اسرائیل، یواے ای معاہدہ: 'بے باک، شرمناک، اچھی خبر'، عالمی سطح پر ملاجلا ردعمل

متحدہ عرب امارات کے ساتھ معاہدہ اسرائیلی قبضے اور جرائم کا صلہ ہے، حماس
اپ ڈیٹ 14 اگست 2020 02:44pm

اسرائیل اور متحدہ عرب امارات نے 'امن معاہدے' کا اعلان کیا ہے جس سے دونوں ریاستوں کے مابین سفارتی تعلقات بحال ہوجائیں گے۔

خبررساں ادارے 'اے ایف پی' کے مطابق مشرق وسطیٰ میں مذکورہ سیاسی پیش رفت سے متعلق عالمی ردعمل آنا شروع ہوگیا۔

واضح رہے کہ امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیل اور متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے مابین امن معاہدہ کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ دونوں ممالک باہمی تعلقات استوار کرنے پر متفق ہوگئے ہیں۔

امریکا کے صدر نے کہا تھا کہ اسرائیلی اور متحدہ عرب امارات کے وفود آئندہ ہفتوں میں سرمایہ کاری، سیاحت، براہ راست پروازوں، سلامتی اور باہمی سفارتخانوں کے قیام سے متعلق دوطرفہ معاہدوں پر دستخط کریں گے۔

اس معاہدے کے تحت اسرائیل فلسطین کے مغربی کنارے کے علاقوں میں اپنی خودمختاری کے اعلان کو عارضی طور پر معطل کرے گا۔

اسرائیل

اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو نے عبرانی زبان میں ٹوئٹ کیا کہ 'یہ تاریخی دن' ہے۔

علاوہ ازیں انہوں نے ٹی وی خطاب میں کہا کہ 'اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں آج ایک نئے دور کا آغاز ہوا ہے'۔

متحدہ عرب امارات

متحدہ عرب امارات نے کہا کہ اسرائیل کے ساتھ امن معاہدہ جرات مندانہ اقدام ہے جس سے اسرائیل اور فلسطین کےمابین طویل عرصے سے جاری تنازع کا حل ممکن ہوسکے گا۔

پریس کانفرنس کے دوران متحدہ عرب امارات کے وزیر مملکت برائے امور خارجہ انور قرقاش نے کہا کہ دونوں ممالک میں سفارت خانے سے متعلق حتمی طور پر کچھ نہیں کہہ سکتے لیکن اس میں یقینی طور پر زیادہ وقت نہیں لے گا۔

حماس

غزہ کی پٹی کے حکمران جماعت حماس نے مذکورہ معاہدے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے فلسطین کے مقاصد پورے نہیں ہوتے۔

حماس کے ترجمان حازم قاسم نے خبررساں ایجنسی 'اے ایف پی' کو بتایا کہ 'متحدہ عرب امارات کے ساتھ معاہدہ اسرائیلی قبضے اور جرائم کا صلہ ہے'۔

ایک بیان میں کہا گیا کہ فلسطینی صدر محمود عباس نے اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے معاہدے پر فلسطینی قیادت کا 'ہنگامی اجلاس' طلب کیا ہے۔

اقوام متحدہ

اقوام متحدہ کے ترجمان نے اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے معاہدے کے اعلان کے بعد کہا کہ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل 'مشرق وسطی کے خطے میں امن اور سلامتی کو فروغ دینے والے کسی بھی اقدام' کا خیرمقدم کرتے ہیں۔

ایران

ایران میں پاسداران انقلاب سے وابستہ تسنیم خبررساں ایجنسی نے کہا کہ اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کا معاہدہ شرمناک ہے۔

ایران کے روحانی پیشوا نے ابھی تک معاہدے پر کوئی رد عمل ظاہر نہیں کیا۔

مصر

مصر کے صدر عبد الفتاح السیسی نے اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے مابین امریکا کے کردار کی تعریف کی۔

انہوں نے ایک ٹوئٹ میں کہا کہ 'میں نے فلسطینی سرزمین پر اسرائیل کے الحاق کو روکنے کے بارے میں امریکا، متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے درمیان مشترکہ بیان کو دلچسپی اور تحسین کے ساتھ پڑھا'۔

مصر کے صدر نے مزید کہا کہ اس سے مشرق وسطی میں 'امن' لانے میں مدد ملے گی.

انہوں نے کہا کہ 'میں اپنے خطے کی خوشحالی اور استحکام کے لیے اس معاہدے کے معماروں کی کاوشوں کی تعریف کرتا ہوں'۔

واضح رہے کہ اسرائیل کے عرب ریاستوں کے ساتھ رسمی طور پر سفارتی تعلقات نہیں ہیں، اسرائیل کے رسمی سفارتی تعلقات دو پڑوسی عرب ممالک مصر اور اردن سے ہیں۔

برطانیہ

برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن نے بھی اس معاہدے کا خیرمقدم کیا۔

انہوں نے ٹوئٹ میں کہا کہ متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کا فیصلہ بڑی خوشخبری ہے۔

بورس جانسن نے کہا کہ اس میں میری گہری دلچسپی تھی کہ اسرائیل مغربی کنارے میں الحاق نہ کرے اور آج ہونے والا معاہدہ الحاق سے متعلق اسرائیلی فیصلے کو معطل کردے گا اس طرح یہ مشرق وسطی میں امن کی راہ میں ایک خوش آئند قدم ہے۔