پاکستان میں پولیو وائرس مزید پھیلنے کا خدشہ، عالمی تنظیم نے آگاہ کردیا

29 اگست 2020

ای میل

اس بات کے تمام تر امکان موجود ہیں کہ پاکستان اس بیماری کا شکار دنیا کا آخری خطہ بن جائے گا—تصویر: یونیسیف پاکستان
اس بات کے تمام تر امکان موجود ہیں کہ پاکستان اس بیماری کا شکار دنیا کا آخری خطہ بن جائے گا—تصویر: یونیسیف پاکستان

لاہور: انڈیپنڈنٹ مانیٹرنگ بورڈ (آئی ایم بی) نے اعلان کیا ہے کہ پاکستان میں وبائی صورتحال انتہائی تشویشناک اور مایوس کن ہے بالخصوص صوبہ خیبرپختونخوا کے جنوبی علاقوں کے ساتھ ساتھ کراچی اور کوئٹہ کے اہم ذخیرہ آب میں وائلڈ پولیو وائرس کا پھیلاؤ جاری ہے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق آئی ایم بی پولیو کے خاتمے کے عالمی پروگرام کے تحت عالمی سطح پر پولیو کی ترسیل اور سراغ لگانے کے سلسلے میں ہونے والی پیش رفت کا آزادانہ جائزہ فراہم کرتا ہے۔

اس عالمی صحت کی تنظیم کو خدشہ ہے کہ روایتی ذخیرہ آب سے ہٹ کر پاکستان میں پولیو سے پاک علاقوں میں یہ وائرس پھیل رہا ہے اور ویکسین سے لگنے والا پولیو وائرس بھی پاکستان میں جگہ بنا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:پاکستان میں پولیو کے خاتمے کیلئے 16 وجوہات جاننے کی ضرورت

آئی ایم بی نے اپنی رپورٹ میں لکھا کہ 'اگر بڑے پیمانے پر ویکسینیشن کی سرگرمی نہ ہوئی تو سال کے آخر تک توقع سے زائد پولیو کیسز سامنے آسکتے ہیں اور یہ تعداد سیکڑوں میں ہوسکتی ہے'۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ آئی ایم بی کو پاکستان میں پولیو کے خاتمے کے امکانات پر سخت تشویش ہے اور اس بات کے تمام تر امکان موجود ہیں کہ پاکستان اس بیماری کا شکار دنیا کا آخری خطہ بن جائے گا۔

آئی ایم بی کا کہنا تھا کہ پاکستان کا پولیو پروگرام جسے تبدیلی کی ضرورت ہے 2017 اور 2018 میں مؤثر کنٹرول کا پروگرام تھا۔

آئی ایم بی کی رپورٹ میں کہا گیا کہ 'پاکستان میں پولیو کی صورتحال سنگین ہے، 31 جولائی 2020 تک کے ڈیٹا کے مطابق وائلڈ پولیو وائرس کے 61 کیسز سامنے آچکے ہیں جبکہ اس وقت تک 2019 میں کیسز کی تعداد 56 تھی۔

مزید پڑھیں: انسداد پولیو مہم میں 130 اضلاع کے 3 کروڑ سے زائد بچوں کو قطرے پلائے گئے، این ای او سی

رپورٹ میں کہا گیا کہ پاکستان میں ویکسین سے لگنے والے پولیو وائرس کے کیسز میں اضافہ چونکا دینے والا ہے اور یہ تعداد پوری دنیا میں اس طرح کیسز کے ایک تہائی کے برابر ہے۔

ملک کے کچھ بڑے متاثرہ علاقوں کی صورتحال کا تذکرہ کرتے ہوئے آئی ایم بی کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا کے جنوبی حصوں میں وائلڈ پولیو وائرس کا پھیلاؤ تھم نہیں سکا۔

پنجاب میں حکام لاہور میں وائرس کی ترسیل نہیں روک سکے جبکہ کراچی کو پولیو وائرس کی دیر پا بنیاد قرار دیا گیا جہاں حکومت سندھ پولیو ریسپانس کی سربراہی کے لیے مؤثر میڈیکل افسران تلاش کرنے میں ناکام ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پولیو اور کورونا سے مقابلے کے دوران 1166 ہیلپ لائن غلط معلومات اور خطرات کو کیسے دور کررہی ہے؟

کوئٹہ میں پولیو وائرس کے بار بار ہونے والے انفیکشن سے منسلک دیرینہ مسائل کو اب بھی جامع طور پر حل کیے جانے کی ضرورت ہے۔

رپورٹ کے مطابق پاکستان کے تمام صوبوں کو کووِڈ 19 کے بڑے چیلنج کا سامنا ہے جو زیادہ تر علاقوں میں پولیو کے خاتمے کے پروگرام، حفاظتی ٹیکوں اور عملی طور پر تمام عوامی خدمات کو کو متاثر کررہا ہے۔