سندھ ہائیکورٹ نے نیب کو سہیل انور سیال کے گھر پر چھاپے مارنے سے روک دیا

اپ ڈیٹ 14 ستمبر 2020

ای میل

جسٹس کے کے آغا نے ریمارکس دیے کہ نیب کو سوسائٹی اور اس کے اقدار کا بھی خیال کرنا ہوگا—فائل فوٹو: فیس بک
جسٹس کے کے آغا نے ریمارکس دیے کہ نیب کو سوسائٹی اور اس کے اقدار کا بھی خیال کرنا ہوگا—فائل فوٹو: فیس بک

پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کے رہنما اور صوبائی وزیر آب پاشی، زکوٰۃ وعشر اور اوقاف سہیل انور سیال کی استدعا پر سندھ ہائی کورٹ نے نیب کو صوبائی وزیر اور ان کے رشتہ داروں کے گھر چھاپے مارنے سے روک دیا۔

جسٹس کے کے آغا پر مشتمل بینچ نے پیپلز پارٹی رہنما اور صوبائی وزیر سہیل انور سیال و دیگر کی درخواست ضمانت پر سماعت کی جس میں سہیل انور سیال نے عدالت سے نیب کو ان کے گھروں پر چھاپے مارنے سے روکنے کی درخواست کی تھی۔

سماعت میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ سہیل انور سیال نے ضمانت حاصل کررکھی ہے لیکن ضمانت پر ہونے کے باوجود قومی احتساب بیورو (نیب) کی جانب سے مسلسل گھروں پر چھاپے مارے جارہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: نیب کی کارروائی میرے والد کی قبر کا ٹرائل ہے، سہیل انور سیال

سہیل انور سیال نے عدالت سے استدعا کی کہ نیب کو گھروں پر چھاپے مارنے اور ہراساں کرنے سے روکا جائے۔

سہیل انور سیال کے وکیل شیراز راجپر نے عدالت میں کہا کہ نیب نے بیمار والد مرحوم چاچا اور دیگر رشتہ داروں کے گھروں پر چھاپے مارے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ نیب نے سرچ وارنٹ کے بغیر چھاپے مارے اور خواتین کو بھی ہراساں کیا۔

عدالت میں نیب پراسیکیوٹر نے مہلت مانگتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ سہیل انور سیال اور دیگر کے خلاف انکوائری مکمل کرلی گئی ہے تاہم ان کی جائیدادوں کی قیمتوں کا تخمینہ لگانا باقی ہے۔

سہیل انور سیال کی استدعا پر عدالت نے نیب کو صوبائی وزیر سہیل انور سیال اور ان کے رشتے داروں کے گھروں پر چھاپے مارنے سے روک دیا۔

مزید پڑھیں: سہیل انور سیال نے گرفتاری سے بچنے کیلئے عدالت سے عبوری ضمانت حاصل کرلی

جسٹس کے کے آغا نے ریمارکس دیے کہ نیب کو یہ اختیار نہیں کہ کسی کے گھر پر سرچ وارنٹ کے بغیر چھاپہ مارے۔

انہوں نے کہا کہ نیب کسی کے گھر جا کر بلاجواز خواتین کو ہراساں نہیں کرسکتا، اہلکاروں کو چاہیے کہ چھاپوں کے دوران خواتین پولیس اہلکاروں کو ساتھ لے کر جایا کریں۔

جسٹس کے کے آغا نے ریمارکس دیے کہ نیب کو سوسائٹی اور اس کے اقدار کا بھی خیال کرنا ہوگا۔

بعدازاں عدالت نے آئندہ سماعت پر نیب سے پیش رفت رپورٹ طلب کرتے ہوئے سہیل انور سیال، ظفر سیال اور جمیل سومرو کی ضمانت میں 12 نومبر تک توسیع کردی۔

خیال رہے کہ سندھ کے صوبائی وزیر کو نیب میں آمدن سے زائد اثاثوں کے مقدمے کا سامنا ہے، نیب ان کے خلاف مبینہ طور پر 5 کروڑ روپے کے صوبائی ترقیاتی فنڈ کے غلط استعمال پر انکوائری کررہا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: الطاف حسین غدار ہے، پھانسی ہونی چاہیے، صوبائی وزیرداخلہ

نیب سکھر نے سہیل انور سیال کو تحقیقات کے لیے طلب کیا تھا لیکن انہوں نے نیب سکھر میں پیش ہونے کے بجائے سندھ ہائی کورٹ سے 10 لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض عبوری ضمانت حاصل کرلی تھی۔

2 ستمبر کو صوبائی وزیر کے آبائی گھر میں چھاپے سے متعلق نیب نے کوئی بیان جاری نہیں کیا لیکن میڈیا رپورٹس کے مطابق ایک ٹیم نے سہیل انور سیال کے گھر میں چھاپہ مارا اور کئی گھنٹوں تک تفتیش کی اور اہم دستاویزات قبضے میں لے لی تھیں۔

لاڑکانہ میں اپنے گھر پر چھاپے کو سہیل انور سیال نے 'والد کی قبر' کے خلاف ٹرائل قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ جس گھر پر چھاپہ مارا گیا وہ میرے والد کے نام پر ہے اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) میں ڈیکلیئر کیا ہوا ہے۔

.