درمیانی عمر میں خاموش قاتل مرض سے بچنا چاہتے ہیں؟

17 ستمبر 2020

ای میل

یہ بات ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی — شٹر اسٹاک فوٹو
یہ بات ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی — شٹر اسٹاک فوٹو

اگر درمیانی عمر میں ہائی بلڈ پریشر جیسے خاموش قاتل مرض سے بچنا چاہتے ہیں تو صحت مند طرز زندگی کو جوانی میں ہی اپنالیں۔

یہ بات ایک نئی طبی تحقیق میں سامنے آئی۔

طبی جریدے جرنل آف دی امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن میں شائع تحقیق میں بتایا گیا کہ جوانی میں دل کی بہتر صحت میں مددگار عادات یعنی تمباکو نوشی سے گریز، صحت بخش غذا، جسمانی طور پر متحرک رہنا، جسمانی وزن میں کمی، بلڈ پریشر اور کولیسٹرول کو کنٹرول کرنا اور بلڈ شوگر کی سطح میں کمی درمیانی عمر میں ہائی بلڈ پریشر سے تحفظ فراہم کرسکتا ہے۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ ہائی بلڈ پریشر امریکا میں عام ترین بیماریوں میں سے ایک ہے اور یہ متعدد اقسام کے جان لیوا امراض کا خطرہ بڑھاتا ہے۔

ورمونٹ یونیورسٹی کی اس تحقیق میں بتایا گیا کہ اگرچہ ہائی بلڈ پریشر متعدد اموات اور معذوری کا باعث بنتا ہے مگر ہم اب تک اس کی جڑ کے بارے میں نہیں کچھ نہیں جانتے۔

اس تحقیق کے دوران 3 ہزار کے قریب افراد کو شامل کیا گیا تھا جن کی عمریں 45 سال یا اس سے زیادہ تھی۔

تحقیق میں ایسے ہی افراد کو شامل کیا گیا تھا جو ہائی بلڈ پریشر سے محفوظ تھے اور پھر اگلے 10 سال تک جائزہ لیا گیا کہ دل کی صحت کے لیے مفید عادات میں کس کا اسکور کیا رہا۔

سب سے زیادہ اسکور 14 تھا اور دل کی مثالی صحت کے لیے بہترین اسکور 10 سے 14 قرار دیا، 5 سے 9 اوسط اور 0 سے 4 ناقص اسکور قرار دیا گیا۔

9 سال تک فالو اپ کے بعد 42 فیصد افراد میں ہائی بلڈ پریشر کی تشخیص ہوئی مگر محققین نے دریافت کیا کہ صحت مند عادات میں ہر ایک اسکور کا اضافہ ہائی بلڈ پریشر کا شکار ہونے کا خطرہ 6 فیصد تک کم کردیتا ہے۔

محققین کا کہنا تھا کہ درمیانی عمر میں فشار خون یا بلڈ پریشر سے محفوظ رہنا خون کی شریانوں کی مثالی صحت کے لیے بہت فائدہ مند ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ نتائج سے ان سفارشات کو تقویت ملتی ہے کہ طرز زندگی کو بہتر بنانا یعنی اچھی غذا، تمباکو نوشی سے گریز، جسمانی وزن کو کنٹرول میں رکھنا اور دیگر جان لیوا امراض سے محفوظ رکھنے کے لیے کتنی موثر عادات ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہم لوگوں اور مریضوں پر زور دیتے ہیں کہ وہ بتدریج اپنے طرز زندگی میں صحت مند تبدیلیاں لائیں، یعنی اگر تمباکو نوشی کو فوری طور پر ترک کرنا ممکن نہیں تو کم از کم زیادہ ورزش ہی شروع کردیں، جس سے ان کے اسکور میں ایک درجے کی بہتری آئے گی۔

اب محققین ان نتائج کی تصدیق کے لیے ایک کنٹرول ٹرائل پر کام کریں گے تاکہ ثابت کیا جاسکے کہ ان عادات پر مبنی اسکور بڑھانا ہائی بلڈ پریشر کا خطرہ کم کرنے کے لیے کتنا موثر ہے۔