خیبرپختونخوا میں پولیو ویکسین سے انکار بچوں کی 'صحت کیلئے خطرناک'

اپ ڈیٹ 14 ستمبر 2020

ای میل

رپوٹ کے مطابق ان میں 71 ہزار 170 انکاری کیسز شامل تھے۔ —فائل فوٹو
رپوٹ کے مطابق ان میں 71 ہزار 170 انکاری کیسز شامل تھے۔ —فائل فوٹو

پشاور: پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے سے انکار کا سلسلہ بدستور جاری ہے جبکہ آخری مہم کے اعداد و شمار کے مطابق خیبر پختونخوا میں 2 لاکھ بچوں کے والدین نے پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے سے انکار کیا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق تین روزہ ویکسینیشن مہم کے بعد تیار کردہ اور 13 اگست کو شروع کی جانے والی ایک رپورٹ میں بتایا گیا کہ خیبر پختونخوا کے 22 اضلاع میں کل 25 لاکھ ہدف بنائے گئے اور 2 لاکھ 12 سو 68 بچے ویکسین سے محروم رہے۔

مزید پڑھیں: تحقیقاتی رپورٹ میں پولیو مہم کی 'ویکسین ضائع' کرنے کا انکشاف

رپوٹ کے مطابق ان میں 71 ہزار 170 انکاری کیسز شامل تھے۔

صوبائی دارالحکومت پشاور میں سب سے زیادہ 41 ہزار 541 انکاری کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔

صوبے کے دوسرے بڑے شہر مردان میں حفاظتی ٹیکے لگوانے سے انکار کے 6 ہزار 537 کیسز رپورٹ ہوئے۔

انکار کرنے والے والدین اپنے پرانے دلائل پر قائم رہے کہ ویکسین بانجھ کا باعث بنتی ہے یا اسلام میں جب تک بیماری نہ ہو تب تک ویکسی نیشن کی اجازت نہیں ہوتی۔

اضلاع بنوں میں پولیو ویکسین سے انکاری کیسز کی تعداد 5 ہزار 404 ریکارڈ کی گئی۔

صوبے میں پولیو ویکسین سے انکار کی تعداد غیرمعمولی ہے ہر مہم میں تقریباً 2 لاکھ بچے ویکسین سے محروم رہتے ہیں اور حکومت کی جانب سے مختلف حکمت عملی کے باوجود 100 فیصد نتائج مرتب نہیں ہورہے۔

یہ بھی پڑھیں: کورونا پاکستان میں پولیو مہم کے خلاف مزاحمت کو بڑھا سکتا ہے، رپورٹ

فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق لکی مروت میں 3 ہزار 753، صوابی میں 3 ہزار 677، نوشہرہ میں ایک ہزار 676، کرک میں ایک ہزار 822 اور چارسدہ میں ایک ہزار 467 انکاری کیسز رپورٹ کیے گئے۔

حکام کے لیے باعث تشویش پہلو یہ ہے کہ مذکورہ علاقوں یا اضلاع میں مبینہ دہشت گردوں کا کوئی اثر و رسوخ نہیں ہے جنہیں اکثر پولیو مہم میں رکاوٹ کی وجہ قرار دیا جاتا تھا۔

ذرائع کے مطابق صحت سے متعلق کارکن ویکسینیشن کو یقینی بنانے کے لیے اپنی پوری کوشش کر رہے ہیں لیکن وہ اپنی جان کو داؤ پر نہیں لگا سکتے۔

انہوں نے کہا کہ انتقام کے خوف سے اکثر والدین ویکسین کے بغیر ہی بچے کا نام اس خانے میں اندراج کرادیتے ہیں جنہیں پولیو کے قطرے پلائے گئے ہوں۔

خیال رہے کہ 2012 کے بعد سے عسکریت پسندوں نے پولیو ٹیموں کو نشانہ بنانا شروع کیا۔

ملک میں پولیو ویکسینیشن سے منسلک واقعات میں مجموعی طور پر 47 افراد جاں بحق ہوچکے ہیں۔

مزید پڑھیں: علما نے پولیو سے بچاؤ کی ویکسین کو شریعت کے مطابق قرار دے دیا

ہلاک شدگان میں پولیو کے 36 کارکن اور 11 سیکیورٹی اہلکار شامل ہیں۔

خیبر پختونخوا میں ایسے واقعات میں 18 پولیو ورکرز اور 7 پولیس اہلکاروں سمیت 25 افراد جاں بحق ہوگئے تھے اور جنوری میں ضلع صوابی میں پولیو ورکروں کے دو کارکنوں کا قتل ہوا تھا۔