دوحہ: افغان حکومت اور طالبان میں امن مذاکرات کا آغاز

12 ستمبر 2020

ای میل

امن مذاکرات کی تقریب میں شریک طالبان وفد—فوٹو: راٹرز
امن مذاکرات کی تقریب میں شریک طالبان وفد—فوٹو: راٹرز

افغانستان میں دہائیوں سے جاری جنگ کے خاتمے کے مقصد کے تحت پہلی مرتبہ افغان حکومت اور طالبان کے نمائندوں کے درمیان قطر کے دارالحکومت دوحہ میں بین الافغان مذاکرات کا آغاز ہوگیا۔

دوحہ میں ہونے والے اس تاریخی امن مذاکرات کی افتتاحی تقریب کا آغاز قطری وزیرخارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمٰن الثانی نے کیا، جس میں امریکی سیکریٹری خارجہ مائیک پومپیو اور افغانستان کے لیے امریکی نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد شریک ہیں۔

امریکی خبررساں ادارے اے پی نے رپورٹ کیا کہ یہ مذاکرات اس دیرپا قیام امن کے لیے ضروری ہیں جو امریکا اور نیٹو کی افواج کو تقریباً 19 سال بعد انخلا کا راستہ فراہم کرے گا۔

اس مذاکرات میں فریقین ان مشکل معاملات سے نمٹنے کی کوشش کریں گے جس میں مستقل جنگ بندی، خواتین اور اقلیتوں کے حقوق اور ہزاروں طالبان جنگجو اور ملیشیا کا غیر مسلح ہونا شامل ہے، جس میں سے کچھ حکومت کے ساتھ اتحاد میں شامل ہیں۔

مزید پڑھیں: افغان طالبان کے وفد کی بین الافغان مذاکرات کے حوالے سے بات چیت کیلئے اسلام آباد آمد

اس کے علاوہ افغانستان کی طرف سے آئینی تبدیلی اور اختیارات کے تبادلے سے متعلق بھی بات چیت متوقع ہے۔

مزید یہ کہ بظاہر دنیاوی مسائل جیسے جھنڈے اور ملک کے نام کا معاملہ مذاکرات کی میز کے ذریعے اپنا راستہ تلاش کرسکتا ہے۔

افغان حکومتی نمائندوں کی ٹیم میں 4 خواتین بھی شامل ہیں جو طالبان کے ساتھ کسی بھی طرح کے اختیارات کے تبادلے کے معاہدےمیں خواتین کے حقوق کو محفوظ رکھنے پر زور دیں گی، ان حقوق میں کام کرنے کا حق، تعلیم اور سیاسی زندگی میں شرکت شامل ہے جن کی طالبان کے ان 5 سالہ دور میں اجازت نہیں تھی جب وہ افغانستان پر حکومت کرتے تھے۔

تاہم طالبان کی مذاکراتی ٹیم جس کی سربراہی ان کے چیف جسٹس عبدالحاکم کر رہے ہیں اس میں کوئی خاتون رکن شامل نہیں ہے۔

ادھر امریکی سیکریٹری خارجہ مائیک پومپیو کہتے ہیں کہ وہ سمجھتے ہیں کہ بات چیت متنازع ہوگی۔

قبل ازیں امریکی نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد نے جمعہ کو کہا تھا کہ مذاکرات کا آغاز ایک اہم کامیابی ہے لیکن 'معاہدے تک پہنچنے کے لیے مشکلات اور اہم چیلنجز ہیں'۔

ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ 'یہ طالبان اور حکومت دونوں کے لیے ٹیسٹ ہے اور کیا وہ افغانستان کے مستقبل کے لیے اپنے نظریات میں اختلافات کے باوجود معاہدے پر پہنچ سکتے ہیں؟'

خیال رہے کہ 29 فروری کو امریکا اور طالبان کے درمیان امن معاہدے میں بین الافغان مذاکرات طے پائے تھے، اس وقت اس معاہدے کو 40 سال سے جاری جنگ میں امن کا بہتری موقع قرار دیا گیا تھا۔

ابتدائی طور پر یہ توقع کی جارہی تھی کہ 29 فروری کو معاہدے کے چند ہفتوں میں مذاکرات کا آغاز ہوجائے گا تاہم شروع سے ہی اس ٹائم لائن میں تاخیر کے باعث خلل پڑنا شروع ہوگیا تھا۔

امریکا کے ساتھ ہوئے طالبان کے معاہدے میں سے قبل ہی یہ طے کیا گیا تھا کہ افغان حکومت 5 ہزار طالبان قیدیوں کو رہا کرے گی جبکہ طالبان بدلے میں ایک ہزار حکومتی اور عسکری اہلکاروں کو اپنی حراست سے چھوڑیں گے تاہم اس میں مسائل کا سامنا رہا اور افغان حکومت اس سے گریز کرتی نظر آئی۔

مزید یہ کابل میں جاری سیاسی بحران نے مذاکرات کو مزید تاخیر کا شکار بنادیا کیونکہ وہاں افغان صدر اشرف غنی اور ان کے حریف عبداللہ عبداللہ نے متنازع صدارتی انتخابات میں ایک دوسرے پر فتح کا اعلان کردیا۔

بعد ازں اس بحران کو ختم کرنے کے لیے اختیارات کے تبادلے کے معاہدے کے حصے کے طور پر عبداللہ عبداللہ کو امن مذاکرات کی نگرانی کرنے والی اعلیٰ کونسل برائے قومی مفاہمت کا سربراہ نامزد کردیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: بین الافغان مذاکرات کے لیے باضابطہ ایجنڈا طے نہیں کیا گیا

تاہم اس کے بعد طالبان کی جانب سے تشدد کم کرنے سے انکار نے مذاکرات کے آغاز میں مزید رکاوٹ ڈال دی۔

بعد ازاں دونوں فریقین کی جانب سے ایک دوسرے کے قیدیوں کی رہائی بھی دیکھنے میں آئی تھی اور طالبان کے 6 قیدیوں کی آخری رکاوٹ دور ہونے کے بعد قطر کی وزارت خارجہ نے مذاکرات کے آغاز کا اعلان کیا تھا۔

اس حوالے سے بیان میں کہا گیا تھا کہ 'افغانستان کے فریقین کے درمیان یہ براہ راست مذاکرات انتہائی اہم ہیں اور افغانستان میں دیرپا امن کی جانب قدم ہے۔'

علاوہ ازیں طالبان نے مذاکرات کے آغاز کی تصدیق کرتے ہوئے کہا تھا کہ 'ان مذاکرات کا مقصد امن عمل کو صحیح طریقے سے آگے بڑھانا اور ہماری اسلامی اقدار اور قومی مفادات کے تحت جامع امن اور اسلامی نظام کو رائج کرنا ہے۔'