی خفیہ ایجنسی ریسرچ اینڈ اینالسز ونگ (را) کی ایما پر پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث ہونے کا اعتراف کیا۔

انہوں نے کہا کہ کلبھوشن نے مجسٹریٹ کے سامنے اعترافی بیان میں جاسوسی کا بھی اعتراف کیا، جس پر فوجی عدالت نے آرمی ایکٹ اور آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت ٹرائل کرکے سزا سنائی۔

اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ بھارت نے اس حوالے سے 8 مئی2017 کو عالمی عدالت انصاف سے رجوع کیا اور ویانا کنونشن کی خلاف ورزی کرنے اور قونصلر رسائی نہ دینے کا الزام لگایا۔

انہوں نے بتایا کہ کلبھوشن یادیو کو سزائے موت کے خلاف نظرثانی اپیل کا پورا حق دیا گیا ہے اور عالمی عدالت انصاف کی ہدایت پر کلبھوشن یادیو کو 2 مرتبہ قونصلر رسائی بھی دی گئی۔

کیس سے متعلق تازہ معلومات سے آگاہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کلبھوشن یادیو اور بھارت نے وکیل کی سہولت لینے سے انکار کیا اور اب بھارت عالمی عدالت انصاف کے فیصلے سے بھاگ رہا ہے۔

اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ عالمی عدالت انصاف نے سزائے موت پر حکم امتناع جاری کیا جو آج بھی موجود ہے۔

یہ بھی پڑھیں: حکومت کی اسلام آباد ہائیکورٹ سے کلبھوشن کیلئے وکیل مقرر کرنے کی استدعا

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا کلبھوشن یادیو کی سزائے موت پر عمل درآمد کے خلاف اسٹے آرڈر اب بھی موجود ہے، جس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ جی سزائے موت پر عالمی عدالت انصاف کا اسٹے آرڈر موجود ہے۔

انہوں نے کہا کہ عالمی عدالت انصاف کے فیصلے پر عمل درآمد کے لیے آرڈینینس جاری کر کے سزا کے خلاف نظرثانی درخواست دائر کرنے کا موقع دیا گیا ہے اور بھارت کو دو بار کلبھوشن یادیو تک قونصلر رسائی دی گئی۔

جسٹس میاں گل حسن اورنگ زیب نے پوچھا کہ کیا بھارت نے قونصلر رسائی دونوں مرتبہ قبول کی، جس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ بھارت نے دو بار قونصلر رسائی لی جبکہ تیسری بار رسائی نہیں لی۔

اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ بھارت یہ تاثر دینا چاہتا ہے کہ کلبھوشن یادیو کو قونصلر رسائی نہیں دی جا رہی جبکہ پاکستان یقینی بنانا چاہتا ہے کہ وہ عالمی عدالت انصاف کے فیصلے کے مطابق اپنا فریضہ پورا کرے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان جلد بازی میں کوئی فیصلہ نہیں کرنا چاہتا، حکومت پاکستان نے اسی لیے عدالت سے کلبھوشن یادیو کو وکیل فراہم کرنے کی درخواست دائر کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ آرمی چیف کے سامنے رحم کی اپیل کیس عالمی عدالت انصاف میں جانے کے باعث تاحال زیر التوا ہے۔

اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ حکومت کی جانب سے آرڈیننس عالمی عدالت انصاف کے فیصلے پر عمل درآمد کے لیے جاری کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے کبھی بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی نہیں کی، پاکستان تمام بین الاقوامی قوانین پرعمل کررہا ہے جبکہ بھارت کلبھوشن کیس میں نقائص تلاش کرکے ریلیف لینا چاہتا ہے۔

مزید پڑھیں: پاکستان کا کلبھوشن یادیو کو تیسری مرتبہ قونصلر رسائی دینے کا فیصلہ

اٹارنی جنرل نے اپنے دلائل میں کہا کہ عالمی عدالت کی ہدایت پر کلبھوشن کو اپیل کا اختیار دینے کے لیے آرڈیننس جاری کیا گیا، اگر کوئی قیدی اپنے لیے وکیل نہ کر سکے تو عدالت اسے اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے وکیل مہیا کرتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ کلبھوشن یادیو کے لیےعدالت قانونی نمائندہ مقرر کرے، کمانڈریادیو پر دہشت گردی میں پاکستانیوں کا قتل عام ثابت ہو چکا ہے اور پاکستان پھر بھی کلبھوشن یادیو کو شفاف ٹرائل کا حق دیتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ عالمی عدالت انصاف نے کلبھوشن یادیو کو رہا کرنے کی بھارتی استدعا مسترد کی تاہم کلبھوشن یادیو کو شفاف ٹرائل کا مکمل حق دیا اور اسے کسی بھی قیدی کی طرح مکمل حقوق دیے گئے ہیں۔

چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ نے کہا کہ بھارت اور کلبھوشن یادیو کو ایک بارپھر قانونی نمائندہ مقرر کرنے کی پیش کش کریں، جس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ ہم تیار ہیں، بھارت اور کلبھوشن کو وکیل کی پیش کش کریں گے۔

عدالت نے حکومت کو بھارت کو کلبھوشن یادیو کے لیے وکیل مقرر کرنے کی پیش کش کرنے کی ہدات کرتے ہوئے کیس کی سماعت 3 ستمبر 2020 تک ملتوی کردی۔

قبل ازیں حکومت پاکستان کی درخواست پر سماعت سے قبل اسلام آبادہائی کورٹ میں سیکیورٹی کے سخت حفاظتی اقدامات کیے گئے تھے۔

خیال رہے کہ وفاقی حکومت نے گزشتہ ہفتے بھارتی خفیہ ایجنسی 'را' کے جاسوس کلبھوشن یادیو کے لیے سرکاری وکیل مقرر کرنے کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا تا کہ سزا سے متعلق عالمی عدالت انصاف کے فیصلے پر عملدرآمد کیا جاسکے۔

بھارتی حکومت اور اس کے خفیہ ادارے 'را' کی جانب سے کلبھوشن کی سزائے موت پر نظرِ ثانی کی درخواست سے گریز کیے جانے کے بعد حکومت نے سیکریٹری قانون کے توسط سے درخواست دائر کی تھی۔

درخواست میں سیکریٹری دفاع اور جنرل ہیڈ کوارٹرز (جی ایچ کیو) کے جج ایڈووکیٹ جنرل (جے اے جی) کو فریق بنایا گیا تھا اور اسلام آباد ہائی کورٹ سے استدعا کی گئی تھی کہ عالمی عدالت انصاف کے فیصلے کے مطابق فوجی عدالت کے فیصلے پر نظر ثانی اور دوبارہ غور کے لیے وکیل مقرر کرے۔

کلبھوشن یادیو کی گرفتاری اور عالمی عدالت میں مقدمہ

یاد رہے کہ ’را‘ کے لیے کام کرنے والے بھارتی نیوی کے حاضر سروس کمانڈر کلبھوشن یادیو عرف حسین مبارک پٹیل کو پاکستان کے قانون نافذ کرنے والے اداروں نے 3 مارچ 2016 کو غیرقانونی طور پر پاکستان میں داخل ہوتے ہوئے گرفتار کیا تھا۔

بھارتی جاسوس نے مجسٹریٹ اور عدالت کے سامنے اعتراف کیا تھا کہ کہ انہیں ’را‘ کی جانب سے پاکستان میں دہشت گردی کے لیے منصوبہ بندی اور رابطوں کے علاوہ امن کے عمل اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں جاری کوششوں کو سبوتاژ کرنے کی ذمہ داری دی گئی تھی۔

کلبھوشن نے یہ بھی کہا تھا کہ 2004 اور 2005 میں اس نے کراچی کے کئی دورے کیے جن کا مقصد 'را' کے لیے کچھ بنیادی ٹاسک سرانجام دینا تھا جب کہ 2016 میں وہ ایران کے راستے بلوچستان میں داخل ہوا۔

یہ بھی پڑھیں: کلبھوشن کیس: ایڈہاک جج کا اختلافی نوٹ میں پاکستان کا دفاع، بھارت پر تنقید

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کی جانب سے کلبھوشن یادیو کے اعترافی بیان کی ایک ویڈیو بھی جاری کی گئی تھی جس میں اس نے اعتراف کیا تھا کہ اس کا پاکستان میں داخل ہونے کا مقصد فنڈنگ لینے والے بلوچ علیحدگی پسندوں سے ملاقات کرنا تھا۔

بعدازاں اپریل 2017 کو آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ کلبھوشن یادیو کو فوجی عدالت نے پاکستان کی جاسوسی، کراچی اور بلوچستان میں تخریبی کارروائیوں میں ملوث ہونے پر سزائے موت دینے کا فیصلہ سنایا تھا، جس کی توثیق بعد میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کی تھی۔

بھارت نے 9 مئی 2017 کو عالمی عدالت انصاف میں کلبھوشن یادیو کی سزائے موت کے خلاف اپیل دائر کی تھی، اور درخواست کی تھی کہ آئی سی جے پاکستان کو بھارتی جاسوس کو پھانسی دینے سے روکے جسے سماعت کیلئے مقرر کرلیا گیا۔

عالمی عدالت انصاف میں کی گئی درخواست میں بھارت نے پاکستان پر ویانا کنونشن کی خلاف ورزی کا الزام لگایا گیا تھا کہ ویانا کنونشن کے مطابق جاسوسی کے الزام میں گرفتار شخص کو رسائی سے روکا نہیں جاسکتا۔

مزید پڑھیں: پاکستان کا کلبھوشن یادیو کو قونصلر رسائی دینے کا اعلان

بھارت نے دعویٰ کیا تھا کہ کلبھوشن یادیو ایک بے قصور تاجر ہے جسے ایران سے اغوا کرنے کے بعد تشدد کا نشانہ بنا کر زبردستی را ایجنٹ ہونے کا اعتراف کروایا گیا لیکن بھارت اغوا کیے جانے کے کوئی بھی ثبوت پیش نہیں کرسکا تھا۔

جس کے بعد 18 مئی 2018 کو عالمی عدالت انصاف نے عبوری حکم جاری کرتے ہوئے کلبھوشن کی پھانسی روکنے کا حکم دیا تھا جس کے بعد دفتر خارجہ نے آگاہ کیا تھا کہ آئی سی جے کے حکم پر حکومتِ پاکستان نے متعلقہ اداروں کو اس پر عمل کرنے کی ہدایت کردی۔

بعد ازاں 17 جولائی 2019 کو عالمی عدالت نے کیس کا حتمی فیصلہ سنادیا تھا جس کے مطابق کلبھوشن یادیو کو پاکستانی فوجی عدالت کی جانب سے دیا جانے والا سزائے موت کا فیصلہ منسوخ اور کلبھوشن کی حوالگی کی بھارتی استدعا مسترد کردی گئی تھی۔عدالت نے اپنے فیصلے میں پاکستان کو ہدایت کی تھی کہ وہ کلبھوشن کو قونصلر رسائی دے، جس پر پاکستان نے بھارتی جاسوس کو قونصلر رسائی فراہم کردی تھی

قبل ازیں دسمبر 2017 میں پاکستان نے کلبھوشن یادیو سے ان کی اہلیہ اور والدہ کی ملاقات بھی کروائی تھی۔