آپ کا ذہن پڑھ کر اپنی ساخت بدلنے والا انوکھا لباس

09 ستمبر 2020

ای میل

— فوٹو بشکریہ انوک ویپریچٹ
— فوٹو بشکریہ انوک ویپریچٹ

تصور کریں کہ آپ کی ذہنی کیفیت کی عکاسی بدن پر موجود لباس سے ہورہی ہو؟

یعنی جو آپ سوچ رہے ہیں وہ لباس سے ظاہر ہورہا ہو؟ اس خیال کو ڈ ڈیزائنر انوک ویپریچٹ نے انسٹیٹوٹ فار انٹیگریٹڈ سرکٹس اور جی ٹیک میڈیکل انجنیئرنگ کے تعاون سے حقیقی شکل دے دی ہے۔

یہ لباس آپ کی دماغی لہروں کے مطابق جگگمگائے گا، جیسے سکون محسوس کررہے ہیں تو کپڑے کی روشنی مدھم اور سکون پہنچانے والے جامنی رنگ کی ہوگی۔

تناؤ کا شکار ہوں تو روشنیاں جلنے بجھنے لگے گی جبکہ کپڑے میں موجود ایک موٹر اس طرح حرکت کرے گی جیسے پر حرکت کررہے ہوں۔

یہ تھری ڈی پرنٹڈ روبوٹک لباس ہے جسے پنگولین ڈریس کا نام دیا گیا ہے، جس کو پہننے کے لیے سر پر ایک دماغی کمپیوٹر انٹرفیس کو بھی پہننا پڑتا ہے، جس میں 1204 ننھے electroencephalography سنسرز نصب ہیں۔

یہ دماغی انٹرفیس کسی سائنس فکشن فلم کی ڈیوائس لگتی ہے جو دماغی لہروں کا اثر لباس تک پہنچاتی ہے، جن کے اثر سے لباس اوپر اور نیچے حرکت کرنے کے ساتھ جگمگاتا ہے، جس کا انحصار پہننے والے کی ذہنی کیفیت پر ہوتا ہے۔

فوٹو بشکریہ انوک ویپریچٹ
فوٹو بشکریہ انوک ویپریچٹ

ڈیزائنر نے اس لباس کو دماغی پیچیدگیوں کی عکاسی کا منفرد ذریعہ قرار دیا جو اس سے پہلے ایک ایسا روبوٹک لباس بھی تیار کرچکی ہیں، جس میں ایسے سنسرز موجود تھے جو کسی کے بہت قریب آنے ہر پہننے والے کا دفاع کرتے۔

پینگولین ڈریس کو جلد آسٹریا میں ہونے والے آرٹس، ٹیکنالوجی اینڈ سوسائٹی فیسٹیول میں ریمپ واک کے دوران پیش کیا جائے گا۔

اس لباس کو ہلکے وزن کے پائیدار نائیلون میٹریل سے تیار کای گیا ہے جس میں سنسرز اور تاروں کو تہوں میں چھپا دیا گیا ہے۔