پنجاب: گینگ ریپ کے عینی شاہد پر بااثر ملزمان کا 'تشدد'

اپ ڈیٹ 07 ستمبر 2020
—فائل فوٹو: ڈان
—فائل فوٹو: ڈان

بہاولنگر: گینگ ریپ کے عینی شاہد کے مقدمے سے دستبردار نہ ہونے پر بااثر ملزمان کے تشدد سے پہلے سے معذور شخص اپنی بینائی سے محروم ہوگیا۔

دوسری جانب پولیس مبینہ طور پر متاثرہ شخص کی شکایت پر مقدمہ درج نہ کرکے ملزمان کو فائدہ پہنچا رہی ہے۔

مزید پڑھیں: سیالکوٹ: گینگ ریپ کا نشانہ بننے والی 8 سالہ بچی دم توڑ گئی

گینگ ریپ کے عینی شاہد نے انسپکٹر جنرل پولیس (آئی جی پی) سے اپیل کی ہے کہ وہ مذکورہ معاملے کی تحقیقات کرائیں۔

خیال رہے کہ گینگ ریپ کا عینی شاہد معذور ہے اور اب علاقے کے بااثر افراد کے تشدد کے بعد اپنی بینائی سے بھی محروم ہوگیا۔

چک 116 مرعاد کے رہائشی اور گینگ ریپ کے عینی شاہد عارف ڈھودی نے میڈیا کو بتایا کہ ان کے علاقے کی ایک بیوہ عورت کو کچھ ماہ قبل زمین کے تنازع پر 2 جاگیرداروں سمیت بااثر شخصیات نے اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا تھا۔

عارف ڈھودی نے بتایا کہ ملزمان کے خلاف بخشن خان پولیس اسٹیشن میں گینگ ریپ کیس میں وہ عینی شاہد تھا۔

عارف ڈھودی کے مطابق ملزمان نے اس مقدمے سے دستبرداری سے انکار پر اسے سنگین نتائج کی دھمکیاں دینا شروع کیں۔

یہ بھی پڑھیں: لاہور: ٹک ٹاک پر دوست بنانے کے بعد لڑکی کا 'گینگ ریپ'

انہوں نے الزام لگایا کہ 31 اگست کو ایک جاگیردار اور اس کے ساتھیوں نے اسے اغوا کیا اور اسے کھیتوں میں پھینکنے سے پہلے ساری رات وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا۔

عارف ڈھودی نے بتایا تشدد کی وجہ سے بنیائی چلی گئی اور اذیت کے باعث اس کے دانت ٹوٹ گئے جبکہ ہاتھ اور پیر پہلے ہی مفلوج تھے۔

عارف کے بھائی حبیب احمد نے بتایا کہ انہوں نے ایف آئی آر کے اندراج کے لیے بخشن خان پولیس سے رابطہ کیا لیکن پولیس نے میڈیکل رپورٹ کے بغیر ایسا کرنے سے انکار کردیا۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ ٹی ایچ کیو انتظامیہ نے عارف کو ڈی ایچ کیو ہسپتال بہاولنگر کے امراض چشم کے حوالے کیا لیکن کوئی پولیس اہلکار 6 دن گزر جانے کے باوجود بھی ان کے ساتھ جانے کو تیار نہیں تھا۔

حبیب نے کہا کہ پولیس ملزمان کی حمایت کرنے کے لیے رپورٹ میں تاخیر کرنا چاہتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ وہ انصاف کے لیے ایس ڈی پی او کے دفتر گئے لیکن کوئی فائدہ نہیں ہوا۔

مزیدپڑھیں: مظفر گڑھ: 5 سالہ بچی کے ساتھ ریپ کرنے والا ملزم گرفتار

انہوں نے پولیس انسپکٹر جنرل سے معاملے پر کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا۔

ٹی ایچ کیو ہسپتال چشتیاں کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر انور نے ڈان کو بتایا کہ ابتدائی جانچ کے بعد عارف کو مزید ٹیسٹ کے لیے ڈی ایچ کیو ہسپتال ریفر کردیا گیا کیوں کہ ٹی ایچ کیو ہسپتال میں آنکھ کا ڈاکٹر موجود نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ تاخیر صرف پولیس کی وجہ سے ہوئی ہے کیونکہ کسی پولیس اہلکار کو مطلع کرنے کے باوجود ٹی ایچ کیو انتظامیہ سے رابطہ نہیں کیا گیا۔

بخشن خان ایس ایچ او راؤ محمد علی نے دعوی کیا کہ ٹی ایچ کیو ہسپتال کے ذریعے پولیس کو ابھی تک اطلاع نہیں دی گئی۔

انہوں نے یہ بھی دعوی کیا کہ وہ اس بات سے بے خبر ہیں کہ عارف گینگ ریپ کے معاملے میں عینی شاہد تھا۔

ایس ایچ او نے کہا کہ پولیس ملزمان کو گرفتار کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔


یہ خبر 7 ستمبر 2020 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی

ضرور پڑھیں

تبصرے (0) بند ہیں