پارک لین ریفرنس: سابق صدر آصف زرداری پر بالآخر فردِ جرم عائد

اپ ڈیٹ 10 اگست 2020

ای میل

پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین کراچی کے بلاول ہاؤس سے ویڈیو لنک کے ذریعے پیش ہوئے — فائل فوٹو: اے ایف پی
پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین کراچی کے بلاول ہاؤس سے ویڈیو لنک کے ذریعے پیش ہوئے — فائل فوٹو: اے ایف پی

اسلام آباد کی احتساب عدالت نے پارک لین ریفرنس میں سابق صدر آصف علی زرداری اور شریک ملزمان پر فرد جرم عائد کردی۔

احتساب عدالت کے جج محمد اعظم خان نے پارک لین ریفرنس کی سماعت کی، اس سے قبل فرد جرم کی کارروائی کا متعدد مرتبہ اعلان ہوا تاہم فرد جرم عائد نہیں کی جاسکی تھی۔

سماعت میں پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین کراچی کے بلاول ہاؤس سے ویڈیو لنک کے ذریعے پیش ہوئے جبکہ کراچی رجسٹرار آفس میں موجود ملزمان کی بھی ویڈیو لنک کے ذریعے حاضری لگائی گئی۔

سابق صدر آصف علی زرداری نے ویڈیو لنک کے ذریعے سماعت میں کہا کہ آپ میرے وکیل کی غیر موجودگی میں مجھ پر فرد جرم عائد نہیں کر سکتے۔

یہ بھی پڑھیں: پارک لین ریفرنس میں آصف زرداری پر10اگست کو فردِ جرم عائد کی جائے گی

عدالت نے ان سے کہا کہ ہم آپ سے بس دو الزامات کے بارے میں پوچھیں گے جس پر آصف زرداری نے کہا کہ لیکن جواب تو میرا وکیل دے گا، مجھے 30 سال ہو گئے مقدمات کا سامنا کرتے ہوئے، مجھے عدالتی کارروائی کا اندازہ ہے۔

جس پر عدالت نے ریمارکس دیے کہ پھر تو آپ کو اعتراض نہیں کرنا چاہیے۔

اس موقع پر نیب پراسیکیوٹر نے تجویز دی کہ ان کی تمام درخواستیں بھاری جرمانے کے ساتھ مسترد کی جائیں۔

آصف زرداری نے کہا کہ میرے وکیل سپریم کورٹ میں موجود ہیں، وہ آج یہاں موجود نہیں لہٰذا فرد جرم عائد نہ کی جائے۔

جس پر جج نے کہا کہ فاروق ایچ نائیک ضرور سپریم کورٹ مصروف ہوں گے لیکن جونیئر کو بھیج سکتے تھے۔

مزید پڑھیں: پارک لین ریفرنس: آصف زرداری پر فرد جرم 26 جون کو عائد کیے جانے کا امکان

جج کا مزید کہنا تھا کہ چارج فریم میں ملزم کا ہونا لازمی ہوتا ہے، چارج فریم انگلش میں ہے امید ہے آپ سمجھ جائیں گے۔

آصف زرداری نے ایک مرتبہ پھر کہا کہ 30 سال ہو گئے ہیں مقدمات کا سامنا کرتے ہوئے، آپ مجھے رولنگ دے دیں۔

جس پر جج اعظم خان نے کہا کہ کورٹ رولنگ دے گی، ہم کورٹ آڈر میں لکھوائیں گے کہ آپ کا وکیل موجود نہیں تھا، اب آپ پر منحصر ہے کہ آپ مانتے ہیں یا انکار کرتے ہیں۔

پارک لین ریفرنس کے شریک ملزمان نے فرد جرم پر اعتراضات اٹھا ئے تاہم عدالت نے فرد جرم مؤخر کرنے کی استدعا مسترد کردی۔

عدالت نے ریمارکس دیے کہ آپ اب تک کیا کر رہے تھے؟ کیا آپ اس دن کا انتظار کر رہے تھے؟ ہم فرد جرم عائد کرنے کی کارروائی ملتوی نہیں کر سکتے۔

یہ بھی پڑھیں: پارک لین ریفرنس: آصف زرداری پر ایک مرتبہ پھر فرد جرم عائد نہ ہوسکی

اس موقع پر اقبال نوری کے وکیل نے کہا کہ میرے مؤکل جیل میں ہیں ملاقات نہیں کرنے دی گئی، عدالت سے استدعا ہے ملزم اقبال نوری سے ملاقات کی اجازت دی جائے۔

جس پر جج اعظم خان نے کہا کہ آج فرد جرم عائد کر دیتے ہیں پھر آپ ملاقات کر لیں۔

ان کے علاوہ ملزم طٰحٰہ رضا کے وکیل نے بھی اپنے مؤکل سے ملاقات کی اجازت مانگی اور کہا کہ طٰحٰہ رضا کی جانب سے بریت کی درخواست بھی دائر کر رکھی ہے، ہم نے ملاقات کی بارہا کوشش کی لیکن ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی۔

وکیل کا مزید کہنا تھا کہ ہم نے فرد جرم سے متعلق ہی مؤکل سے بات کرنی ہے، میرا مؤقف ہے کہ میرے مؤکل پر چارج فریم ہو ہی نہیں سکتا۔

بعدازاں جج اعظم خان نے سابق صدر آصف علی زرداری پر فرد جرم کی تحریر پڑھ کر سنائی۔

مزید پڑھیں: پارک لین ریفرنس: آصف زرداری پر 25 مارچ کو فرد جرم عائد کیے جانے کا امکان

عدالت نے سوال کیا کہ کیا آپ نے فرنٹ کمپنی پارتھینن کے ذریعے غیر قانونی ڈیڑھ ارب روپے کا قرض حاصل کر کے فراڈ کیا؟ جس پر سابق صدر آصف علی زرداری نے صحت جرم سے انکار کیا تاہم عدالت نے سابق صدر آصف علی زرداری پر فرد جرم عائد کر دی۔

پارک لین ریفرنس کے شریک ملزمان شیر علی، محمد سلیم فیصل اور فاروق عبداللہ، محمد حنیف اور طٰحہٰ رضا نے بھی صحت جرم سے انکار کیا۔

پارک لین ریفرنس

خیال رہے کہ آصف علی زرداری پر یہ الزام ہے کہ وہ 'ایم/ایس پارتھینن پرائیویٹ لمیٹڈ، ایم/ایس پارک لین اسٹیٹ پرائیویٹ لمیٹڈ اور دیگر کے ذریعے قرض میں توسیع اور اس کے غلط استعمال' میں ملوث تھے۔

دوسری جانب آصف علی زرداری، ان کی بہن فریال تالپور اور دیگر افراد جعلی بینک اکاؤنٹس کے ذریعے کرپشن اور پارک لین پرائیویٹ لمیٹڈ اور پارتھینن پرائیویٹ لمیٹڈ کے لیے مالی معاونت میں غبن کے الزامات کا بھی سامنا کررہے ہیں۔

جس پر 4 جولائی 2019 کو نیب کے ایگزیکٹو بورڈ کے اجلاس میں سابق صدر آصف علی زرداری اور دیگر کے خلاف بدعنوانی کے الزام پر ریفرنس دائر کرنے کی منظوری دی گئی تھی۔

ریفرنس کے حوالے سے کہا گیا تھا کہ ‘ملزمان پر مبینہ طور پر پارتھینن پرائیویٹ لمیٹڈ، پارک لین پرائیویٹ لمیٹڈ کے لیے حاصل کردہ مالی سہولت میں خورد برد اور جعلی بینک اکاوئنٹس کے ذریعے بدعنوانی کا الزام ہے جس سے قومی خزانے کو مبینہ 3 ارب 77 کروڑ کا نقصان پہنچا’۔