سپریم کورٹ: وفاقی وزیر خسرو بختیار کی نااہلی کیلئے دائر درخواست مسترد

اپ ڈیٹ 12 اگست 2020

ای میل

وفاقی وزیر خسرو بختیار—فائل فوٹو: ڈان نیوز
وفاقی وزیر خسرو بختیار—فائل فوٹو: ڈان نیوز

سپریم کورٹ نے حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما اور وفاقی وزیر خسرو بختیار اور ان کے بھائی و وزیر خزانہ پنجاب ہاشم جواں بخت کی نااہلی کے لیے دائر درخواست مسترد کردی۔

عدالت عظمیٰ کی لاہور رجسٹر میں جسٹس سید منصور علی شاہ اور جسٹس امین الدین خان پر مشتمل 2 رکنی بینچ نے احسن عابد ایڈووکیٹ کی درخواست پر سماعت کی۔

سماعت کے دوران درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ لاہور ہائیکورٹ نے درخواست گزار کا مؤقف نظر انداز کرکے وزرا کی نااہلی کی درخواستیں مسترد کیں، جس پر جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ عدالت عالیہ کا تحریری حکم دکھائیں، ہمیں تو عدالتی حکم میں کوئی غلطی نظر نہیں آئی۔

جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیے کہ الیکشن ایکٹ کی دفعہ 143 اور 145 کے تحت آپ نے مدمقابل امیدوارں کو فریق نہیں بنایا تھا۔

مزید پڑھیں: سپریم کورٹ:وفاقی وزیر خسروبختیار کی نااہلی کیلئے درخواست سماعت کیلئے مقرر

اس پر درخواست گزار کے وکیل کا کہنا تھا کہ خسرو بختیار اور ہاشم جواں بخت نے کاغذات نامزدگی میں حقائق چھپائے، جس پر جسٹس امین نے پوچھا کہ آپ نے ان کے خلاف انتخابی عزر داری دائر کی؟

ساتھ ہی جسٹس منصور نے یہ کہا کہ آپ کو انتخابی درخواست دائر کرنے کا قانونی تقاضہ پورا کرنا چاہیے تھا۔

بعد ازاں عدالت نے خسرو بختیار اور ہاشم جواں بخت کی نااہلی کے لیے دائر درخواست کو مسترد کردیا۔

خیال رہے کہ مخدوم خسرو بختیار نے 2018 کے عام انتخابات میں این اے-177 رحیم یار خان اور مخدوم ہاشم جواں بخت نے پی پی-259 رحیم یار خان سے انتخاب میں حصہ لیا تھا اور کامیابی حاصل کی تھی۔

خسرو بختیار اس وقت وفاقی وزیر اقتصادی امور اور ان کے بھائی مخدوم ہاشم جواں بخت صوبائی وزیر خزانہ ہیں۔

تاہم درخواست گزار احسن عابد نے وفاقی وزیر اقتصادی امور خسرو بختیار اور ان کے بھائی ہاشم جواں بخت پر آمدن سے زائد اثاثے بنانے اور انہیں ظاہر نہ کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے درخواست دائر کی تھی۔

درخواست میں مؤقف اپنایا گیا تھا کہ دونوں بھائیوں نے آمدن سے زائد اثاثے بنائے اور انہیں ظاہر نہیں کیا جبکہ قومی احتساب بیورو (نیب) ملتان کو بھی ان کے خلاف کارروائی کے لیے درخواست دی گئی۔

درخواست گزار نے کہا تھا کہ نیب کی جانب سے دونوں بھائیوں کے خلاف کارروائی نہ کرنے پر لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کیا۔

انہوں نے کہا تھا کہ عدالت نے نیب کو قانون کے مطابق زیر التوا درخواست کا فیصلہ 3 ماہ میں کرنے کا حکم دیا لیکن نیب ملتان نے انکوائری اب مزید کارروائی کے لیے نیب لاہور کو بھجوادی۔

یہ بھی پڑھیں: وفاقی کابینہ میں رد و بدل، خسرو بختیار اور حماد اظہر کے قلمدان تبدیل

درخواست گزار نے کہا تھا کہ انکوائری کی پیش رفت سے بھی آگاہ نہیں کیا جارہا۔

انہوں نے مؤقف اپنایا تھا کہ دونوں بھائیوں کے اثاثے ایک سو ارب سے زائد ہیں، خسرو بختیار اور ہاشم جواں بخت صادق اور امین نہیں رہے، لہٰذا ان خلاف ریفرنس دائر کرنے اور نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) میں شامل کرنے کا حکم دیا جائے۔

عابد حسن نے درخواست کی تھی کہ خسرو بختیار اور ہاشم جواں بخت کو آئین کے آرٹیکل 63 کے تحت نااہل قرار دیا جائے۔