سوڈان: اسرائیل سے رابطوں کے بیان پر ترجمان وزارت خارجہ برطرف

اپ ڈیٹ 20 اگست 2020

ای میل

—فوٹو: یوٹیوب اسکرین شاٹ
—فوٹو: یوٹیوب اسکرین شاٹ

سوڈان میں اسرائیل سے تعلقات سے متعلق سوال کے 'غیر مجاز تبصرے' پر وزارت خارجہ کے ترجمان کو برطرف کردیا گیا۔

خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' نے سوڈان کے سرکاری میڈیا کے حوالے سے بتایا کہ وزارت خارجہ کے ترجمان نے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے متعلق غیر مجاز تبصرہ کیا تھا جس سے ظاہر ہوتا تھا کہ سوڈان, اسرائیل سے سفارتی تعلقات بحال کرنے کے لیے رابطے میں ہے۔

مزید پڑھیں: فلسطینی، پاکستان کو اپنا دوسرا گھر سمجھتے ہیں، سفارتخانے کا وزیر اعظم سے اظہار تشکر

سرکاری خبر رساں ایجنسی کے بیان کے مطابق 'وزیر خارجہ عمر قمرالدین نے وزارت میں ترجمان اور میڈیا ڈویژن کے سربراہ کی حیثیت سے فرائض انجام دینے والے حیدر بدوی کو ان کے عہدے سے برطرف کردیا'۔

حیدر بدوی نے اس سوال کے جواب میں کہ کیا سوڈان اور اسرائیل کے درمیان براہ راست رابطہ ہوا ہے یا خرطوم نے یہودی ریاست کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے یا امن معاہدے پر دستخط کرنے کے لیے اقدامات اٹھائے ہیں؟ کہا تھا کہ 'میں اس سے انکار نہیں کر سکتا'۔

حیدر بدوی نے اسکائی نیوز عربیہ ٹیلی ویژن کو بھی بتایا تھا کہ 'سوڈان اور اسرائیل کے مابین دشمنی کے تسلسل کی کوئی وجہ نہیں ہے'۔

مزید پڑھیں: اسرائیلی خفیہ ایجنسی کے سربراہ کا متحدہ عرب امارات کا دورہ

بعد ازاں وزیر خارجہ عمر قمرالدین نے کہا کہ اسرائیلیوں کے ساتھ تعلقات کے سوال پر سوڈانی حکومت نے کبھی بھی تبادلہ خیال نہیں کیا۔

عمر قمرالدین نے بیان میں مزید کہا کہ 'حیدر بدوی کے بیان نے ہمیں حیرت میں ڈال دیا ہے کیونکہ وہ اس موضوع پر تبصرہ کرنے کے مجاز نہیں تھے'۔

واضح رہے کہ اسرائیلی میڈیا نے کہا تھا کہ بحرین یا عمان بلکہ سوڈان بھی متحدہ عرب امارات کے بعد تعلقات قائم کرنے والے ممالک ہوسکتے ہیں۔

سوڈان کی عبوری خود مختار کونسل کے سربراہ جنرل عبد الفتاح البرہان نے فروری میں اسرائیلی وزیراعظم سے ملاقات کی تھی جس کے بعد سمجھا جارہا تھا کہ سوڈان، اسرائیل سے بائیکاٹ کا خاتمہ کر سکتا ہے۔

مزید پڑھیں: فلسطینیوں کو حق نہ ملنے تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کریں گے، وزیراعظم

یوگنڈا میں ہونے والی اس ملاقات کے فورا بعد اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے اعلان کیا تھا کہ دونوں رہنماؤں نے تعلقات کو معمول پر لانے کے لیے تعاون پر اتفاق کیا۔

سوڈان کی کابینہ نے بعد میں اس سے انکار کیا تھا کہ عبد الفتاح البرہان نے تعلقات معمول پر لانے کے وعدے کیے تھے۔