ایف آئی اے کے سابق چیف کی پینشن روکنے کا نوٹی فکیشن معطل

اپ ڈیٹ 17 ستمبر 2020

ای میل

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ اس قانون کے تحت پنشن کو روکا نہیں جاسکتا۔—فوٹو: آئی ایچ سی ویب سائٹ
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ اس قانون کے تحت پنشن کو روکا نہیں جاسکتا۔—فوٹو: آئی ایچ سی ویب سائٹ

اسلام آباد ہائیکورٹ نے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے سابق چیف بشیر میمن کی پینشن روکنے کے نوٹی فکیشن کو معطل کردیا۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے بشیر میمن کی پینشن سے متعلق معاملے پر اکاؤنٹنٹ جنرل آف پاکستان ریونیوز (اے جی پی آر) سے 10 دن میں رپورٹ طلب کرلی۔

مزید پڑھیں: وفاقی حکومت میں گریڈ ایک سے 16 کی ہزاروں اسامیاں ختم کرنے کا عمل شروع

عدالت نے بشیر میمن کی جانب سے ان کی پینشن کی بحالی اور ریٹائرمنٹ کے بعد کے مراعات سے متعلق درخواست کی سماعت کی۔

ڈپٹی اٹارنی جنرل نے عدالت سے جواب جمع کروانے کے لیے 4 ہفتے تک کی مہلت مانگی لیکن چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ عدالت کو جواب کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ پینشن نہیں روکی جاسکتی ہے۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے استفسار کیا کہ 'آپ نے کس قانون کے تحت پنشن معطل کی؟'

اے جی پی آر آفس کے ایک افسر نے جواب دیا کہ 'سول سروس ریگولیشنز (سی ایس آر) 420 کے تحت پینشن معطل کی گئی تھی'۔

انہوں نے مزید کہا کہ جب سے بشیر میمن نے استعفیٰ دیا اس کے بعد متعلقہ دفتر نے ان کی پینشن اور ریٹائرمنٹ کے بعد ملنے والی مراعات پر اعتراض اٹھایا تھا۔

مزید پڑھیں: سندھ حکومت کا ماہ مارچ کیلئے جلد پینشن ادا کرنے کا فیصلہ

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ اس قانون کے تحت پینشن کو روکا نہیں جاسکتا۔

کیس کی مزید سماعت 10 دن کے لیے ملتوی کردی گئی۔


یہ خبر 17 ستمبر 2020 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی