یتیم خانوں میں موجود لڑکیوں کی شادیوں کا ریکارڈ جانچنے کا حکم

اپ ڈیٹ 15 اگست 2020

ای میل

سندھ ہائی کورٹ نے یتیم خانوں کے معاملات کی تحقیقات کا حکم دیا— فائل فوٹو: وکی میڈیا کامنز
سندھ ہائی کورٹ نے یتیم خانوں کے معاملات کی تحقیقات کا حکم دیا— فائل فوٹو: وکی میڈیا کامنز

کراچی: سندھ ہائی کورٹ کے بینچ نے فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) کو ہدایت کی ہے کہ وہ تمام یتیم خانوں کے مراکز کے معاملات کی تحقیقات کرے اور وہاں یتیموں کی شادیوں سے متعلق ان کے ریکارڈ کی جانچ کرے۔

جسٹس صلاح الدین پنہور کی سربراہی میں سنگل جج بینچ نے اس رپورٹ پر تشویش کا اظہار کیا کہ یتیم خانے کے مرکز میں رہائش پذیر نوجوان لڑکیوں کی شادیاں ان کی رضامندی کے بغیر کی جا رہی ہیں اور اس طرح کی شادیوں کے بارے میں کوئی ریکارڈ برقرار نہیں رکھا گیا ہے۔

مزید پڑھیں: ہیٹی: یتیم خانے میں آتشزدگی سے 15 بچے ہلاک

انہوں نے ایف آئی اے کے ڈائریکٹر جنرل کو ہدایت کی کہ وہ شادی شدہ لڑکیوں کی موجودہ حیثیت کا پتا لگائیں اور یہ بھی معلوم کریں کہ شادی کے لیے کیا ان لڑکیوں کی رضامندی لی گئی ہے، انہوں نے مزید ہدایت کی کہ اس بات کا بھی پتا لگایا جائے کہ آیا یہ شادیاں جائز ہیں یا نہیں اور کہیں اس میں مجرمانہ فعل یا انسانی اسمگلنگ کا تو کوئی امکان موجود نہیں۔

بنچ نے کہا کہ کسی بھی طرح کی غیر قانونی کارروائی کی صورت میں تمام ذمہ دار لوگوں کو کام میں لینا چاہیے جبکہ ایف آئی اے انہیں اپنانے یا گود لینے کے طریقہ کار کی بھی جانچ کرے۔

انہوں نے چیف سیکریٹری کو یہ ہدایت بھی کی کہ وہ 15 دن کے اندر اندر سماجی بہبود کے افسران کے ذریعہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ ایسے تمام اداروں کو شادیوں اور دلہنوں کا ریکارڈ رکھنا چاہیے اور لڑکیوں کو اپنی آنے والی زندگی کا انتخاب کرنے کی اجازت دینی چاہیے۔

سماعت کے آغاز پر ٹیم کے دیگر اراکین کے ساتھ ایدھی یتیم خانہ مرکز کا دورہ کرنے والے عدالت دوست فرد نے رپورٹ کے ذریعے بینچ کو آگاہ کیا کہ لڑکیوں کو مناسب سہولیات کے بغیر ایک عام کلاس میں رکھا گیا ہے اور انہیں نوکروں کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: لاہور: والدین کی یتیم خانے میں موجود بچے کو برطانیہ منتقل کرنے کی درخواست

رپورٹ میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ یتیم خانے کے مرکز سے متصل ایک علیحدہ جگہ اپنی بیٹی کے ساتھ رہنے والی انچارج خاتون نے لڑکیوں کجی مرضی کے بغیر ان کی شادیوں کے فیصلے کیے اور ایسی شادیوں کا ریکارڈ دستیاب نہیں تھا۔

عدالت نے کہا کہ پناہ گاہوں کو ایسی لڑکیوں/خواتین کے لیے مناسب، محفوظ اور وقار بخش زندگی کا مکمل اور شفاف ریکارڈ یقینی بنانا ہوگا، ان کے شادی بیاہ کے اہتمام کی کاوشوں کو سراہنے کی ضرورت ہے لیکن صرف اس صورت میں جب ان کی قانونی حیثیت ہو۔

اوقاف فنڈ کے سلسلے میں محکمہ خزانہ کے ڈپٹی ڈائریکٹر نے دعویٰ کیا کہ موجودہ بجٹ میں اعلیٰ تعلیم کے لیے ایک ارب روپے مختص کیے گئے ہیں اور اس طرح کی رقم ایک ماہ کے اندر محکمہ اسکول ایجوکیشن کے حق میں جاری کردی جائے گی۔

اس موقع پر ایڈیشنل سیکریٹری انڈومنٹ فنڈ نے دعویٰ کیا کہ ٹرسٹ ڈیڈ کا رجسٹر ہونا ابھی باقی ہے اور جو رقم موصول ہوئی ہے اس کی بغیر کسی تاخیر کے سرمایہ کاری کی جائے گی۔

سیکریٹری سوشل ویلفیئر محکمہ نے ایسی خواتین اور بچوں کی رہائش کے لیے پائلٹ پروجیکٹ کے سلسلے میں تعمیل رپورٹ درج کی اور کہا کہ اس منصوبے کو حتمی شکل دینے والی کمیٹی کے دوسرے اجلاس کے اوقات کار کے بارے میں محکمہ کو شدید تشویش ہے۔

مزید پڑھیں: یتیم بچوں کی رجسٹریشن کے لیے نادرا کی نئی پالیسی

رپورٹ میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ اجلاس میں کمیٹی کے 13 میں سے صرف چھ ممبران شریک ہوئے تھے اور پہلی میٹنگ میں اکثریتی ممبروں نے شرکت کی تھی، متفقہ طور پر فیصلہ کیا گیا تھا کہ دو مختلف مقامات پر دو مختلف پائلٹ منصوبے قائم کرنے کے بجائے ملیر میں سوشل ویلفیئر کمپلیکس کی دوسری منزل کا استعمال کیا جا سکتا ہے جہاں اس وقت جگہ دستیاب بھی ہے۔

تاہم دوسری میٹنگ میں کمیٹی نے اپنے پہلے فیصلے کو تبدیل کیا اور پورے معاشرتی بہبود کمپلیکس پر قبضہ کرنے کا عزم کیا۔

بینچ نے چیف سیکریٹری کو ہدایت کی کہ وہ ایک ماہ میں مسئلے کو حل کرے اور سندھ ہائی کورٹ سے منظور شدہ احکامات کی تعمیل اور اس کے ساتھ ساتھ کمیٹی کے پہلے اجلاس میں منظور ہونے والے فیصلے کو یقینی بنائے۔

یہ خبر 15اگست بروز ہفتہ ڈان اخبار میں شائع ہوئی۔