پرویز الٰہی کے خلاف ریفرنس منظوری کیلئے چیئرمین نیب کے پاس موجود ہے، پراسیکیوٹر

اپ ڈیٹ 17 ستمبر 2020

ای میل

نیب پراسیکیوٹر کا مزید کہنا تھا کہ چوہدری برادران اور ان کے اہلِ خانہ کے خلاف انکوائری تکمیل کے قریب ہے—فائل فوٹو: اے ایف پی
نیب پراسیکیوٹر کا مزید کہنا تھا کہ چوہدری برادران اور ان کے اہلِ خانہ کے خلاف انکوائری تکمیل کے قریب ہے—فائل فوٹو: اے ایف پی

لاہور: قومی احتساب بیورو (نیب) نے لاہور ہائی کورٹ کو بتایا کہ صوبائی اسمبلی کے اسپیکر چوہدری پرویز الٰہی کے خلاف غیر قانونی بھرتیوں کا ریفرنس چیئرمین نیب کو منظوری کے لیے بھیجا جا چکا ہے۔

اس کے علاوہ مسلم لیگ (ق) کے چوہدری شجاعت کے خلاف آمدن سے زائد اثاثوں کی انکوائری حتمی مراحل میں ہے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق چوہدری برادران کی جانب 20 سال پرانی 3 انکوائریز کے خلاف درخواست کی سماعت جسٹس راجا شاہد محمود عباسی اور جسٹس شہرام سرور پر مشتمل 2 رکنی بینچ نے کی۔

یہ بھی پڑھیں: چوہدری برادارن نے منی لانڈرنگ کی اور اثاثے بنائے، نیب

عدالت نے سوال کیا کہ نیب کو ریفرنس دائر کرنے کے لیے کتنا وقت لگے گا جس پر اسپیشل پراسیکیوٹر نے بتایا کہ چوہدری پرویز الٰہی کے خلاف ریفرنس چیئرمین نیب کے پاس موجود ہے۔

اس ریفرنس میں پرویز الٰہی پر بحیثیت وزیراعلیٰ اختیارات کے ناجائز استعمال اور لوکل گورنمنٹ بورڈ میں غیر قانونی تعیناتیاں کرنے کا الزام ہے۔

نیب پراسیکیوٹر کا مزید کہنا تھا کہ چوہدری برادران اور ان کے اہلِ خانہ کے خلاف انکوائری تکمیل کے قریب ہے، پراسیکیوٹر نے تفتیش مکمل کرنے اور ٹرائل کورٹ میں ریفرنس دائر کرنے کے لیے مزید 6 ہفتوں کا وقت مانگا۔

تاہم عدالت نے 4 ہفتوں کا وقت دیتے ہوئے پراسیکیوٹر کو آئندہ سماعت پر پیش رفت رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی۔

مزید پڑھیں: چوہدری برادران کی نیب کے خلاف اپیل پر سماعت کیلئے نیا بینچ تشکیل

خیال رہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی اتحادی جماعت مسلم لیگ (ق) کے رہنماؤں نے اپنی درخواست میں الزام لگایا تھا کہ نیب کے ادارے کو سیاسی انجینیئرنگ کے لیے استعمال کیا گیا اور ان کے خلاف پرانے کیسز مسلسل کھولے اور بند کیے جاتے رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سال 2000 میں نیب چیئرمین نے ان کے خلاف اختیارات کے ناجائز استعمال، آمدن سے زائد اثاثہ جات کی تفتیش کی اجازت دی۔

درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ نیب کے تفتیشی افسر اور ریجنل بورڈ نے 2017 اور 2018 میں اس وقت تمام تحقیقات بند کرنے کی سفارش کی تھی کہ جب سیاسی مخالفین کی حکومت تھی۔

تاہم موجودہ چیئرمین نیب نے 19 سال کے عرصے کے بعد ان کے خلاف دوبارہ تفتیش اور انکوائری کی تقسیم کی منظوری دی۔

انہوں نے عدالت سے درخواست کی کہ چیئرمین نیب کی جانب سے ان انکوائریز کے اختیار اور ان کی تقسیم کو غیر قانونی قرار دیا جائے۔

یہ بھی پڑھیں: چوہدری برادران نے چیئرمین نیب کے اختیارات کے خلاف عدالت سے رجوع کرلیا

چوہدری برادران کی درخواست پر نیب نے عدالت میں جمع کروائے گئے جواب میں مسلم لیگ (ق) کے رہنماؤں چوہدری شجاعت حسین اور اسپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الٰہی پر منی لانڈرنگ کرنے اور غیرقانونی اثاثے بنانے کا الزام لگایا۔

نیب کا کہنا تھا کہ چوہدری شجاعت حسین کے اہلخانہ نے بھی 12 کروڑ 30 لاکھ روپے سے زائد کی جائیداٰدیں حاصل کیں اور ان کے 2 بیٹوں شافع حسین اور سالک حسین نے اپنی ملکیت میں موجود مختلف کمپنیوں کو ڈیڑھ ارب روپے کا قرضہ دیا۔

رپورٹ میں پرویز الٰہی سے متعلق کہا گیا کہ درخواست گزار اور ان کے اہلخانہ کی دولت 1985 سے 2018 تک بڑھ کر 4 ارب 6 کروڑ 90 لاکھ روپے ہوگئی اور ان کی شیئرہولڈنگ 1985 سے 2019 تک بڑھ کر 3 ارب روپے ہوگئیں جبکہ ان کے خاندان نے ڈھائی کروڑ روپے کی جائیدادیں بھی حاصل کیں۔

نیب نے الزام لگایا کہ 2004 سے چوہدری پرویز الٰہی کے اہلخانہ کے بینک اکاؤنٹس میں 97 کروڑ 80 لاکھ روپے سے زائد کی غیر ملکی ترسیلات وصول کی گئیں۔