بالوں سے لوگوں کی غذا، صحت اور آمدنی کے بارے میں جاننا ممکن

04 اگست 2020

ای میل

— شٹر اسٹاک فوٹو
— شٹر اسٹاک فوٹو

کیا آپ یقین کریں گے کہ صرف بالوں سے یہ جاننا ممکن ہے کہ کیسی غذا کھاتے ہیں، کتی آمدنی ہے اور مستقبل قریب میں کن بیماریوں کا سامنا ہوسکتا ہے؟

کم از کم سائنسدانوں نے یہی دعویٰ کیا ہے۔

جریدے پروسیڈنگز آف دی نیشنل اکیڈمی آف سائنسز میں شائع ہونے والی تحقیق میں امریکا کی 65 برادریوں سے ہیئر سیلونز سے بالوں کے نمونے اکٹھے کیے گئے۔

امریکا کی یوٹاہ یونیورسٹی کی تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ بالوں سے لوگوں میں پائے جانے والی غذائی عادات کے بارے میں جاننا ممکن ہے۔

بالوں میں موجود امینو ایسڈز کا تجزیہ کرنے پر محققین نے شناخت کیا کہ لوگوں کی غذا میں پروٹین کے حصول کا ذریعہ کیا ہے۔

اگر آپ کو علم نہ ہو تو جان لیں کہ گوشت اور سبزیوں میں پائے جانے والا پروٹین منفرد ہوتے ہیں اور بالوں کے نمونے میں ان کو شناخت کیا جاسکتا ہے۔

درحقیقت محققین نے بالوں کا تجزیہ کرکے غذائی عادات کی درست پیشگوئی کی جبکہ انہوں نے یہ بھی دیکھا کہ بالوں میں کاربن کی کم سطح کا مطلب یہ ہے کہ وہ فرد طرز زندگی میں زیادہ اخراجات کرتا ہے یا یوں کہہ لیں کہ امیر ہے۔

انہوں نے یہ بھی دریافت کیا کہ بالوں کے ذریعے غذائی عادات کے بارے میں جان کر ہر برادری کے افراد میں طبی خطرات کی پیشگوئی بھی کی جاسکتی ہے۔

مثال کے طور پر جن افراد کے بالوں سے زیادہ گوشت کھانے کا عندیہ ملتا ہے، وہ ممکنہ طور پر ایسے علاقوں کے رہائشی ہوسکتے ہیں جہاں موٹاپے اور خون کی شریانوں سے جڑے امراض کی شرح زیادہ ہوتی ہے۔

محققین کے مطابق بالوں کے نمونے روایتی طریقوں جیسے سروے کے مقابلے میں لوگوں کی غذا کی مانیٹرنگ کا زیادہ مستند ذریعہ ثابت ہوسکتے ہیں، کیونکہ کسی سروے میں لوگوں کی یادداشت پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔