پاکستان میں پولیو کے خاتمے کیلئے 16 وجوہات جاننے کی ضرورت

دنیا میں صرف 2 ممالک میں پولیو وائرس باقی ہے جس میں سے ایک پاکستان اور دوسرا اس کا پڑوسی ملک افغانستان ہے۔
اپ ڈیٹ 22 اگست 2020 07:28pm

دنیا کے بیشتر خطوں میں پولیو ماضی کا قصہ بن گیا ہے لیکن کچھ خطے اب بھی ایسے ہیں جہاں یہ ایک تلخ حقیقت ہے۔

پاکستان کی پولیو ویکسینیشن کی کوششیں عسکریت پسندی اور غلط معلومات جیسے مختلف چیلنجز کا سامنا کر رہی ہے اور حکومت کی جانب سے حفاظتی کوششیں جاری ہیں لیکن اب بھی پاکستان کو پولیو سے پاک بننے کے لیے طویل سفر طے کرنا ہے۔

یہاں وہ تمام وجوہات ہیں جو ملک سے پولیو کے خاتمے کے لیے ضروری ہیں۔

1. پولیو سے متاثرہ 2 ممالک میں سے ایک پاکستان ہے

دنیا میں صرف 2 ممالک میں پولیو وائرس باقی ہے جس میں سے ایک پاکستان اور دوسرا اس کا پڑوسی ملک افغانستان ہے۔

2. پولیو وائرس ایک معتدی بیماری ہے اور رابطے کے ذریعے پھیلتی ہے

پولیو وائرس ایک بہت معتدی بیماری ہے اور یہ ذاتی رابطے کے ذریعے پھیلتی ہے۔

سینئر ماہر اطفال ڈاکٹر ڈی ایس اکرم یہ بیان کرتے ہیں کہ مفلوج کرنے والے پولیو کے ہر کیس سے دیگر بچوں میں کم از کم 10 غیر مفلوج انفیکشن ہوں گے۔

3. پولیو زیادہ تر 5 سال سے کم عمر بچوں کو متاثر کرتا

کمسن بچوں میں پولیو کا خطرہ سب سے زیادہ ہوتا ہے۔

رواں سال کورونا وائرس کی وجہ سے لگے لاک ڈاؤن کے باعث 5 سال سے کم عمر کے تقریباً 4 کروڑ بچے معمول کی ویکسینیشن سے محروم رہے جو کیسز میں اضافے کا باعث ہے۔

4. پولیو بچوں میں جان لیوا بھی ہوسکتا ہے

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے مطابق عام طور پر 5 سال سے کم عمر کے بچوں میں ہر 200 متاثرین میں سے ایک مستقل معذوری کا شکار ہوجاتا ہے۔

معذور ہونے والوں میں 5 سے 10 فیصد اپنے سانسوں کے پٹھوں کی حرکت نہ ہونے کی وجہ سے انتقال کرجاتے ہیں۔

5. بڑے پیمانے پر ویکسینیشن قوت مدافعت میں اضافہ کرسکتی ہے

پاکستان میں پولیو کے خاتمے لیے قومی معاون ڈاکٹر رانا محمد صفدر کے مطابق اگر بچہ کمزور مدافعتی نظام کے ساتھ غذائیت کا شکار ہے تو 60 لاکھ میں سے ایک معذور ہوسکتا ہے۔

پولیو ویکسن وائرس سے زندگی بھر کی مدافعت یقینی بناتی ہے اور یہ اس بیماری سے بچنے کا واحد ذریعہ ہے۔

6. دنیا سے پولیو کا مکمل خاتمہ کیا جاسکتا ہے

دوسری بیماریوں کے برعکس معذور کرنے والی اس بیماری کو ویکسینیشن کے ذریعے ختم کیا جاسکتا ہے۔

وائرس کی تین نسل ہیں اور ان میں سے کوئی بھی انسانی جسم کے باہر نہیں رہ سکتی، اگر اسے متاثر کرنے کے لیے ویکسین سے رہ جانے والا شخص نہیں ملے گا تو یہ مرجائے گا۔

7. پولیو کی سستی اور موثر ویکسینیشن دستیاب ہیں

پولیو ویکسینز آسانی سے دستیاب ہیں تاکہ وائرس سے بچا جاسکے۔

ان میں سے ایک اورل پولیو ویکسین (او پی وی) ہے جو کسی کی طرف یہاں تک کہ رضاکاروں کی جانب سے دی جاسکتی ہے، دوسری ان ایکٹیویٹڈ پولیو ویکسین (آئی پی وی) کے جو انٹرا مسکلر انجیکشن کے ذریعے دی جاتی ہے، دونوں ویکسین استعمال کے لیے کافی محفوظ ہیں۔

8. غیر سنجیدگی 2020 میں پولیو کی صورتحال مزید خراب کرسکتی ہے

یہاں تک کہ اس وبا سے قبل ہی اس طرح کہ ٹھوس اشارے ملے تھے کہ سال 2020 پاکستان میں پولیو کی صورتحال سے متعلق خراب گزرے گا۔

چونکہ اس وقت کورونا وائرس سے مقابلہ کیا جارہا ہے تاہم موجودہ بحران کے دوران صحت کے دیگر مسائل بھی توجہ کے مستحق ہیں۔

9. پولیو سے پاک دنیا رہنے کیلئے بہتر جگہ

ایک کروڑ 80 لاکھ افراد جو پولیو کی وجہ سے معذور ہوگئے تھے وہ آج خود سے چل رہے ہیں۔

ایک ایسی دنیا جہاں کوئی بھی اپنی جسمانی کمی کی وجہ سے خود کو کمتر محسوس نہیں کرتا یقینی طور پر وہاں ایسی دنیا کے منتظر ہیں جو آگے بڑھے۔

10. انسداد پولیو مہمات ہمارے مستقبل میں سرمایہ کاری

اگر پولیو جلد ہی ختم نہیں ہوتا تو ہم ہر سال 2 لاکھ معذور بچوں کی بحالی کا مشاہدہ کرسکتے ہیں، یہ بڑی تعداد پاکستان کی معیشت پر کافی دباؤ ڈال سکتی ہے (لہٰذا) بڑے پیمانے پر حفاظتی مہمات ہمارے مستقبل میں سرمایہ کاری ثابت ہوسکتی ہیں۔

11. ویکسینیشن مہمات بچوں کی صحت اور ملک کی حالت بہتر کرسکتی ہیں

پولیو کی نگرانی کرنے والے نیٹ ورکس اور مہمات بچوں کے لیے دیگر صحت کے مسائل جیسے وٹامن اے کی کمی اور خسرہ کے پھیلاؤ کی بھی نگرانی کرتی ہیں تاکہ بروقت ان کا علاج کیا جاسکے۔

12. بروقت محفوظ بنانے کا عمل ملک میں معذور افراد کے انحصار کی تعداد کم کرسکتا ہے

پاکستان ادارہ شماریات کے مطابق 2017 کی مردم شماری کے مطابق پاکستان میں 10 لاکھ افراد مختلف اقسام کی معذوری کا سامنا کر رہے ہیں۔

پاکستان میں خصوصی ضروریات کے حامل افراد کے لیے وسائل، مواقع اور خیال رکھنے کا نظام پہلے ہی بہت کم ہے، لہٰذا ایسے معذور افراد کے انحصار کا بڑھنا موجودہ نظام پر مزید دباؤ ڈال سکتا ہے۔

13. پولیو اپنے مریضوں کی ذہنی صحت کو نقصان پہنچا سکتا ہے

اگرچہ پولیو کا مرض پوری دنیا میں ایک طویل مدتی مرض تھا لیکن کچھ لوگوں نے پولیو کے نفسیاتی نتائج کو جانچا۔

ایک تحقیق کے مطابق پولیو کے مریض اچانک معذور ہونے کی وجہ سے نفسیاتی صدمے کا سامنا کرتے ہیں۔

14. پولیو سے پاک دنیا عالمی معیشت کے اربوں ڈالر بچائے گی

ویکسینیشن مہمات پر اندازاً ایک ارب ڈالر سالانہ لاگت آتی ہے جو طویل مدت کے لیے پائیدار نہیں ہے، ایک مرتبہ اس وائرس سے دنیا کے پاک ہونے سے اس رقم کو تعلیم کی طرح کہیں اور لگایا جاسکتا ہے۔

15. پولیو کا عالمی سطح پر خاتمہ عوام کی صحت کی سب سے بڑی کامیابی ہوگا

عالمی ادارہ صحت کے 194 رکن ممالک نے 2020 میں ہر شخص تک ویکسین کا فائدہ پہنچانے کے لیے ایک عہد کیا ہے جس کے مطابق کرہ ارض سے پولیو کا خاتمہ ویکسین کی دہائی کے لیے ایک اہم سنگ میل ہے۔

16. پاکستان میں پولیو کیس میں اضافہ

پاکستان اس وقت رواں سال پولیو کیسز میں اضافے کو روکنے کی کوشش کر رہا ہے کیونکہ نئے کیسز کی تعداد باعث تشویش ہے۔

یہاں تک کہ اگر ایک بچہ متاثر ہوتا ہے تو دوسرے کم از کم 200 بچے اس وائرس کے خطرے سے دوچار ہوجاتے ہیں۔ لہٰذا اگر جلد اس وائرس کا خاتمہ نہیں ہوتا تو تعداد میں اضافہ ہوجائے گا۔