جوبائیڈن نے افریقی نژاد سینیٹر کمالا ہیرس کو نائب صدر کیلئے امیدوار نامزد کردیا

اپ ڈیٹ 12 اگست 2020

ای میل

کمالا ہیرس 2016 میں کیلی فورنیا سے سینیٹر منتخب ہوئیں—فائل/فوٹو:اے ایف پی
کمالا ہیرس 2016 میں کیلی فورنیا سے سینیٹر منتخب ہوئیں—فائل/فوٹو:اے ایف پی

امریکا کے ڈیموکریٹک صدارتی امیدوار جوبائیڈن نے سینیٹر کمالا ہیرس کو اپنے نائب کے طور پر مقابلے کے لیے منتخب کرلیا ہے، جو عہدے کے لیے پہلی سیاہ فارم خاتون اُمیدوار ہیں۔

خبر ایجنسی رائٹرز کے مطابق امریکا میں گزشتہ کئی مہینوں سے جاری نسلی فسادات اور سیاہ فارم شہریوں کے احتجاج کے بعد جوبائیڈن نے کمالا ہیرس کو نائب صدر کے لیے ڈیموکریٹس کا ٹکٹ دے دیا ہے۔

مزید پڑھیں:کمالا ہیرس کا امریکی صدارتی دوڑ میں شامل ہونے کا اعلان

سینیٹر کمالا ہیرس اس منصب کے لیے ٹکٹ حاصل کرنے والی پہلی افریقی اور ایشین نژاد خاتون بھی ہیں۔

کیلی فورنیا سے منتخب سینیٹر 55 سالہ کمالا ہیرس براہ راست صدارتی امیدوار کے لیے مہم چلاچکی ہیں لیکن پارٹی نے جوبائیڈن کو امیدوار چن لیا تھا اور اب 3 نومبر کو ہونے والے صدارتی انتخاب کے لیے ان پر نائب صدر کے امیدوار کے طور پر اعتماد کیا گیا۔

جوبائیڈن نے ٹوئٹر پر کمالا ہیرس کے بارے میں کہا کہ نڈر فائٹر اور ملک کی ایک بہترین عوامی خدمت گار ہیں۔

دوسری جانب کمالا ہیرس نے ٹوئٹر پر لکھا کہ جوبائیڈن، امریکا کے شہریوں کو مقام دلاسکتے ہیں کیونکہ انہوں نے اپنی زندگی ہمارے لیے لڑتے ہوئے گزاری ہے۔

—فوٹو:اے ایف پی
—فوٹو:اے ایف پی

مہم انتظامیہ کے مطابق جوبائیڈن اور کمالا ہیرس ایک ساتھ آبائی شہر ولمنگٹن کے علاقے ڈیلاویئر میں تقریب میں شریک ہوں گے۔

کمالا ہیرس افریقی نژاد امریکیوں کو ڈیموکریٹس کے لیے متحرک کرنے میں کلیدی کردار ادا کریں گے جو ان کے حلقے کے سب سے اہم ووٹر ہیں کیونکہ گزشتہ انتخاب میں سیاہ فارم ووٹرز کی عدم دلچسپی کے باعث ہیلری کلنٹن کو ٹرمپ سے شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

کمالا ہیرس کو نائب صدر کا امیدوار بنانا بھی دلچسپ امر ہے کیونکہ صدارتی امیدوار سابق سیاہ فارم امریکی صدر باراک اوباما کے نائب تھے اور اب انہوں ایک سیاہ فارم خاتون کو نائب صدر کے امیدوار کے طور پر منتخب کرلیا ہے۔

جوبائیڈن کے نائب کے لیے خود کو امیدوار تصور کرنے والی دیگر متعدد سیاہ فارم خواتین نے بھی کمالا کو بہترین نمائندہ قرار دیا۔

سیاہ فارم امریکی خاتون ویل ڈیمنگز کا کہنا تھا کہ 'پہلی مرتبہ کسی سیاہ فارم خاتون کو اس منصب کے لیے نامزد کرنے سے امریکا پر میرے اعتماد میں اضافہ ہوا ہے'۔

یہ بھی پڑھیں:امریکا: 19 سیاہ فام خواتین ریاست ٹیکساس میں جج مقرر

سابق صدر باراک اوباما نے ٹوئٹر میں کہا کہ 'انہوں نے اپنا کیریئر ہمارے آئین کے دفاع میں گزارا ہے اور حقوق کے لیے لڑتی رہی ہیں، ہمارے ملک کے لیے آج ایک اچھا دن ہے'۔

دوسری جانب ری پبلکن نے کمالا ہیرس کو نسل پرست کے طورپر دکھانے کی کوششیں شروع کردی ہیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں ایک بریفنگ میں کمالا کے بارے میں کہا کہ وہ انتہائی خطرناک اور بدتمیز ہیں جبکہ میرے خلاف ناکام صدارتی امیدوار تھیں۔

کمالا ہیرس کون ہیں؟

کیلی فورنیا میں پیدا ہونے والی کمالا ہیرس کی والدہ بھارتی نژاد امریکی سائنس دان تھی جن کا تعلق بھارتی ریاست تامل ناڈو سے تھا تاہم کمالا کے والد کا تعلق جمیکا سے تھا اور وہ پروفیسر تھے۔

کمالا ہیرس 2004 سے 2011 کے دوران دو مرتبہ سان فرانسیسکو کی ڈسٹرکٹ اٹارنی جنرل رہی تھیں جس کے بعد 2011 سے 2017 کے دروان دومرتبہ کیلیفورنیا کی اٹارنی جنرل منتخب ہوئی تھیں اور یہ اعزاز حاصل کرنے والی نہ صرف پہلی خاتون تھیں بلکہ گنجان ریاست کی پہلی سیاہ فارم اٹارنی جنرل بن گئی تھیں۔

مزید پڑھیں:نینسی پلوسی نے جوبائیڈن کی امریکی صدارتی امیدوار کے طور پر توثیق کردی

جنوری 2017 میں انہوں نے کیلیفورنیا کے جونیئر امریکی سینیٹر کے طور پر حلف اٹھایا اور جنوبی ایشیائی پس منظر رکھنے والی پہلی خاتون بن گئی تھیں اور اسی طرح امریکی تاریخ میں کیرول موسیلے براؤن کے بعد دوسری سیاہ فارم خاتون بن گئی تھیں۔

کمالا ہیرس 2008 میں آنے والے مالی بحران کے دوران کئی خاندانوں کے دفاع پر اکثر فخر کا اظہار کرتی ہیں جہاں انہوں نے بڑے بڑے مقدمات کا سامنا کیا۔

خود کو متوسط طبقے کی نمائندہ قرار دینے والی کمالا ہیرس پولیس کے ظلم اور سیاہ فارم غیر مسلح افراد کے قتل کی بھرپور مذمت کرتی ہیں۔

کمالا ہیرس 2016 میں کیلی فورنیا سے ڈیموکریٹس کی سینیٹر منتخب ہوئیں اور وہ امریکی تاریخ میں منتخب ہونے والی دوسری سیاہ فارم خاتون سینیٹر بن گئیں۔

بعد ازاں 2019 میں امریکی صدارتی انتخاب میں ڈیموکریٹس کے امیدوار کی دوڑ میں شامل ہونے کا اعلان کردیا تھا۔

ٹوئٹر میں جاری اپنے ویڈیو پیغام میں کمالا ہیرس نے کہا تھا کہ 'ہمارے ملک کا مستقبل آپ اور دیگر لاکھوں افراد پر منحصر ہے جو ہماری امریکی اقدار کے لیے ہماری آوازیں بلند کررہے ہیں'۔

ان کا کہنا تھا کہ 'اسی لیے میں امریکا کے صدر کے منصب کے لیے مہم چلارہی ہوں'۔