مالی سال20-2019 میں خسارہ جی ڈی پی کے مقابلے میں 8.1 فیصد رہا

اپ ڈیٹ 12 اگست 2020

ای میل

پی ٹی آئی حکومت کا دوسرا سال ہے کہ جس می ملک کا مالیاتی خسارہ 8 فیصد سے زائد رہا—فائل فوٹو: ثوبیہ شاہد
پی ٹی آئی حکومت کا دوسرا سال ہے کہ جس می ملک کا مالیاتی خسارہ 8 فیصد سے زائد رہا—فائل فوٹو: ثوبیہ شاہد

اسلام آباد: مالی سال 20-2019 میں پاکستان کا مالیاتی خسارہ مجموعی ملکی پیداوار (جی ڈی پی) کا 8.1 فیصد رہا جس کی بڑی وجہ وزیراعظم کے معاشی ریلیف اور سپورٹ پیکج کا مکمل استعمال نہ ہونا ہے۔

وزارت خزانہ سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق 30 جون 2020 کو اختتام پذیر ہونے والے مالی سال میں ملکی خسارہ 33 کھرب 76 ارب روپے یعنی جی ڈی پی کا 8.1 فیصد رہا جو 4 دہائیوں میں بلند ترین سطح ہے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق یہ پی ٹی آئی حکومت کا دوسرا سال ہے کہ جس میں ملک کا مالیاتی خسارہ 8 فیصد سے زائد رہا۔

وزارت خزانہ نے وزیراعظم کے اعلان کردہ کووِڈ 19 ریلیف پیکج کی بنیاد پر مالیاتی خسارہ 9.1 فیصد رہنے کا تخمینہ لگایا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: حکومتی اخراجات میں کمی سے مالی خسارہ ایک فیصد کم ہوا، شبلی فراز

دوسری جانب عالمی مالیاتی فنڈ نے بھی ایک ارب 40 کروڑ ڈالر کی ریپڈ فنانسنگ انسٹرومنٹ کے حصے کے طور پر مالیاتی خسارہ 9.2 فیصد یعنی 38 کھرب 60 ارب روپے رہنے کا اندازہ لگایا تھا جس کی بڑی وجہ آمدن میں بڑی کمی اور کووِڈ 19 ریلیف پیکج سے ہونے والے اضافی اخراجات تھے۔

وزارت خزانہ کا کہنا تھا کہ قرضوں کی سروسنگ سے ہٹ کر بنیادی خسارہ جی ڈی پی کے 1.8 فیصد یعنی 7 کھرب 56 ارب 60 کروڑ روپے کے برابر ہے۔

اس ضمن میں وزارت خزانہ کے ایک سینئر عہدیدار نے کہا کہ وزارت کی جانب سے اخراجات پر کوئی پابندی عائد نہ کیے جانے کے باوجود اصل اخراجات تخمینے سے کم رہے اس کے بجائے وزارتوں، محکموں اور حکومت کے مختف شعبہ جات کو اخراجات کی بنیاد پر ادائیگیوں کی اجازت دی تھی۔

مزید پڑھیں: مالی سال 2020 میں جی ڈی پی کے مقابلے میں خسارہ 9 فیصد ہوجائے گا، اسٹیٹ بینک

عہدیدار نے کہا کہ وزارتوں اور محکموں کو کورونا وائرس کے پھیلاؤ کی وجہ سے ابتدا میں لگائے گئے لاک ڈان کے باعث خرچ کرنے کی گنجائش حاصل نہیں تھی اس طرح وزیراعظم کے 12 کھرب 40 ارب روپے کے پیکج میں سے 4 کھرب 80 ارب روپے کی بچت ہوئی۔

اس کے علاوہ وفاقی حکومت کی جانب سے ترقیاتی پروگرامز کے سلسلے میں بھی اخراجات کم رہے اور 7 کھرب ایک ارب روپے میں سے صرف 4 کھرب 68 ارب روپے پورے سال میں خرچ کیے گئے جبکہ 2 کھرب 33 ارب روپے بقیہ بچے جو جی ڈی پی کا 0.6 فیصد ہے۔

وزارت خزانہ کا کہنا تھا کہ مالی سال 20-2019 میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کا رینویو کلیکشن 55 کھرب 50 ارب روپے کے تخمینے کے جواب میں 39 کھرب 98 ارب روپے رہا یعنی 15 کھرب 52 ارب روپے کا فرق آیا۔

مجموعی ریونیو 62 کھرب 72 ارب روپے رہا جس میں 47 کھرب 47 ارب روپے کا ٹیکس ریونیو شامل ہے اس میں سے 43 کھرب 34 ارب روپے کا ریونیو وفاق جبکہ 4 کھرب 13 ارب 60 کروڑ روپے کی آمدن صوبوں سے حاصل ہوئی۔

یہ بھی پڑھیں: رواں مالی سال خسارہ بڑھے گا، محصولات کا ہدف حاصل کرنا ممکن نہیں، حفیظ شیخ

وزارت خزانہ کے مطابق گزشتہ مالی سال میں نان ٹیکس ریونیو 8 کھرب 95 ارب روپے کے ہدف کے مقابلے میں 15 کھرب 24 ارب روپے رہا جس میں 14 کھرب 22 ارب روپے وفاق اور ایک کھرب 2 ارب روپے صوبوں سے حاصل ہوئے۔

اس کے علاوہ گزشتہ مالی سال میں مجموعی اخراجات 96 کھرب 48 ارب روپے رہے جس میں 85 کھرب 32 ارب روپے کے حالیہ اخراجات بھی شامل ہیں اس میں وفاقی حکومت نے 06 کھرب 16 ارب جبکہ صوبائی حکومتوں نے 25 کھرب 16 ارب روپے خرچ کیے۔