موٹروے گینگ ریپ کیس کی گتھی تاحال نہیں سلجھ سکی

اپ ڈیٹ 12 ستمبر 2020

ای میل

حملہ آوروں نے مبینہ طور پر گاڑی کا شیشہ بھی توڑا تھا—فوٹو: شہباز گل ٹوئٹر
حملہ آوروں نے مبینہ طور پر گاڑی کا شیشہ بھی توڑا تھا—فوٹو: شہباز گل ٹوئٹر

لاہور: عوام میں مایوسی ایک نئی حد کو چھو رہی ہے چونکہ تفتیش کار موٹروے کے قریب خاتون کے گینگ ریپ کے تقریباً 72 گھنٹے بعد بھی کوئی پیش رفت رپورٹ دینے میں ناکام رہے ہیں۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق جمعہ کو مبہم معلومات کثرت سے سامنے آئیں لیکن کوئی اہم سراغ نہیں ملا، مزید یہ کہ سب سے زیادہ مایوسی اس وقت دیکھنے میں آئی جب کچھ ٹی وی چینلز کی جانب سے نشر کی جانے والی یہ خبر کہ گینگ ریپ کی متاثرہ 32 سالہ خاتون کے اے ٹی ایم کارڈ بینک میں استعمال کرنے کے بعد 2 افراد کو حراست میں لے لیا گیا ہے، جھوٹی نکلی۔

خیال رہے کہ منگل اور بدھ کی درمیانی شب لاہور کے مضافات میں حملہ آور فرانسیسی شہریت رکھنے والی خاتون کو ریپ کا نشانہ بنانے کے بعد اے ٹی ایم کارڈ لے گئے تھے۔

مزید پڑھیں: موٹروے ریپ کیس: مسلم لیگ (ن) کا سی سی پی او لاہور کی برطرفی کا مطالبہ

یہ واقعہ اس وقت پیش آیا تھا جب ایک خاتون اپنے بچوں کے ہمراہ گاڑی کا فیول ختم ہونے پر موٹروے پر کھڑی تھیں کہ 2 مسلح افراد وہاں آئے اور مبینہ طور پر خاتون اور ان کے بچوں کو مارا، جس کے بعد وہ انہیں قریبی کھیتوں میں لے گئے جہاں خاتون کا ریپ کیا گیا۔

بعد ازاں جمعرات کو آنے والے شدید غم و غصے کے بعد حکومت جمعہ کو کوشش کرتی نظر آئی تاہم جب تک کیس کی تحقیقات میں شامل مختلف ایجنسیوں کی جانب سے کوئی کڑی کی تفصیلات مجسس پاکستانیوں سے چھپی ہے سرکاری تصویر صرف کوششوں سے بڑھ کر نظر نہیں آرہی۔

تفتیش کاروں نے ان 2 مشتبہ افراد کے تعقب میں اپنی مہارت کا استعمال کیا جو شاید اپنی انگلیوں کے نشان اور ڈی این اے اس وقت پیچھے چھوڑ گئے جب انہوں نے متاثرہ خاتون اور بچوں کو زبردستی کار سے نکالنے کے لیے کار کی کھڑکی توڑی۔

یہاں ان خانہ بدوشوں کا بھی ذکر کرتے چلیں جن کے خیمے جائے وقوع سے زیادہ دور نہیں تھے، مزید یہ کہ اس بات کو بھی خارج از امکان نہیں کیا جاسکتا کہ ملزمان ایسے مرد بھی ہوسکتے جو کسی خاص جگہ پر آباد نہیں ہوتے، اس قسم کے لوگ جو شناختی کارڈ کی ضرورت کو محسوس نہیں کرتے۔

ادھر حکومت موٹروے پر پیش آئے اس ہولناک گینگ ریپ کیس میں سختی سے نمٹنے کے ساتھ مختلف لڑائیوں سے لڑ رہی ہے کیونکہ اسے ‘دور دراز’ علاقے کے مقابلے میں ملک کے بہتر حکمرانی اور محفوظ علاقوں میں سے ایک سمجھا جاتا تھا۔

کچھ دن قبل تک جب نئے کیپیٹل چیف پولیس افسر (سی سی پی او) عمر شیخ نے عہدہ سنبھالا تھا تو لاہور میں مظاہرین کا خیال تھا کہ انہیں سلامتی کا بہتر احساس ملا۔

تاہم کچھ ہفتے قبل ہی عہدہ سنبھالنے والے عمر شیخ ایک محکمہ جاتی تنازع میں شامل ہوگئے، جس کا نتیجہ انسپکٹر جنرل (آئی جی) پنجاب کے تبادلے کی صورت میں نکلا۔

یہ بھی پڑھیں: موٹروے واقعہ: حکومت ہوش کے ناخن لے اور پولیس میں سیاسی مداخلت روکے، چیف جسٹس

مزید یہ جمعرات کو ان کے ریمارکس ان سے وابستہ امیدوں کو بہت دور لے گئے اور مختلف حلقوں نے متاثرہ خاتون کو مورد الزام ٹھہرانے کے بیان کی مذمت کی جبکہ انہیں تو مجرمان کے خلاف کارروائی اور سیکیورٹی سے متعلق عوام کو یقین دہانی سے متعلق وعدہ کرنا چاہیے تھا۔

جمعہ کو حکومتی ترجمانوں کی ایک قطار تھی جس نے گینگ ریپ سے متعلق اس بیان پر عمر شیخ کو عہدے سے ہٹانے کے مطالبات کے خلاف سی سی پی او لاہور کا دفاع کیا، جس پر بعد میں عمر شیخ کی جانب سے جواز پیش کرنے کی کوشش کی گئی۔

تاہم سی سی پی او کی حرکت کا خمیازہ بالآخر وزیراعلیٰ عثمان بزدار کی حکومت پر آگرا جو کسی نہ کسی وجہ سے اپنے قیام کے بعد سے ہی دباؤ میں ہے، تاہم اس نقصان پر کچھ قابو پانے کی ضرورت تھی کیونکہ حکومتی کیمپ میں موجود عثمان بزدار کے ناقدین نے وزیراعلیٰ پر اپنے حملے شروع کردیے تھے اور اسی تظامر میں وزیراعظم کے مشیر شہزاد اکبر کو جمعہ کو لاہور میں بھی دیکھا گیا تھا۔