اسرائیل سے معاہدہ: یو اے ای کیلئے امریکی ہتھیاروں کی خریداری کی راہ ہموار ہوگی، ماہرین

15 اگست 2020

ای میل

مستقبل میں ہتھیاروں کی فروخت سے متعلق یو اے ای کو فائدہ ہوگا، اسرائیل میں امریکی سفیر — فائل فوٹو / رائٹرز
مستقبل میں ہتھیاروں کی فروخت سے متعلق یو اے ای کو فائدہ ہوگا، اسرائیل میں امریکی سفیر — فائل فوٹو / رائٹرز

ماہرین کا کہنا ہے کہ اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے درمیان سفارتی تعلقات معمول پر آنے سے خلیجی عرب ملک میں امریکی ہتھیاروں کی مزید فروخت کی راہ ہموار ہوگی۔

دو روز قبل متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے درمیان 'امن معاہدہ' ہوا تھا جس کے تحت دونوں ممالک کے سفارتی تعلقات بحال ہوجائیں گے۔

معاہدے کے مطابق اسرائیل مقبوضہ مغربی کنارے کے حصوں کے یکطرفہ الحاق کے اپنے منصوے کو مؤخر کردے گا۔

اس معاہدے کے بارے میں امریکی صدر نے اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ اسرائیلی اور متحدہ عرب امارات کے وفود آئندہ ہفتوں میں سرمایہ کاری، سیاحت، براہ راست پروازوں، سلامتی اور باہمی سفارتخانوں کے قیام سے متعلق دوطرفہ معاہدوں پر دستخط کریں گے۔

مزید پڑھیں: تاریخ متحدہ عرب امارات کے 'منافقانہ رویے' کو کبھی فراموش نہیں کرے گی، ترکی

اس معاہدے کے بعد متحدہ عرب امارات، مصر اور اردن کے بعد اس نوعیت کا معاہدہ کرنے والا تیسرا عرب ملک بن گیا ہے، اسرائیل کو امریکی ہتھیاروں کی فروخت میں خصوصی رسائی حاصل ہے۔

غیر ملکی خبر ایجنسی 'رائٹرز' کے مطابق نیشنل پبلک ریڈیو کو انٹرویو کے دوران اسرائیل میں امریکی سفیر ڈیوڈ فریڈمین نے کہا کہ 'اماراتی جتنے اسرائیل کے دوست ہوں گے، اسرائیل کے پارٹنر ہوں گے، امریکا کے علاقائی اتحادی ہوں گے، میرے خیال میں اس سے یقینی طور پر خطرے کے جائزے میں تبدیلی آئے گی اور مستقبل میں ہتھیاروں کی فروخت سے متعلق یو اے ای کو فائدہ ہوگا۔'

امریکا نے اسرائیل کو یہ ضمانت دے رکھی ہے کہ وہ عرب ممالک کے مقابلے میں زیادہ جدید ہتھیار حاصل کرے گا، جو اسے پڑوسی ممالک پر 'معیاری ملٹری ایج' دیں گے۔

اس کی ایک مثال لاک ہیڈ مارٹِن کمپنی کے تیار کردہ 'ایف 35' جہاز ہیں جو اسرائیل مختلف لڑائیوں میں استعمال کرتا ہے، لیکن متحدہ عرب امارات اس وقت یہ جہاز نہیں خرید سکتا۔

واشنگٹن انسٹی ٹیوٹ فار نیئر ایسٹ پالیسی تھنک ٹینک کے منصوبے 'عرب ۔ اسرائیل تعلقات' کے ڈائریکٹر ڈیوڈ میکوسکی نے 'رائٹرز' کو بتایا کہ 'یہ معاہدہ امارات کی جیت ہے، جو بلاشبہ اب ان ہتھیاروں کی خریداری کا اہل ہوجائے گا جو پہلے وہ 'معیاری ملٹری ایج' کی پابندیوں کے باعث حاصل نہیں کر سکتا تھا۔

یہ پابندیاں اس خوف کی بنا پر عائد کی گئی تھیں کہ مخصوص ٹیکنالوجیز اسرائیل کے خلاف استعمال ہوسکتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: فلسطینیوں نے متحدہ عرب امارات-اسرائیل معاہدے کو یکسر مسترد کردیا

مئی میں امریکی محکمہ خارجہ نے متحدہ عرب امارات کو 55 کروڑ ڈالر سے زائد مالیت کی 4 ہزار 569 استعمال شدہ مائن ریزسٹنسٹ ایمبُش پروٹیکٹڈ (ایم آر اے پی) گاڑیوں کی ممکنہ فروخت کی منظوری دی تھی۔

امریکی قانون سازوں نے ٹرمپ انتظامیہ کو بالخصوص سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کو ہتھیاروں کی فروخت سے روکنے کی کوشش کی تھی، تاکہ ان پر انسانی حقوق کے تحفظ کا ریکارڈ بہتر بنانے اور یمن میں حوثی باغیوں کے خلاف فضائی کارروائیوں میں شہریوں کو جانی نقصان سے بچانے کے لیے مزید اقدامات کے لیے دباؤ ڈالا جاسکے۔

امریکی حکومت کے واچ ڈاگ سے جاری حالیہ رپورٹ میں کہا گیا کہ محکمہ خارجہ نے 2019 میں سعودی عرب اور یو اے ای کو ہتھیاروں کی فروخت سے قبل یمن میں شہریوں کے جانی نقصان کا مکمل طور پر جائزہ نہیں لیا تھا۔