سی پیک کا دوسرا مرحلہ شروع ہوگیا، جنرل عاصم باجوہ

اپ ڈیٹ 08 اگست 2020

ای میل

سی پیک کا دوسرا مرحلہ شروع ہو گیا ہے جس میں منصوبے کے معاشی ثمرات پاکستان کے عوام تک پہنچائے جائیں گے، چیئرمین سی پیک اتھارٹی اےایف پی:فائل فوٹو
سی پیک کا دوسرا مرحلہ شروع ہو گیا ہے جس میں منصوبے کے معاشی ثمرات پاکستان کے عوام تک پہنچائے جائیں گے، چیئرمین سی پیک اتھارٹی اےایف پی:فائل فوٹو

پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) اتھارٹی کے چیئرمین لیفٹننٹ جنرل (ریٹائرڈ) عاصم سلیم باجوہ کا کہنا ہے کہ اگست کے تیسرے ہفتے میں رشکئی فری اقتصادی زون کے حوالے سے معاہدے پر دستخط ہو جائیں گے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق ان کے مطابق سی پیک کا دوسرا مرحلہ شروع ہو گیا ہے جس میں منصوبے کے معاشی ثمرات پاکستان کے عوام تک پہنچائے جائیں گے، گوادر اور بلوچستان میں غیرمعمولی اقتصادی سرگرمیوں کا آغاز ہو چکا ہے اور ان میں مقامی افراد کی زیادہ سے زیادہ شمولیت کو یقینی بنایا جارہا ہے۔

جنرل عاصم سلیم باجوہ جو وزیر اعظم کے معاون خصوصی برئے اطلاعات بھی ہیں، نے پالیسی ادارہ برائے پائیدار ترقی (ایس ڈی پی آئی) کے زیر اہتمام ’گوارد بندرگاہ اورفری اقتصادی زون کا بلوچستان اور خطے کی مربوطی میں کردار‘ کے زیر عنوان آن لائن مکالمے کی صدارت کررہے ہیں۔

مزید پڑھیں: ’مغربی اثر و رسوخ کے باعث سی پیک کو سرد خانے کی نذر کردیا گیا‘

جنرل عاصم سلیم باجوہ نے کہا کہ یہ تاثر قطعی طور پر بے بنیاد ہے کہ سی پیک منصوبہ سست روی کا شکار ہے، اس کے برعکس منصوبے کے تحت شروع ہونے والی سرگرمیوں میں تیزی آ رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگست کے تیسرے ہفتے میں رشکئی فری اقتصادی زون کے حوالے سے معاہدے پر دستخط ہو جائیں گے۔

افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس کا رجحان اب گوادر کی جانب ہو رہا ہے، گوادر کی بندرگاہ اور ایئرپورٹ اب مکمل طور پر کھول دیے گئے ہیں اور گوادر ڈسٹرکٹ اقتصادی زون کی تکمیل تیزی سے جاری ہے۔

پاکستان میں تعینات چین کے سفیر یاؤ جنگ نے اس موقع پر کہا کہ گوادر خطے کے مربوطی اور مجموعی ترقی میں انتہائی اہم حیثیت کا حامل ہے۔

یہ بھی پڑھیں: سی پیک کے تحت خصوصی اقتصادی زونز کے قوانین پر نظر ثانی

انہوں نے کہا کہ سی پیک اتھارٹی سمیت حکومت پاکستان کے مختلف محکموں نے منصوبے کی سرعت کے ساتھ تکمیل میں اہم کردار ادا کیا ہے اور ٹیکسوں کے حوالے مراعات کے اعلان کے بعد سرمایہ کاروں کا رخ گوادر کی جانب ہونے کی توقع کی جا رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ چینی حکومت گوادر ہی نہیں بلکہ پورے بلوچستان کو ترقی دینے کے لیے پاکستان کے ساتھ تعاون کو مزید وسیع کرے گی۔